• صارفین کی تعداد :
  • 431
  • 2/3/2012
  • تاريخ :

دنيا کے سب آمروں کے ليۓ واضح پيغام

دنیا

آج کي دنيا ايک گلوبل ويليج بن چکي ہے جہاں کسي بھي رونما ہونے والے واقعہ سے باخبر ہونا ايک معمولي بات ہے - دنيا ميں آنے والي انقلابي تحريکوں سے آج کل پوري دنيا آگاہ ہے کہ کس طرح سے عرب ممالک کي عوام نے آمر حکومتوں کے خلاف آواز بلند کي اور ان کے ظلم کے سامنے سيسہ پلائي ہوئي ديوار بن کر انہوں نے کيسے ان حکومتوں کو نيست و نابود کرکے رکھ ديا - عوامي قوّت نے وہ کام کر دکھايا ہے جسے ديکھ کر سياسي تجزيہ نگار حيران ہيں کہ اس کم وقت ميں  اتني بڑي تبديلياں کيسے رونما ہو گئيں - ميڈيا نے ان انقلابي تحريکوں کے متعلق خبروں کو بڑي اہميت ديتے ہوۓ انہيں اپني سرخيوں ميں لگاتار شامل کيے رکھا - بعض اخبارات نے تو ان آمروں کي گذشتہ ادوار کي تصاوير کو ان کي حاليہ تصاوير کے ساتھ شائع کيا ہے - ان عوامي تحريکوں نے سرمايہ داروں کے رونگٹھے کھڑے کر ديۓ اور ان کي راتوں کي نينديں حرام  ہو کر رہ گئي ہيں - آج آزادي کي ان لہروں نے يہ ثابت کيا ہے کہ عوام ہي  ان بات کا فيصلہ کرنے کا حق رکھتي ہے ان کا حاکم کسے ہونا چاہيۓ اور ماضي ميں اقتدار پر براجمان ہونے والے چند خاندانوں کا لگاتار نسل در نسل حکمراني کرنے کا خواب اب ماضي کا حصّہ بن کر رہ گيا ہے اور آنے والے ادوار ميں شايد يہ ممکن نہ ہو کہ کوئي آمر اپني عوام کو بےوقوف بنا کر زبردستي ان پر جکمراني کرے -

 آمرحکومت کي سياسي نوعيت چاہے کيسي بھي ہوسرمائے کي آمريت اس وقت تک موجود رہتي ہے جب تک معاشرے کو بيمار سرمايہ دارانہ نظام جکڑے رکھتا ہے- ليکن اس سے اس امکان کو مسترد نہيں کيا جا سکتا کہ اگر جمہوريت کے لبادے ميں سامراجيت ايک ايسے بحران کو جنم ديتي ہے جس سے معاشي نظام کے تہہ وبالا ہونے کا خطرہ پيدا ہونا شروع ہو جاتا ہے -

اب سوال يہ ہے کہ عوامي انقلاب کي يہ تحريکيں کب تک جاري رہتي ہيں اور دنيا کے کون سے ممالک اس کي لپيٹ ميں آئيں گے اور کن حکمرانوں کا تختہ الٹنے ميں يہ کامياب ہو جائيں گي -

يہ سوال بھي بہت سارے افراد کے ذہنوں ميں اٹھتا ہے کہ بالآخر کون لوگ ہيں جو ان تحريکوں کو چلا رہے ہيں - کيا  يہ سراسر عوامي تحريکيں ہيں يا ان کے پيچھے سرمايا دار طبقے کا ہاتھ ہے -

ان سوالات کے جوابات کي تلاش ميں بہت سے کالم نگاروں اور تجزيہ نگاروں نے اوراق پر کيۓ -  اس تحرير ميں  ہماري بھي يہي کوشش ہو گي کہ ان سوالات  کي تلاش ميں اصل واقعہ کي گہرائي تک جايا جاۓ -

تحرير : سيد اسداللہ ارسلان

پيشکش : شعبۂ تحرير وپيشکش تبيان