• صارفین کی تعداد :
  • 9046
  • 2/15/2012
  • تاريخ :

فيس بک کا زيادہ استعمال اداسي کا موجب، تحقيق

فیس بک

امريکي رياست يوٹاہ کے شہر اورم ميں واقع 'يوٹاہ ويلي يوني ورسٹي' سے منسلک محققين کي جانب سے کي گئي ايک نئي تحقيق کے مطابق فيس بک کا زيادہ استعمال کرنے والے افراد ميں ويب سائٹ پر موجود اپنے حلقہ احباب کے لوگوں کو اپنے سے زيادہ خوش اور بہتر تصور کرنے کا رجحان پايا جاتا ہے- 

گزشتہ کئي برسوں کے دوران ميں سامنے آنے والي تحقيقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوشل ميڈيا کا زيادہ استعمال کرنے والے افراد ان  ذرائع سے اجتناب برتنے والوں کے مقابلے ميں زيادہ افسردہ زندگي گزارتے ہيں-

ليکن اب ايک نئي تحقيق سے انکشاف ہوا ہے  کہ سماجي رابطوں کے ذرائع اور ويب سائٹس، مثلاً فيس بک،  بھي خوشي کے جذبات پر اثر انداز ہوسکتے ہيں-

امريکي رياست يوٹاہ کے شہر اورم ميں واقع 'يوٹاہ ويلي يوني ورسٹي' سے منسلک محققين  کي جانب سے کي گئي ايک نئي تحقيق کے مطابق  فيس بک کا زيادہ استعمال کرنے والے افراد ميں ويب سائٹ پر موجود اپنے حلقہ احباب کے لوگوں کو اپنے سے زيادہ خوش اور بہتر تصور کرنے کا رجحان پايا جاتا ہے-

يوني ورسٹي کے محققين  يہ جاننا چاہتے تھے کہ فيس بک کا استعمال کرنے والے افراد ميں اپنے دوستوں کي سرگرميوں پر نظر رکھنے کے نتيجے ميں کس قسم کے جذبات پروان چڑھتے ہيں-

اس مقصد کے ليے محققين نے 425 نوجوان طالبِ علموں کے سامنے يہ سوال رکھا کہ کيا دوسرے  لوگ ان سے بہتر اور زيادہ پرمسرت زندگي گزار رہے ہيں- بعد ازاں محققين نے طالبِ علموں کا ان بنيادوں پر جائزہ ليا کہ وہ کب سے فيس بک کا استعمال کر رہے ہيں  اور ہر ہفتے کتنے گھنٹے سماجي رابطے کي اس ويب سائٹ کے ذريعے دوسروں کي زندگيوں ميں تاک جھانک کرتے گزارتےہيں-

تحقيقي مطالعے ميں يہ بات سامنے آئي کہ فيس بک کا زيادہ استعمال کرنے والے طلبہ کي اکثريت دوسروں کو اپنے سے زيادہ خوش اور آسودہ خيال کرتي ہے-

ماہرِ نفسيات ٹاڈ کيشڈان 'جارج ميسن يوني ورسٹي' ميں خوشي اور آسودگي  جيسے مضامين کے طالبِ علم رہے ہيں اور انہوں نے يوٹاہ يوني ورسٹي کي اس تحقيق کے نتائج کا مطالعہ کيا ہے-

کيشڈان کہتے ہيں کہ ايسے طلبہ کے علم ميں فيس بک کے ذريعے اپنے دوستوں کے خوش گوار حالات آتے ہيں اور وہ ان کا خود سے موازنہ کرکے اپنے آپ کو کم خوش نصيب خيال کرنے لگتے ہيں-

کيشڈان  کے بقول يہ طلبہ سمجھتے ہيں کہ "مري زندگي تو اتني دلچسپ اور اطمينان بخش نہيں ہے جتني اوروں کي ہے" اور يہ سوچ ان ميں اداسي کو جنم ديتي ہے-

تحقيق کے مصنفين کا کہنا ہے کہ اس نتيجے کي ايک وجہ ان طلبہ کا 'کرسپانڈنس بائي يس' نامي نفسياتي اثر کا شکار ہونا ہوسکتا ہے جس ميں انسان دوسروں کے اصل حالات سے واقف ہوئے بغير اس کےظاہري مزاج اور شخصيت کي بنياد پر اس کے بارے ميں رائے قائم کرليتا ہے-

مصنفين کے مطابق فيس بک پہ موجود اپنے دوستوں کے بارے ميں يہ تصور کرنا بہت آسان ہے کہ وہ اتنے ہي خوش ہيں جتنا ان کي پروفائل سے ظاہر ہوتا ہے کيوں کہ لوگ عموماً سماجي رابطوں کي اس ويب سائٹ پر مثبت چيزوں کا اظہار کرتے ہيں اور منفي اور حوصلہ شکن رويوں اور واقعات  کا ذکر نہيں کرتے-

ماہرينِ نفسيات کا کہنا ہے کہ فيس بک اور سماجي رابطوں کے ديگر وسائل دنيا اور لوگوں سے رابطے کا  ايک قابلِ قدر ذريعہ ہيں- ليکن اگر ان کا استعمال چند "پرہيزي ہدايات" پر عمل کرتے ہوئے کيا جائے تو مناسب ہوگا-

ماہرين کا مشورہ ہے کہ فيس بک پر دوسرے لوگوں کے اچھے واقعات  کو جاننے ميں زيادہ وقت صرف کرنے کے بجائے اپنے خوش گوار واقعات دوسروں کے علم ميں لانا چاہئيں اور ان افراد پر توجہ ديني چاہيے جو آپ کے حقيقي دوست ہيں اور آپ کے معاملات اور حالات  کے بارے ميں فکر مند رہتے ہيں-

ماہرين نفسيات يہ مشورہ بھي ديتے ہيں کہ اگر فيس بک صارفين  ويب سائٹ پر ايسے 'فيس بک فرينڈز'کے بجائے  جنہيں وہ زيادہ نہيں جانتے ہيں، ان افراد سے زيادہ رابطے ميں رہيں جو حقيقي زندگي ميں بھي ان کے دوست ہوں تو وہ 'يوٹاہ يوني ورسٹي' کي اس تحقيق ميں بيان کيے گئے اثرات سے محفوظ رہ سکتے ہيں-


متعلقہ تحريريں:

مستقبل ميں خلائي مخلوق سے ہمارے رابطے