• صارفین کی تعداد :
  • 1829
  • 3/4/2012
  • تاريخ :

شان نبي  صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور اس کا تحفظ ( حصّہ دھم )

بسم الله الرحمن الرحیم

يہ ايک نہايت سادہ اور صريح پيغام ہے جسے اِس ’بستي‘ کے کچھ نہايت با اثر و با خبر کان آج ’سن کر‘ نہيں دے رہے اور جسے ہماري جانب سے بار بار سنائے جانے کے باوجود وہ بدستور ’اَنجان‘ بنے نظر آتے ہيں بلکہ اِس ’تجاہل‘ سے کام لے کر وہ ہميں ’امن‘ اور ’بقائے باہمي‘ کے ہي کچھ ايسے سُر سنانے پر بضد ہيں جو اِس جہان ميں صرف آتش فشانوں ہي کو جنم ديں گے-

يہاں، حصہء اول ميں، اِس ’پيغام‘ ہي کي کچھ جہتيں بيان کي گئي ہيں، جو کہ ہم سمجھتے ہيں آج ہر مسلمان ہي کو ازبر ہوني چاہئيں بلکہ تو غير مسلم کان اِن سے مانوس ہونے چاہئيں- ’سنانے‘ کيلئے اگر ’اونچا بولنا‘ ضروري ہو گيا ہے تو آئيے اپني کتاب اور اپنے نبي کي حرمت پر آواز ميں آواز ملا کر ’اونچا‘ بوليں- يہ ايک ايسا مسئلہ ہے جس پر خاموش رہنا درست ہے اور نہ آہنگ ہلکا کرنا-- جب تک کہ دوسري جانب سے ’سن کر‘ نہ دے ديا جائے!

اسلامي فقہ کے ماہرين کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رسول اللہ (ص) کي عصمت اور مقام و مرتبت کے منافي کوئي بھي ايسي بات کرنا جس سے آپ (ص) کي توہين کا پہلو نکلتا ہو، ناقابل معافي جرم ہے، البتہ يہ ايک الگ بحث ہے کہ ايسے ادارے موجود ہوں جو قوانين شريعت کے مطابق يہ ثابت کر سکيں کہ کسي فرد سے ايسا جرم سرزد ہوا ہے-

پاکستان ميں توہين رسالت (ص) ايکٹ کے نفاذ کا خاص پس منظر ہے- ہماري يہ ذمہ داري بنتي ہے کہ ايسے توہين رسالت کے قوانين کو شفاف رکھيں اور دشمنان اسلام کو يہ موقع نہ ديں کہ وہ ايسے قوانين بے بارے ميں پروپيگنڈا کرتے پھريں -

ملک عزيز ميں توہين رسالت اور توہين صحابہ و اہلبيت پر مبني قوانين کا اس سے قبل بھي غلط استعمال ہوتا رہا ہے اور بعض تکفيري اور متعصب حضرات اپنے مخالفين کو پھنسانے کے ليے ايسے ہتھکنڈے استعمال کرتے رہے ہيں اور اس نازک موضوع غلط فائدہ اٹھايا گيا ہے اسي ليے حکومت اور عدليہ کي ذمہ داري ہے کہ اس قانون کے غلط استعمال کے تمام دروازے بند کرديں- اور اگر کسي نے اپني فرقہ وارانہ دشمني يا ذاتي عناد کے ليے کسي بے گناہ پر ايسا الزام لگايا تو اسے بھي کڑي سزا دي جائے-

يہ بات بھي ضرور مدنظر رہني چاہئے کہ اللہ کے رسول (ص) اور آپ (ص) کي آل کے مقام و منزلت کو نقصان پہنچانے اور مسلمانوں کے پاکيزہ جذبات کومجروح کرنے والوں کو ايسا موقع نہيں ملنا چاہيے جس کے نتيجے ميں سلمان رشدي، تسليمہ نسرين يا ڈنمارک کے کارٹونسٹ کو اسلام کا مذاق اڑانے کا موقع مل جائے-

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان