• صارفین کی تعداد :
  • 3407
  • 8/23/2011
  • تاريخ :

قرآن مجيد اللہ تعالي کي طرف سے ايک عظيم تحفہ (حصّہ دوّم)

قرآن حکیم

اگرچہ بہت سي روايت اس بات پر دلالت كرتي ہيں كہ قرآن كا كامل علم محض پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلّم اور اہلبيت اطہار عليہم السلام كے پاس ہے اور وہي قرآن كے حقيقي معلم و مفسّر ہيں (جيسا كہ پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلّم كے بارے ميں قرآن كہتا ہے، قرآن كے معلم اور اس كو بيان كرنے والے خود پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلّم ہيں)  اس كے باوجود ہم ديكھتے ہيں كہ خود نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلّم اور ائمہ اطہار عليہ السلام نے بھي قرآن كي طرف رجوع كرنے كي تاكيد كي ہے حتي فرمايا ہے: اگر ہم سے منقول روايات كے بارے ميں شك پيدا ہوتو انہيں قرآن كي روشني ميں پركھ لو”‌

روايات ميں ”عرض علي  الكتاب”‌  كے عنوان سے ايك مستقل باب موجود ہے اور جس كا ذكر اصول كي كتابوں ميں بھي تعاول و ترجيح كے عنوان سے مذكور باب ميں ملتا ہے كہ روايتوں كے درميان ترجيح يا ان كے قابل اعتبار ہونے كي شرطوں ميں سے ايك شرط ان كي قرآن كے ساتھ موافقت ياعدم مخالفت بھي ہے-

لہذا جب ہم كسي روايت كا اعتبار برقرار ركھنے يا كم از كم اس كو دوسري روايت پر ترجيح دينے كے لئے قرآن كے ساتھ اس كي مطابقت كريں تو آيت كا مفہوم ہم پر واضح و روشن ہونا چاہيئے تاكہ روايت كي اس كے ساتھ تطبيق كرسكيں اور اگر يہ صورت ہو كہ آيت كا مفہوم بھي روايت كے ذريعہ سمجھا جائے تو دور لازم آتا ہے لہذا يہ اشتباہ كہ كوئي شخص روايت كي طرف رجوع كئے بغير قرآن كے بارے ميں فكر و تدبر اور استفادہ كا حق نہيں ركھتا ايك خيال خام ہے ہم كو خود قرآن ميں خداوندمتعال نے بھي حكم ديا ہے اور پيغمبر اكرم و ائمہ طاہرين عليہم السلام نے بھي قرآني آيات ميں غور و فكر كي تاكيد كے ساتھ دعوت دي ہے مگر افسوس گذشتہ دور ميں اس جانب كوتاہي سے كام لياگيا يہاں تك كہ قرآن اور تفسير قرآن كے دروس حتي ديني علمي مراكز ميں بھي ضعف و اضمحلال كا شكار بلكہ نہ ہونے كے برابر تھے -

اور پھر حوزہ علميہ قم ميں علامہ طباطبائي رضوان الله عليہ كو يہ توفيق حاصل ہوئي كہ انہوں نے حوزہ علميہ قم ميں تفسير قرآن كو حيات نو بخشي اور يہ عظيم افتخار ان كے نصيب ميں آيا ہم سب كو ان كا شكر گزار ہونا چاہئے كہ آج اسلامي معارف كي شناخت كے سلسلہ ميں عظيم ترين مآخذ و مدرك يہي تفسير الميزان ہے جو آپ نے تاليف فرمائي ہے -

بہر حال، وہ ذمہ داري جو ہم پر خداوند عالم اور اس كے پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلّم كي جانب سے مقرّر كي گئي ہے اس كے تحت ہميں قرآن كے بارے ميں غور و فكر اور تدبر و تعقل سے كام لے كر ان گراں بہا موتيوں سے استفادہ كرنا چاہيئے جو خدا وند عالم نے لوگوں كے لئے اس ميں ذخيرہ كرديئے ہيں -

بشکريہ رضويہ اسلامک ريسرچ سينٹر


متعلقہ تحريريں:

 قرآن کريم کس طرح معجزہ ہے؟ (حصّہ دوّم)

قرآن کريم کس طرح معجزہ ہے؟

قرآنِ کريم

قرآنِ کريم: جاوداں الٰہي معجزہ

ہميشہ باقي رہنے والا معجزہ