• صارفین کی تعداد :
  • 3431
  • 2/13/2012
  • تاريخ :

درس باقريہ ميں حاضري

امام جعفر صادق

 بطليموس اول نے علم کو مذہبي مباحث ميں نہيں پڑنے ديا اور جہاں کہيں علم کا مذہبي مباحث کے ساتھ ٹکراؤ ہوتا تھا ہوں رک جانے کا حکم ديتا تھا اور اسي وجہ سے اقليدس ميں اتني جرات پيدا نہ ہوئي کہ اس نظريہ " زؤس ہر صبح ايک چراغ يا آگ کے بگولے کو آسمان کي طرف بھيجتا ہے " کو غلط قرار ديتا اور صحيح نظريہ بيان کرتا کہ سورج زمين کے گرد چکر لگاتا ہے تاہم اقليدس نے اس نظريئے کا اظہار کيا اور اس کي موت کے بعد اس کي تحريروں ميں يہ نظريہ ملا مگر باور کيا جاتا ہے کہ بطليموس جغرافيہ دان سلسلہ بطاليہ کے بطليموس مصري بادشاہوں ميں سے تھا -

لہذا يہ غلط فہمي پيدا نہيں ہوني چاہيے کہ جو اقليدس ايک صدي بعد آيا وہ مصري تھا اور علمي کتاب خانہ کے دستر خواں سے فيض ياب ہوتا رہا اس بناء پر ہم يہ قياس آرائي کر سکتے ہيں کہ اس نے اس نظريئے کو کہ " سورج زمين کے گرد گھومتا ہے " اقليدس سے ليا ہو گا -

پيرون جو يونان ميں يوناني خداؤ ں  کو ايک افسانہ سمجھتا تھا اس نے رات و دن کے وجود ميں آنے کے سبب کے بارے ميں کچھ نہيں کہا البتہ يونان کي علمي تاريخ ميں وہ پہلا آدمي ہے جو شکي مشہور ہوا جس نے تمام نظريات کو کھوکھلا کيا اور خود کوئي نظريہ پيش نہيں کيا -

پيرون ہر قسم کے عقيدے اور مذہب کيخلاف تھا وہ کہا کرتا تھا " کوئي بھي ايسا نشان يا حتمي ماخذ نہيں ہے جو حقيقت کي پہچان ميں ہماري مدد کر سکے - اور اگر ہم ايک موضوع کے متعلق ايک نظريہ پيش کرتے ہيں تو اسي کا مخالف نظريہ بھي پيش کيا جا سکتا ہے " ليکن ياد رہے کہ يہاں پيرون کي مراد فلسفي نظريات ہيں نہ کہ رياضي کے نظريات کيونکہ رياضي کے نظريات کي نفي عقلي نقطہ نگاہ سے نا ممکن ہے -

ہر سال لاکھوں لوگ پکے ہوئے سيبوں کو زمين پر گرتا ديکھتے ہيں ليکن تاريخ کے آغاز سے ساتويں صدي عيسوي تک صرف ايک آدمي نے اس پر غور کيا کہ سيب زمين پر کيوں گرتا ہے جبکہ چاند و ستارے زمين پر نہيں گرتے اور اس شخص نے اس غورو فکر کے نتيجے ميں قوت کشش کا قانون دريافت کيا -

ہزاروں سائنس دانوں نے دنيا کے مشرق اور مغرب ميں آٹھويں صدي کے آغاز تک بطليموس کے آفتاب کي زمين کے ارد گرد حرکت کا مطالعہ کيا ليکن کسي نے بھي اپنے آپ سے يہ نہ پوچھا کہ سورج جو بروج کے احاطہ ميں واقع ہے اور وہاں سے زمين کے ارد گرد چکر لگاتا ہے آخر وہ کس طرح ہر رات دن ميں ايک بار اس احاطے کو چھوڑ کر زمين کے اطراف ميں گردش کرنا شروع کر ديتا ہے جس کے نتيجے ميں رات دن وجود ميں آتے ہيں -

اسکندريہ جو مصر ميں واقع ہے جب وہاں سلسلہ بطالسيہ کے پہلے بادشاہ نے کتابخانہ بنوايا - اس زمانے سے ليکر کتابخانے کے عربوں کے ہاتھوں جلائے جانے اور ويران کرنے تک يعني تقريبا نو سو سال تک دنيا کا علمي مرکز تھا - اور جن سائنس دانوں نے اسکندريہ کے علمي مکتب سے کسب فيض کيا بہت مشہور ہو گزرے ہيں اور اس مکتب ميں چند فلسفيانہ نظيرئے بھي وجود ميں آئے جو کافي شہرت کے حامل ہيں -

