• صارفین کی تعداد :
  • 2223
  • 2/7/2012
  • تاريخ :

ديني جمہوريت اور ڈيموکريسي ( حصّہ دوّم )

ایران

منطقي جمہوريت کا باني

جمہوريت کا تعلق در اصل اسلام سے ہے- صحيح اور منطقي شکل ميں جمہوريت کا باني اسلام ہے- حکومت نبوي ميں مسلمانوں کي ايک ايک فرد نے آکر پيغمبر ( صل اللہ عليہ و آلہ و سلم) کي بيعت کي- مرد بھي آئے اور خواتين بھي آئيں- اس زمانے ميں انساني معاشرے ميں عورت کي کوئي حيثيت نہيں تھي- صرف جزيرۃ العرب ميں اور عربوں کے درميان ہي عورتيں پسماندہ نہيں تھيں، بلکہ ايران اور روم کي سلطنتوں ميں بھي عورتوں کو اس بات کي اجازت نہيں تھي کہ وہ ابھر کے سامنے آئيں- مگر پيغمبر خدا کو خداوند عالم کا حکم ہوتا ہے کہ "اذا جائک المومنات يبايعنک علي ان لا يشرکن باللہ" يعني جب مومن عورتيں آپ کي بيعت کرنے کے لئے آئيں تو اسي اصول پر بيعت کريں؛ بيعت کے لئے آنے والے مردوں کي طرح- عورتوں نے بھي آکے بيعت کي اور مردوں نے بھي آکے بيعت کي- دل ايک دوسرے سے ملے، ارادے باہم متصل ہوئے اور پيغمبر اکرم ( صل اللہ عليہ و آلہ وسلم) اور عوام نيز مومنين کي ايک ايک فرد کے درميان پروردگار کي ذات مقدس کي توحيد جلوہ گر ہوئي- ہاں وہ پيغمبر سے بھي محبت کرتے تھے ليکن پيغمبر کي ذات مد نظر نہيں تھي-

اسلامي معاشرے ميں حاکموں سے عوام کے قلبي لگاۆ کي وجہ

اسلام ميں فرد مد نظر نہيں ہوتا- کسي کو بھي کسي فرد کي دعوت نہيں ديني چاہئے- کوئي بھي فرد دين کي نمائندگي کے بغير، بذات خود لوگوں کي محبت و قلبي لگاۆ کا مرکز نہيں بنتا کہ لوگ اس کے لئے قربانياں ديں- شروع سے مسلمان اسي کے عادي رہے ہيں- آج بھي ايسا ہي ہے- مسلمانوں ميں، محبت، الفت، اخلاص، صادقانہ جذبات اور ديگر معنوي احساسات وغيرہ اس کے لئے ہوتے ہيں، جس کے لئے وہ سمجھتے ہيں کہ ديني و معنوي اقدار کے مرکز يعني اسلام سے تعلق رکھتا ہے- پيغمبر کے سلسلے ميں بھي يہي امر تھا کہ آپ سے لوگوں کو قلبي لگاۆ تھا- يہ عوام کي حکمراني اور جمہوريت ہے-

اردو خامنہ اي ڈاٹ آئي آڑ

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تحريريں:

اسلامي حکومت کي تشکيل ميں عطائے الٰہي کي جھلک (دوسرا حصّہ)