• صارفین کی تعداد :
  • 1804
  • 3/4/2012
  • تاريخ :

شان نبي  صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور اس کا تحفظ ( حصّہ نہم )

بسم الله الرحمن الرحیم

اُن کے بيان کردہ ’گلوبل وليج‘ کا مطلب ہم يہ ليتے ہيں کہ اب يہ وہ زمانہ نہيں کہ لندن، پيرس، نيويارک، برلن، روم، ويٹي کن، سٹاک ہوم اور کوپن ہيگن کے گلي محلوں ميں محمد صلي اللہ عليہ وسلم  کي شان ميں کوئي گستاخانہ لفظ بولا جائے اور وہ مکہ، قاہرہ، دمشق، لاہور، دلي، جکارتہ، قسطنطنيہ، سرائيوو اور فرغانہ کے نمازيوں کے کان ميں نہ پڑے، يا جسے مدينہ، رباط، خرطوم، ٹمبکٹو، بغداد، تاشقند، ہرات اور حيدرآباد کے نمازي اپنے ’شہر‘ ميں ہونے والا ايک چيلنج کن اور غيرت آزما واقعہ نہ سمجھيں!!!

’گلوبل وليج‘ اگر اِنہي کي دي ہوئي ايک اصطلاح ہے، اور اِنہي کا کہنا ہے کہ اِس بستي کي سب ديواريں اب سانجھي ہو چکي ہيں-- اور يہاں کا ہر واقعہ اگر ايک ہي شہر کا واقعہ ہے، تو کيا کوئي تصور کرسکتا ہے کہ وہ لاہور، دلي، قاہرہ، دمشق، صنعاءيا پشاور ميں کھڑا ہو کر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم  کي شان ميں گستاخي کرکے اپني کھال سميت گھر واپس جا سکتا ہے؟؟؟

تو پھر کيا يہ حق نہيں کہ جوں جوں يہ جہان ’ايک بستي‘بنے توں توں اِس عالمي بستي کے ہر شخص کو آگاہ کرايا جائے کہ ايک نام نامي يہاں ايسا ہے جو وقت کا رسول ہے اور جس پر ايمان لانے يا نہ لانے کا تو زندگي زندگي اُسکو پورا اختيار ہے مگر اُسکي شان ميں گستاخي ايک ايسي حرکت ہے جسے يہاں پائے جانے والے اُسکے ڈيڑھ ارب جاں نثار اپنے خلاف آخري درجے کا اعلانِ جنگ باور کرتے ہيں اور يہ ڈيڑھ ارب انسان کچھ بھي معاف کر سکتے ہيں مگر اپنے نبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم  کي شان ميں کسي کي گستاخي معاف کردينے کا اِنکو سرے سے حق نہيں؟ يعني ايک ايسا حق جو اِن پر واجب الاداء ہے اور جسکو ساقط کر دينا اِنکے اپنے حق ميں گناہ-

نبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم  پر ايمان لانا تمہاري اپني مرضي، اور اِس پر کوئي زبردستي نہيں، مگر نبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم  کي بابت تمہارا زبان سنبھال کر بات کرنا اِس دنيا ميں ہمارے جينے کي شرط ہے اور اپنے جينے کي شرط پوري کرنا اِس دھرتي پر پائي جانے والي ہر مخلوق کا حق- تنگ آمد بہ جنگ آمد- صرف انسان ہي کا معاملہ نہيں، جس مخلوق کے لئے بھي يہاں جينے کي شرط پوري ہونا آپ دوبھر کر ديں گے وہ اپنے سے پہلے آپ کا جينا لايعني و بے وقعت جانے گي!

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان