• صارفین کی تعداد :
  • 1081
  • 12/19/2011
  • تاريخ :

21 ويں صدي  کے ابتدا ميں اردو افسانہ

کتاب

 اگر ہم تاريخ پر نظر دوڑائيں تو ہمارے سامنے يہ بات آتي ہے کہ مخلتلف ادوار ميں ادبي تدابير اور مشاہدات ايک جيسے نہيں ہوتے ہيں - کسي خاص دور ميں بعض کا آپس ميں تضاد ہوتا ہے تو بعض  ميں مماثلت پائي جاتي ہے - البتہ آج کي حاوي تھيوري نے ادب کو ان اساطيري اور متصوفانہ عالمي قدروں سے يکسر خالي کر ديا ہے جو ادب نے اختيار کي تھيں- ادب کي ادبيت اور مواد دونوں پر سوال اٹھائے جانے لگے ہيں- لسانياتي افتراق اور بعض مخصوص مباحث (Discoures)کي سرايت اور مقبوليت کے باعث ايک طرف مروّج معيار رد ہوئے تو دوسري طرف ان کے مخالف يا متبادل معيار سامنے آئے ہيں-بہر حال اب بھي سب پر عياں ہے کہ ادب، شناختوں کو بنانے اور ان کي تصديق کا ايک طريقِ کار ہے- يہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ ہمارے زمانے کي ايک علامت کے طور پر شناخت کي سياست کو ايک ايسي بيّن مرکزيت حاصل ہو گئي ہے جس نے ادب کے روايتي تصورات کو پسِ پشت ڈال کر انھيں از کار رفتہ بنا ديا ہے- ايک جہت ميں چلنے والا ادب مثلاً ما بعد نو آبادياتي ادب، ہجرت اور ترکِ وطن کا ادب (Diaspora)، صيہوني ادب، سياہ فاموں کا ادب، نسائي ادب، ہم جنسي کا ادب، دلت ادب، اقليت کا ادب، زنداني ادب، احتجاجي ادب وغيرہ، يہ سبھي تصورات ’شناخت ‘ کو سب سے اہم اور بنيادي مسئلہ قرار دينے پر اصرار کرتے ہيں- اس کے علاوہ ايک معني خيز تبديلي دوسري جنگِ عظيم کے بعد فکشن ميں نقل پرمبني حقيقت نگاري (Mimetic Realism)سے ہٹ کر منتشر اجزاء کو جوڑنے کي تکنيک (Collate)کي صورت ميں رونما ہوئي ہے- اس عہد کے اديبوں اور نقادوں پر وجوديت کا خاصا اثر رہا ہے- ناولوں ميں، پيروڈي، تحريف اور سنگين مزاح کے استعمال کو عجيب و غريب، غير روايتي اور موثر طريقوں سے گرفت ميں لانے کي ايک کوشش کے طور پر ديکھا جاتا ہے- بہت سے معاصر اديبوں کي نگارشات کا دوسرا اہم رجحان تھيوري کے مغالطوں سے باخبر اور ہوشيار رہنے کا ہے-

دور حاضر ميں  پيش آنے والي  تبديلياں :

دور حاضر کي سائنسي ترقي نے ادب پر بھي اپنے اثرات مرتب کيۓ ہيں - آج ادب تقريبا ايک جمہوري عمل بن کر رہ گيا ہے -  انٹر نيٹ کا پھيلاوء قلم کاروں کے ليے سود مند ثابت ہوا ہے اور e-booksکي مقبوليت بھي بڑھي ہے- عددکاري(Computational and digital)کے عمل نے ادب ميں نئي راہيں ہموار کي ہيں اور نئي ہيئتيں سامنے آئي ہيں- جيسے ماورائے متن فکشن (Highpertext Fiction)اور ارتباط باہمي فکشن (Interactive Fiction) وغيرہ-

آج کا قاري بڑي آساني کے ساتھ تحارير پر دسترس حاصل کر سکتا ہے - اب قارئين اور متن کے درميان فاصلے کو فوق المتن (hypertext)کے رخنوں نے کم کر ديا ہے جس کے باعث پڑھنے کے عمل ميں پڑھنے والے کي شرکت کا اضافہ ہوا ہے-

سوال يہ اُٹھتا ہے کہ کيا اس بدلے ہوئے تناظر کو اردو کے افسانہ نگاروں نے اسي طرح محسوس کيا ہے جس طرح ہم سب بين الاقوامي سياست کے زير اثر جي رہے ہيں اور جن پيچيدہ معاملات سے دو چار ہيں جہاں کوئي با ضابطہ اصول،مطمح نظر يا فلسفہ کام نہيں آ رہا ہے- اب ايک مرکز پر ٹھہراوء نہيں ہے- فکري اور جماعتي، دونوں ہي اعتبار سے انتشار پسندي ميں اضافہ ہوا ہے مثال کے طور پر تعليم کو ہي لے ليجئے آج تعليم کا مقصد شخصيت کي تعمير اور صحت مند تہذيبي قدروں اور علمي استعداد ميں اضافہ کے ليے نہيں ہے بلکہ ذاتي ترقي اور نفع ہے-

اکيسويں صدي کے آغاز سے ہي اس کا براہ راست رشتہ روزگار سے اس حد تک جڑ گيا ہے کہ اب جو بھي تعليمي مراکز قائم ہو رہے ہيں ان کے پيشِ نظر سود و زياں بنيادي مقصد ہے- جديد سہولتوں سے مزين، خوب سے خوب تر ادارے ہيں مگر سبھي تجارتي بنيادوں پر- ان کے پس پشت تجارت پيشہ لوگ ہيں جو زيادہ سے زيادہ منافع پر يقين رکھتے ہيں-

يہي حال ماحوليات کا ہے- شہر کاري(Urbanisation) تيزي سے ہو رہي ہے-مصنوعي پلانٹيشن سے خوبصورتي بڑھ رہي ہے مگر درخت کٹ رہے ہيں-موبائل، ٹي وي،I.T. ٹاور يعني پاور فل ٹرانسميٹر کے ريڈي ايشن کي وجہ سے ماحولياتي توازن درہم برہم ہو رہا ہے- گھر ، کار ، دوکان وغيرہ کے ليے بآساني قرض تو ميسر ہے مگر حساس شخص نہ صرف قرض ميں ڈوبتا چلا جا رہا ہے بلکہ غير شعوري طور پر ذہني تناوء ميں بھي مبتلا ہو رہا ہے-

آج لگان نہيں ہے مگر بالواسطہ سڑک اور پُل کا ٹول ٹيکس(Toll Tax)لے کر خراج وصول کيا جا رہا ہے-اکيسويں صدي کي اس پہلي دہائي کے اور بھي بہت سے مسائل ہيں- کيا معاصر افسانہ ان کو ترجيحات دے رہا ہے؟ کيونکہ پچھلے دس سالوں ميں شائع ہونے والے افسانے بے شمار ہيں مگر ان ميں آج کي دنيا ميں ادب کے بدلتے مظاہر کم ہيں ليکن کچھ افسانہ نگار ايسے ضرور ہيں جن کا بالواسطہ مقصد معاصر ادب کي نمائندہ تبديليوں اور ان تبديليوں سے پيدا ہونے والے مسائل سے واقف بھي کرانا ہے- ايسے افسانہ نگار فکر و فن، زبان و بيان ميں ہر لمحہ مفاہمت کرتے نظر آتے ہيں- مثال کے طور پر زبان کو ہي لے ليجئے کہ غير اردو الفاظ کا استعمال بے دريغ ہو رہا ہے- يہ مقامي سطح پر بھي ہے، علاقائي ، صوبائي اور عالمي سطح پر بھي- افسانہ نگار ايسا کيوں کر رہے ہيں- شائد اس وجہ سے کہ افسانہ کي لفظيات اُس زبان سے آ رہي ہے جو مخلوط زبان ہے- بنياد تو اردو ہي ہے مگر ان ميں گاوءں کي بوليوں کے الفاظ پھر ہندي، پنجابي، گجراتي، بنگلہ وغيرہ کے الفاظ- مثلاً کلکتہ زبان - يہ ہے تو اردو ہي مگر بنگلہ کي وجہ سے اس کي ايک نئي شکل ہے اور اس کي اپني لفظيات ہے جو اورل يا وربل (زباني) کا حصہ ہے- اس نوع کے الفاظ مشرقي بنگال کے افسانہ نگاروں کے يہاں جا بجا اس ليے استعمال ہوئے ہيں کہ يہ الفاظ ان کي زبان کي فطري تشکيل ميں شامل ہيں- دوسري وجہ يہ ہو سکتي ہے کہ ہم جس دور ميں جي رہے ہيں اس ميں عا  لميت کے اثرات زبانوں پر شدت سے پڑ رہے ہيں- خاص طور سے وہ جو ہندوستاني معاشرہ ميں ہيں- ان کے يہاں لفظوں کے استعمال ميں يہ تنوع بطور خاص ديکھا جا رہا ہے چونکہ ان کے پاس ميڈيابوم (Boom)کي وجہ سے ان کا تفاعل ايسي زبانوں اور الفاظ سے ہو رہا ہے جن کے بغير آج کي دنيا کي ترسيلي ضروريات پوري نہيں ہو سکتيں مثلاً انگريزي-

تحرير : پروفيسر صغير افراہيم

پیشکش: شعبہ تحریر و پیشکش تبیان