مگر حيرانگي اس بات پر ہے کہ وہ سائنس دان اور مفکرين جو اسکندريہ کے علمي مکتب سے فيض ياب ہوئے انہيں بھي يہ خيال نہ آيا کہ کس طرح سورج جو بارہ برجوں ميں زمين کے اطرفاف ميں گردش کرتا ہے کيسے دن رات ميں ايک بار وہ جگہ چھوڑ کر زمين کا چکر لگانا شروع کر ديتا ہے ؟ اور ايک چھوٹے سے عرب لڑکے نے ايک چھوٹے سے شہر مدينہ ميں آٹھويں صدي عيسوي کے شروع ميں جبکہ يہ شہر دارالخلافہ تھا نہ اسے مرکزيت حاصل تھي اس مسئلے پر غور کيا -

اس گيارہ سالہ بچے کي عقل کو اس علمي مسئلہ کي مناسبت سے مکتب اسکندريہ کے تمام سائنس دانوں اور ساري دنيا کے علماء کي عقل پر برتري حاصل تھي -

جعفر صادق اس وقت کمسني کے باعث اجتماعي سوچ نہيں رکھتے ہوں گے اور ان پر اقتصادي بوجھ بھي نہ ہو گا کيوں کہ وہ کفالت کي ذمہ داري سے مبرا تھے -

ليکن علمي و عقلي لحاظ سے خاصے سمجھدار تھے اور علوم يا علم ہيئت سے ايسے نکات بھي سمجھ سکتے تھے جن کو سمجھنے سے عام انسان قاصر تھا دوسرے لوگوں کي علمي سوچ جعفر صادق کي فکر سے اس قدر پست تھي کہ جب آپ نے کہا کہ زمين کے گرد سوج کي گردش قابل قبول نہيں ہے تو انہوں نے اس پر غور نہ کيا -

تمام دانشمند لوگوں کے ساتھ اس طرح ہوتا ہے جس طرح جعفر صادق کے ساتھ ہوا - معاشرے کے دوسرے افراد ان کے عميق نظريات اور عقلي قوت کو نہ سمجھ سکے -

عام لوگ ‘ بلند خيالات اور گہري نظر رکھنے والوں کي مانند اپنے ماحول کا جائزہ نہيں لے سکتے - اور وہ عقل کو صرف ضروريات زندگي کے حصول ميں صرف کرتے ہيں اور اسي لئے عقل مند لوگوں کے نظريات انہيں بے وقعت معلوم ہوتے ہيں اور بعض اوقات تو عاقل انسانوں کو ديوانہ خيال کيا جاتا ہے آج نظام شمسي کي جانب انسان کي ساري پروازيں نيوٹن کے کشش ثقل کے قانون کي بنياد پر ہيں اور تمام وہ انسان جنہوں نے چاند پر قدم رکھا وہ نيوٹن کے احسان مند ہيں جس نے کشش ثقل کا قانون دريافت کيا -

ليکن نيوٹن کے دور ميں کشش ثقل کے قانون کے دريافت جو بے شک کائنات کے بارے ميں بني نوع انسان کے وضع کئے گئے قوانين ميں اب تک سب سے بڑا قانون ہے جبکہ عام آدمي کي نظر ميں اس کي ذرہ بھر وقعت نہ تھي -

(ڈيلي نيوز لندن ) جو پہلے پہلے انگلستان ميں چھپنے والا سب سے پہلا ہفت روزہ تھا نہ صرف يہ کہ اس ہفت روزہ نے قوت تجاذب کے قانون کي خبر نہ چھا پي بلکہ اس کے چند سال بعد تک يہ عظيم علمي ايجاد کسي انگريز اخبار ميں نہ چھپي - اور اخبارات کے ايڈيٹر صاحبان کي نظر ميں ڈاکہ زني يا قتل کي خبر اس خبر سے زيادہ اہميت کي حامل ہوتي تھي کيوں کہ ڈاکہ زني يا قتل کي خبر کا تعلق لوگوں کي اور خود ايڈيٹر صاحبان کي روز مرہ زندگي سے ہوتا تھا -

صرف چند سائنس دانوں کو علم تھا کہ نيوٹن نے يہ قانون ايجاد کر ليا ہے اور حسد کي وجہ سے انہوں نے نہ چاہا کہ اس قانون کي دريافت کي خبر لوگوں تک پہنچے يہاں تک کہ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے حسد ميں کمي آئي اور انہوں نے نيوٹن کي قدرداني کے طور پر اسے "سر " کا خطاب ديا -

ممکن ہے کوئي يہ کہے کہ اگر ساتويں صدي عيسوي ميں لوگوں نے نيوٹن جيسے عظيم انسان کي ايجاد کي طرف توجہ نہيں دي - تو اس پر ہميں حيران نہيں ہونا چاہيے کہ آٹھويں صدي عيسوي کے آغاز ميں جعفر صادق کے علمي مطالب کي جانب کيوں توجہ نہيں دي گئي ليکن انگلستان کے کوچہ و بازار کے عام لوگوں اور امام محمد باقر کے حلقہ درس ميں حاضر ہونيوالوں ميں فرق موجود تھا لندن کے عام لوگوں اور انگلستان کے عام شہريوں کيلئے علمي مسائل بے وقعت تھے وہ لوگ جو محمد باقر کے حلقہ درس ميں حاضر ہوتے تھے - ان کا شمار اہل علم حضرات ميں ہوتا تھا انہيں جعفر صادق کے مطالب کے بارے ميں بے اعتنائي نہيں برتني چاہيے تھي -

اگر اس وقت تک خود انہيں يہ سمجھ نہيں آيا تھا کہ زمين کے اطراف ميں سورج کي گردش اس ترتيب سے ناممکن ہے تو جب امام جعفر صادق نے ان کو آگاہ کر ديا تھا کہ اس موجودہ ترتيب کے ساتھ سورج کي زمين کے اطراف ميں گردش قابل قبول نہيں ہے تو انہيں امام جعفر صادق کي وضاحت کو قبول کرکے اس نظريہ کو رد کر دينا چاہيے تھا اور دن رات کي تبديلي کيلئے کوئي اور وجہ تلاش کرنا چاہيے تھي ليکن ان کي علمي سوچ اس قدر محدود تھي کہ انہوں نے ايک گھنٹہ تک بھي امام جعفر صادق کے ساتھ اس مسئلے پر تبادلہ خيال نہ کيا -

امام محمد باقر کے تمام شاگردوں ميں جعفر صادق کي علمي استعداد بلند ہونے کے باوجود محض کمسن ہونے کے باعث کسي نے ان کي طرف توجہ نہ دي - محمد باقر کے شاگردوں نے اس گيارہ سالہ لڑکے کي گفتگو کو پچپن کي گفتگو کا ايک حصہ سمجھا -

جيسا کہ ہم جانتے ہيں بچے جب بچپن کے ابتدائي سال گزار کر ساتويں يا آٹھويں سال ميں ہوتے ہيں تو ان کي قوت حس ميں غير معمولي اضافہ ہو جاتا ہے جس کي وجہ سے وہ ہر چيز کے بارے ميں جاننا چاہتے ہيں اور والدين سے ہميشہ چيزوں کے اسباب اور حالات کے متعلق خصوصي سوالات کرتے رہتے ہيں اور بعض بچے تو اس طرح لگاتار سوال کرتے ہيں کہ ان کے والدين تنگ آ جاتے ہيں عمر کے اس مرحلے ميں بچہ چاہتا ہے کہ وہ بالغ لوگوں سے زيادہ ہر چيز کے بارے ميں جان لے اور تمام چيزوں اور حالات کے اسباب معلوم کرے اگر والدين نے اس بچے کو مطمئن کر ليا تو وہ خاموش ہو جاتا ہے ا ور مزيد سوالات نہيں کرتا -

جعفر صادق کے منطقي بيانات ان کے والد گرامي کے شاگردوں کي نظر ميں بچگانہ سوالات ہوتے تھے جو وسوسوں کي پيدوار ہيں اور اس کے بعد ہر مرتبہ جعفر صادق جب سورج کي زمين کے گرد عدم گردش کا مسئلہ پيش کرتے تھے تو وہ اپنے والد کے شاگردوں کي عدم توجہي کا شکار ہو جاتے تھے -

آپ کہتے اس کرہ آسماني ميں بتايا گيا ہے کہ سورج زمين کے اطراف ميں ايک دائرہ ميں جس ميں بارہ برج ہيں گردش کر رہا ہے اور اگر اس بات کو مان ليں کہ سورج زمين کے ارد گرد دن و رات ميں ايک دفعہ چکر لگاتا ہے تو لازمي ہے کہ ايک سال وہ زمين کے اطراف ميں بروج کے احاطہ ميں گردش نہ کرے اور ميں يہ کہتا ہوں کہ ان دو ميں سے ايک حرکت عقلي لحاظ سے قابل قبول نہيں ہے -

سورج اگر سال ميں ايک بار بروج کے احاطہ ميں زمين کے ارد گر د چکر لگاتا ہے تو صاف ظاہر ہے کہ دن و رات ميں ايک دفعہ زمين کے ارد گرد چکر نہيں لگا سکتا اور جب کبھي دن و رات ميں ايک دفعہ زمين کے اطراف ميں چکر لگائے تو لازمي بات ہے کہ ہر سال ميں ايک بار بروج کے احاطے ميں زمين کے اطراف ميں چکر نہيں لگا سکتا -

يہ منطقي نظريہ جسے آج ہر خاص و عام قبول کرتے ہيں محمد باقر کے حلقہ درس ميں حاضر ہونے والے شاگردوں کيلئے قابل قبول نہ تھا - اور اسے وہ طفلانہ خيال سمجھتے تھے - ليکن اگر کوئي بالغ اور کامل انسان بھي اس نظريہ کو پيش کرتا تو پھر بھي يہ محال تھا کہ وہ اسے قبول کر ليتے - کيونکہ کو پر نيک پولينڈي نے جب سہولويں صدي ميں جعفر صادق کے يہي الفاظ دہرائے تو کسي نے اس کے قول کو قبول نہ کيا -

اگر کوپر نيک فرانس يا جرمني يا اسپانيا ميں سے ايک ملک ميں ہوتا تو ضرور عقيدہ کے بارے ميں تفتيش کرنے والي تنظيم کے ہاتھوں گرفتار ہو جاتا اس تنظيم کا سربارہ ايک بے رحم اورمتعصب شخص تھا - جس کا نام نور کماوا تھا - وہ معمولي باتوں پر بھي عيسائيوں کو جيل بھيج ديتا تھا اور انہيں شکنجہ ديتا تھا تاکہ وہ ارتکاب جرم کريں اور اس کے بعد انہيں سزا ديتا تھا -

ليکن پوليند کا ملک اس تنظيم کي دسترس سے باہر تھا اسي لئے جب کو پرنيک نے کہا کہ زمين اور دوسرے سيارے سورج کے گرد گردش کرتے ہيں تو اسے کسي نے کچھ نہ کہا -

يہ وہي تنظيم ہے جس نے گيليليو کو توبہ و استغفار پر مجبور کيا تھا جس نے کہا تھا کہ زمين سورج کے گرد گھومتي ہے بہت سے لوگوں کا خيال تھا کہ گيليليو وہ پہلا انسان ہے جس نے کہا زمين سورج کے اردگرد گھومتي ہے حالانکہ ايسا نہيں ہے بلکہ يہ کوپرنيک ہے - گيليليو نے اپني ايجاد کرنے کے ساتھ يہ کہا تھا کہ ميں کوپر نيک کي تائيد کرتا ہوں اور کہا ميرے نجومي مشاہدات اور ميري ٹيلي سکوپ نے مجھ پر ثابت کر ديا ہے کہ کوپر نيک کا نظريہ درست ہے اور زمين و سيارات سورج کے گرد گھومتے ہيں -

ليکن وہ يہ بات بھول گيا تھا کہ وہ ايک ايسے ملک ميں رہ رہا ہے جہاں عقيدہ کي تفتيشي تنظيم کا اقتدار ہے اور اگر چند سياسي لوگ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے اس کي سفارش نہ کرتے تو وہ زندگي آگ ميں ڈال ديا جاتا اس کے باوجود کہ سياسي وڈيروں نے اس کي سفارش بھي کر دي تھي پھر بھي اسے کہا گيا کہ زمين کي گردش کے بارے ميں اپنے الفاظ واپس لے -

اور گيليلو کا توبہ نامہ بھي ثابت کرتا ہے کہ اس نے خود يہ نظريہ اختراع نہيں کيا تھا بلکہ کوپر نيک کي نقل کي تھي -

بشکريہ : الحسنين ڈاٹ کام

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان