• صارفین کی تعداد :
  • 1981
  • 3/24/2012
  • تاريخ :

رسول خدا سے اميرالمؤمنين کي قربت کے پہلو 28

امام علی

--- رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم نے مختلف جنگوں ميں اتمام حجت کے لئے دوسروں کو پرچم ديا اور انہيں فوج کا سالار بنا کر بھيجا ليکن يا تو انھوں نے سالاري کا عہدہ قبول کرنے سے انکار کيا يا بيچ راستے سے واپس لوٹ کو پرچم رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کو لوٹا ديا يا پھر جنگ ميں ناکام ہوئے اور اللہ نے علي (ع) کے ہاتھوں مسلمانوں کو فتح عطا فرمائي- جنگ بدر ميں کئي بڑے مشرکين کو ہلاک کيا اور مسلمانوں کو فتح ملي اور يوں مدينہ ميں اسلامي حکومت کو استحکام ملا- علي عليہ السلام جنگوں ميں اپنے کردار کے بارے ميں فرماتے ہيں: أَنا وَضَعْتُ بِكَلاكِلِ الْعَرَبِ، وَ كَسَرْتُ نَواجِمَ قُرُونِ رَبِيعَةَ وَ مُضَرَ، وَ قَدْ عَلِمْتُمْ مَوْضِعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلّى اللّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ بِالْقَرابَةِ الْقَرِيبَةِ، وَ الْمَنْزِلَةِ الْخَصِيصَةِ. (43)

ميں نے بچپن ميں ہي عرب کے پيٹھ کو خاک سے آشنا کرديا اور مضر و ربيعہ کے سينگ توڑ ديئے اور تم رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کي نسبت ميري منزلت بخوبي جانتے ہو، قرابت کے حوالے سے بھي اور اس حرمت کے حوالے سے بھي جو رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم ميرے لئے قائل تھے-

جنگ احزاب يا جنگ خندق ميں مشرکين نے مدينہ پر حملہ کرنے کي منصوبہ بندي کي تھي اور مسلمانوں نے سلمان (ع) کے مشورے سے مدينہ کے گرد ايک خندق کھود لي تھي- عرب کا طاقتور ترين پہلوان "عمرو بن عبد ود" مشرکين کي جانب سے خندق پھاند کر مسلمانوں کے پڑاؤ پر حملہ آور ہوا اور مسلمانوں کو للکارنے لگا- وہ کہتا تھا: کيا ہے کوئي مسلمان جو مجھے جہنم رسيد کرے يا ميرے ہاتھوں جنت چلا جائے؟...

------------

مآخذ

43ـ نهج البلاغه، خطبه قاصعه.