• صارفین کی تعداد :
  • 1844
  • 3/24/2012
  • تاريخ :

رسول خدا سے اميرالمؤمنين کي قربت کے پہلو 32

امام علی

جس کا ميں مولا اور سرپرست ہوں پس يہ علي (ع) بھي اس کے ولي اور سرپرست ہيں

پس تم (مسلمان بھي جو علي (ع)  سے محبت کرتے ہو آپ (ع) کے سچے پيروکار بنو-

علاوہ ازيں فتح مکہ اور قريشيوں کي آخري شکست کے بعد علي عليہ السلام نے رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے حکم پر اپنے اور رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے جد امجد ابراہيم خليل عليہ السلام کي سنت زندہ کرتے ہوئے کعبہ ميں رکھے ہوئے شرک و بت پرستي کے مظاہر اور تمام بڑے اور چھوٹے بتوں کو توڑ ديا اور پتھر اور لکڑي کے معبودوں کو نيست و نابود کرکے بيت اللہ الحرام کو يکتا پرستوں کے لئے پاک وطاہر کيا- روايت ہے کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے علي عليہ السلام کے کندھوں پر کھڑے ہوکر بتوں کو توڑنا چاہا ليکن عليہ السلام خود فرماتے ہيں کہ ميں آپ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کا بوجھ آپ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي رسالت کي وجہ سے برداشت نہ کرسکا اور رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نيچے اترے اور مجھے حکم ديا کہ آپ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے کندھوں پر کھڑا ہوجاğ اور بتوں کو سرنگوں کروں اور ميں نے ايسا ہي اور اللہ کي قسم! جب ميں آپ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کے کندھوں پر کھڑا ہوگيا تو ميں نے ايسي بلندي کا احساس کيا کہ اگر ميں چاہتا تو آسمانوں کو اپنے ہاتھ سے چھو سکتا تھا- يہ روايت احمد بن حنبل نے اپني مسند ميں أسباط بن محمد القرشي (المتوفى 200 هجري) سے، حافظ ابوبکر الصنعاني نے سيوطي سے، سيوطي اور زرقاني نے حافظ ابي شيبہ سے، حنابلہ کے امام احمد بن حنبل نے مسند ج1 ص84 پر سند صحيح (جس کے تمام راوي ثقہ ہيں) سے اور نسائي نے اپني سنن ميں ابوعلي احمد المازني  سے نقل کي ہے-

----------