• صارفین کی تعداد :
  • 1680
  • 2/29/2012
  • تاريخ :

تکبر اور خودپسندي سے پرہيز کريں (حصّہ چهارم)

سوالیہ نشان

اگر آپ دنيا کي تاريخ کا مطالعہ فرمائيں تو يہ حقيقت آپ پر منکشف ہو جائے گي اور آپ کو يہ بھي معلوم ہو جائے گا کہ جو لوگ انبيائے الٰہي کي مخالفت کرتے رہتے تھے اور حق و حقيقت کے قبول کرنے سے اعراض کرتے رہے تھے وہ ہميشہ دنيا کي خونيں جنگوں ميں اس بات پر راضي رہتے تھے کہ ہستي بشر سرحد مرگ تک پہنچ جائے اور يہ جذبہ ہميشہ حاکمانِ وقت کے غرور و خودپرستي ہي کي بنا پر پيدا ہوتا تھا- پست اقوام و پست خاندان ميں پرورش پانے والے افراد جب معاشرہ ميں کسي اچھي پوسٹ پر پہنچ جاتے ہيں تو وہ متکبر ہو جاتے ہيں- ايسے لوگ اپني شخصيت کو دوسروں کي شخصيت سے ماوراء سمجھتے ہيں اور ان کي ساري کوشش يہ ہوتي ہے کہ اپني شرافت کا ڈھنڈھورا پيٹيں ليکن ايسے افراد بھول جاتے ہيں کہ غرور و تکبر نے نہ کسي کو شائستگي بخشي ہے اور نہ کسي کو عظمت و سر بلندي کي چوٹي پر پہنچايا ہے-

ايک دانشمند کہتا ہے " اميدوں کے دامن کو کوتاہ کرو اور سطحِ توقعات کو نيچے لے آؤ اپنے آپ کو خواہشات کے جال سے آزاد کراؤ، غرور و خودبيني سے دوري اختيار کرو قيد و بند کي زنجيروں کو توڑ دو- تاکہ روحاني سلامتي سے ہم آغوش ہو سکو - حکيم لقمان نے اپنے بيٹے کو سود مند نصائح کرتے ھوئے فرمايا تھا "نخوت و تکبر سے پرہيز کرنا" اسي طرح قرآن مجيد کہتا ہے اور لوگوں کے سامنے (غرور سے ) اپنا منہ نہ پھلانا، اور زمين پر اکڑ کر نہ چلنا کيونکہ خدا کسي اکڑنے والے اور اترانے والے کو دوست نہيں رکھتا-

حضرت علي عليہ السلام فرماتے ہيں، اگر خدا کسي بندے کو تکبر کي اجازت ديتا تو ( سب سے پہلے ) اپنے مخصوص انبياء اور اولياء کو اجازت ديتا ليکن خدا نے اپنے انبياء و اولياء کے لئے بھي تکبر پسند نہيں فرمايا، بلکہ تواضع و فروتني کو پسند فرمايا ( اسي لئے ) انبياء و اولياء نے ( خدا کے سامنے ) اپنے رخساروں کو زمين پر رکھ ديا اور اپنے چہروں کو زمين پر ملا اور ايمانداروں کے سامنے تواضع و فروتني برتا- تکبر کرنے والے قطع نظر اس بات کے کہ پورا معاشرہ ان کو نفرت کي نظر سے ديکھتا ہے ان کے لئے سرکار دو عالم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم نے فرمايا، " تکبر سے بچو کيونکہ جب کسي بندے کي عادت تکبر ہو جاتي ھے تو خدا حکم ديتا ہے کہ ميرے اس بندے کا نام جباروں ميں لکھ لو، ہم ميں سے ہر وہ شخص جو متکبر خودپسند واقعي اپني سعادت و خوش بختي کا خواہاں ہے تو اس کو اپني اصلاح کي فکر کرني چاہيئے اور اس نفرت انگيز صفت سے اپني شخصيت کو الگ کرنا چاہيئے کيونکہ اگر اس نے اس کي سرکوبي کي کوشش نہ کي تو ہميشہ ناکامي کا شکار رہے گا-

 بشکريہ اسلام ٹائمز

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان