• صارفین کی تعداد :
  • 3250
  • 3/5/2012
  • تاريخ :

آج کے دور کا مسلم نوجوان  اور ذمہ دارياں ( بائيسواں حصّہ)

سوالیہ نشان

ہميں اپني صلاحيتوں کو معمولي نہيں سمجھنا چاہئے- مغربي ثقافت نے اسلامي ممالک پر سب سے بڑي مصيبت جو نازل کي وہ دو غلط اور گمراہ کن خيالات کي ترويج تھي- ان ميں ايک، مسلمان قوموں کي ناتواني اور عدم صلاحيت کي غلط سوچ تھي- انہوں نے دماغ ميں بٹھا ديا کہ آپ کے بس ميں کچھ بھي نہيں ہے- نہ سياست کے ميدان ميں، نہ معيشت کے ميدان ميں اور نہ ہي علم و دانش کے ميدان ميں- کہہ ديا کہ "آپ تو کمزور ہيں، اسلامي ممالک دسيوں سال کے اس طويل عرصے ميں اسي غلط فہمي ميں پڑے رہے اور پسماندگي کا شکار ہوتے چلے گئے- دوسرا غلط تاثر جو ہمارے اندر پھيلايا گيا وہ ہمارے دشمنوں کي طاقت کے لامتناہي اور ان کے ناقابل شکست ہونے کا تاثر تھا- ہميں يہ سمجھا ديا گيا کہ امريکہ کو شکست دينا محال ہے، مغرب کو تو پسپا کيا ہي نہيں جا سکتا- ہميں ان کے مقابلے ميں سب کچھ برداشت کرنے ميں ہي ہماري بھلائي ہے-

آج يہ حقيقت مسلم اقوام کے سامنے آ چکي ہے کہ يہ دونوں ہي خيالات سراسر غلط تھے- مسلمان قوميں ترقي کرنے کي صلاحيت رکھتي ہيں، اسلامي عظمت و جلالت کو جو کسي زمانے ميں علمي و سياسي و سماجي شعبوں ميں اپنے اوج پر تھي، دوبارہ حاصل کرنے پر قادر ہيں اور دشمن کو تمام ميدانوں ميں پسپائي اختيار کرني پڑے گي-

يہ صدي اسلام کي صدي ہے- يہ صدي روحانيت کي صدي ہے- اسلام نے معقوليت، روحانيت اور انصاف کو يکجا قوموں کے لئے پيش کر ديا ہے- عقل و خرد پر استوار اسلام، تدبر و تفکر کي تعليم دينے والا اسلام، روحانيت و معنويت کي تلقين کرنے والا اسلام، اللہ تعالي کي ذات پر توکل کا راستہ دکھانے والا اسلام، جہاد کا درس دينے والا اسلام، جذبہ عمل کا سرچشمہ اسلام، عملي اقدام پر تاکيد کرنے والا اسلام- يہ سب اللہ تعالي اور اسلام سے ہميں ملنے والي تعليمات ہيں-

شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان