• صارفین کی تعداد :
  • 2703
  • 2/29/2012
  • تاريخ :

بچوں کي مشکلات کو کيسے کم کريں ؟

بچے

بعض لوگوں کا يہ خيال ہے کہ بچوں کے طور طريقوں کو بہتر بنانے کے ليۓ  ڈھنگ  کا کوئي بھي واضح طريقہ موجود نہيں ہے - اس کام  ميں  پورے خاندان کا تعاون ضروري ہوتا ہےتب جا کرکے کہيں بہتر نتائج سامنے آتے ہيں -

اپني پہچان ، اپنے رب کي پہچان ، دوسروں  سے بہتر  تعلقات ، معاشرتي ، معاشي  ذمہ داريوں کو اپنے کاندھوں پر لينا وغيرہ وغيرہ ايسے  تعليمي اھداف ہوتے ہيں جن کو گھر اور مدرسے ميں کسي بھي بچے کو سکھايا جاتا ہے - 

 عقل مند والدين کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ حسن تربيت اور خداداد صلاحيتوں کو اجاگر کرنے کے ليۓ بچے کي عمر کے مختلف مراحل ، مختلف شرائط اور مختلف مواقع پر تين بنيادي نکات کو اہميت دي جاتي ہے -

الف: بچے کي رشد کے مختلف مراحل ميں زندگي ، پہچان ، فکري اور معاشرتي  خصوصيات

ب:   رشد کے مختلف مراحل ميں   بچے کي جسماني  ، ذہني  اور معاشرتي ضروريات 

ج:بچے کي ضروريات کو پورا کرنے اور اس کي خداداد صلاحيتوں کو اجاگر کرنے کے ليۓ اس کي رشد و تحولات کے تناسب سے مؤثر ترين طريقوں کا انتخاب

يہاں يہ بات قابل ذکر ہے کہ يہ تينوں ذکر شدہ عوامل ابتدائي اصول ہيں لہذا ايسے طريقوں کے انتخاب کے ليۓ بچے کي موجودہ شرائط و حالات کو ديکھنا بےحد ضروري ہوتا ہے - شايد يہي وجہ  ہے کہ بعض لوگ اس بات کے معتقد ہيں کہ کسي بھي بچے کي اس استعداد کي اصلاح و بہبود کے ليے کوئي دقيق قسم کے طريقے مقررنہيں ہيں کہ جن کو اپنا کر بچے کو درست برتاؤ کرنے کي طرف راغب کيا جا سکے -  آپ کے بچے کي تخليقي صلاحتيں ، والدين کي حيثيت سے آپ کي اختيار کي جانے والي روش  اور موجودہ شرائط ان کام ميں بہت مؤثر ہيں -  ہمارے بچے برتاؤ کے متعلق بہت ساري باتوں کو مختلف مواقع پر اپنے والدين سے سيکھتے ہيں -

 اگر آپ چاہتے ہيں کہ آپ کے بچوں کا برتاؤ غصّے والا نہ تو آپ کي ذمہ داري بنتي ہے کہ بچے کو صحيح خطوط پر لے کر چليں اور درست انداز ميں بچے کي تربيت کريں تاکہ اس بات کي نوبت ہي نہ آۓ -

 

تحرير : سيد اسداللہ ارسلان

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان