• صارفین کی تعداد :
  • 2518
  • 1/4/2012
  • تاريخ :

بچوں کي حفاظت خواتين کا فريضہ  ( حصّہ دوّم )

بچہ

جلد کي حفاظت

جلد کي حفاظت کے ليۓ ماؤ ں کو جلد کے متعلق بہت اچھي جانکاري حاصل کرنا چاہيۓ - آپ کے بچے کي جلد بہت نازک اور باريک ہوگي اور اُس کو پورے سال کے دوران خاص حفاظت کي ضرورت ہوگي- آپ کا بچہ ابھي سن سکرين لگانے کے قابل نہيں ہوگا اس لئے اس کو سورج کي سيدھي شعائيں پڑنے سے بچائيں خاص کر گرم مہينوں ميں اور صبح کے گيارہ بجے سے شام کے چار بجے کے درميان- گرميوں ميں اس کے چہرے کو بچانے کے لئے اُس کو بڑي اور گہري ٹوپي پہنائيں- اگر آپ کے بچے کو دھوپ جلن ہو جائے تو فوراً طبي توجہ حاصل کريں-

سرديوں ميں اپنے بچے کو گرم رکھيں اور اسکي جلد کو جتنا ہو سکے ڈھک کر رکھيں تاکہ سرمازدگي سے بچا جا سکے- کمرے ميں ہوا کو نم رکھنے کے لئے ہيوميڈيفائر کا استعمال کريں ليکن گندگي کو بننے سے روکنے کے لئے اس آلہ کو ہميشہ صاف رکھيں- يہ گندگي ہوا ميں شامل ہو کر سانس کي بيماريوں کا سبب بن سکتي ہے-

ناخنوں کي حفاظت

ابھي آپ کے نومولود بچے کي انگليوں کے ناخن چھوٹے، نرم اور باريک ہوں گے ليکن اگر بچے کو کھرچنے کي عادت ہو تو وہ اس کے چہرے کو نقصان پہنچا سکتے ہيں- اس لئے اسکي انگليوں کے ناخنوں کو ہميشہ کٹا ہوا رکھنا ضروري ہوتا ہے- نيل کليپر کا استعمال کرتے وقت اسکا ناخن کاٹتے ہوئے اُس کي انگلي کا پيڈ اسکے ناخن سے دور لے جائيں تاکہ انگلي کٹنے سے بچا جا سکے- ہو سکتا ہے اپنے نومولود بچے پر نيل کليپرکا استعمال شروع ميں آپ کو مشکل لگے- اگر آپ اسکا استعمال غير آرام دہ محسوس کريں تو اپنے بچے کے ناخن ايمري بورڈ سے چھوٹے کرنے کي کوشش کريں-

آپ کے بچے کے ناخن آپکي توقع سے بہت ذيادہ تيزي سے بڑھيں گے- اسکي انگليوں کے ناخنوں کو ايک ہفتے ميں تقريباً ايک يا دو دفعہ کاٹنا پڑ سکتا ہے-

دانتوں کي حفاظت

آپ کے نومولود بچے کے دانت ابھي تک نکلے تو نہيں ہوں گے ليکن يہ اسکے دانتوں کي حفاظت شروع کر دينے کا بہترين وقت ہوگا- صرف سُوتي کپڑے کا ايک چھوٹا سا ٹکرہ لے کر اسے پاني ميں ڈبوئيں اور بچے کے مسوڑوں پر پھيريں- دن ميں ايک دفعہ بچے کي آخري فيڈ کے بعد ايسا کرنے کي کوشش کريں-

کچھ نومولود بچے ايک يا دو دانتوں کے ساتھ پيدا ہوتے ہيں- اگر ايسا ہو تو اپنے بچے کو دانت نرم دانت صاف کرنے والے برش سے صاف کريں- ايسا دن ميں دو دفعہ کريں ايک پہلي اور ايک آخري فيڈ کے بعد - ٹوتھ پيسٹ کا استعمال چھے ماہ سے کم عمر کے بچے کے لئے ضروري نہيں ہوتا کيونکہ يہ فلوڑائد کي ذيادتي کا سبب بن سکتا ہے-

بچے کے دانتوں کو خراب ہونے سے بچانے کا ايک اور بہترين طريقہ بچے کو رات کے وقت بستر پر يا پھر چُپ کروانے کے لئے بوتل کے استعمال سے گريز کرنا ہے- بچے کو رات کے وقت بوتل ميں دودھ دينا بچے کے آنے والے دانتوں کے لئے مستقل نقصان کا سبب بن سکتا ہے- اگر بچے کو رات کے وقت بوتل دينا ضروري ہو تو اسکو دودھ کي بجائے پاني سے بھريں -

شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان