• صارفین کی تعداد :
  • 2657
  • 12/8/2011
  • تاريخ :

قرآن سے شفاعت ( حصّہ پنجم )

قرآن مجید

کافي ميں کليني عليہ الرحمہ نے اپني سند کے ساتھ فضيل ابن يسار سے نقل کيا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق   - نے فرمايا: من جملہ بعض اعتقادات اماميہ ميں سے ثبوت شفاعت ہے نہ مجموعي طور سے کہ قرآن مجيد کي بہت سي آيات اور وحي و تنزيل سے وارد شدہ روايات اس بات پر دلالت کرتي ہيں اور يہ ايک ايسي بحث ہے جو مفصل ہے موضوع کي حيثيت سے بھي اور اس جہت سے کہ کن افراد کے حق ميں شفاعت جاري و ساري ہے اور شفاعت کرنے والي ہستياں کون ہيں؟ شفاعت کن چيزوں سے متعلق ہوگي؟ اس کا فائدہ کب ملے گا؟ شفاعت کي کتني قسميں ہيں؟ يہ سب کا لازمہ مفصل بحث ہے جن کا ذکر کرنا اس مختصر کتاب کے تقاضے کے برخلاف ہے- قارئين تفسيروں اور اس سے متعلقہ کتابوں کي طرف رجوع کريں کيوں کہ ہماري بحث کا عمدہ محور حضرت بقية  اللہ الاعظم عجل اللہ تعاليٰ فرجہ کا قرآن کريم کے ساتھ موازنہ ہے کہ من جملہ ان بحثوں ميں سے قيامت کے دن قرآن کي شفاعت کا واقع ہونا بھي ہے لہٰذا ہم نے تيمناً و تبرکاً ان ميں سے بعض حصے کا سرسري طور پر ذکر کيا ہے نيز ان ميں سے بعض آيات جو تقريباً تيس کے نزديک ہيں اور بعض وہ روايات جو فريقين سے نقل ہوئي ہيں اشارہ کيا ہے اور قرآن مجيد کي شفاعت کي کيفيت کے بارے ميں جو قارئين کے ليے ہمارا اصل موضوع اور محور بحث ہے اور جس نے اس کي پيروي کي ہے نيز اس کا احترام کيا جو اس کے مضامين پر عمل کرنا ہے اسي پر اکتفا کيا ہے پھر حضرت حجّت قائم آل محمد  صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي شفاعت جو قرآن کريم کے شريک و ہم پلہ ہيں حضرت کے تابعين اور فرماں برداروں کي بہ نسبت اس بحث کا آغاز کيا ہے پھر ان ميں سے بعض آيات اور وارد شدہ روايات کو قارئين کرام کے سامنے پيش کريں گے-

 

بشکريہ اسلام شيعہ – ڈبليو ڈاٹ کام

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان