• صارفین کی تعداد :
  • 537
  • 7/30/2011
  • تاريخ :

بحرين ميں مذاکرات کسي نتيجے کے بغير اختتام پذير ہوچکے ہيں

بحرین
آل خليفہ کے نمائشي مذاکرات عوامي مطالبات پر بحث کئے بغير اور کسي نتيجے پر پہنچے بغير اختتام پذير ہوگئے گو کہ خليفي حکومت نے اعلان کيا کہ اس کے بعد اراکين پارليمان فلور پر عمومي مسائل بھي مورد بحث لاسکيں گے- عوام مجرم حکومت کے ساتھ مذاکرات نہيں چاہتے خليفيوں نے اپنے زوال کے اسباب خود ہي فراہم کرديئے ہيں حکومت کے پاس عوامي مطالبات ماننے کے سوا کوئي چارہ نہيں ہے-

اہل البيت (ع) نيوز ايجنسي ـ ابنا ـ کي رپورٹ کے مطابق آل خليفہ کے نمائشي مذاکرات عوامي مطالبات پر بحث کئے بغير اختتام پذير ہوگئے ہيں اور خليفي خاندان کو ان مذاکرات سے کوئي فائدہ نہيں مل سکا ہے- يہ مذاکرات کسي نتيجے پر پہنچے بغير اختتام پذير ہوگئے ہيں گو کہ خليفي حکومت نے اعلان کيا کہ اس کے بعد اراکين پارليمان فلور پر عمومي مسائل بھي مورد بحث لاسکيں گے-

نام نہاد قومي مذاکرات کے ترجمان نے کہا عيسي عبدالرحمن نے کل شام کو مذاکرات کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے کہا:

اراکين پارليمان کو پارليمان فلور پر عمومي مسائل بھي مورد بحث لائے سکيں گے اور پارليمان ميں سوال اور جواب کے لئے سيشن کا اہتمام کيا جا سکے گا-

دريں اثناء اپوزيشن جماعتيں آل خليفہ سے بالکل مايوس ہوگئي ہيں:

راشد الراشد کا کہنا تھا کہ بحريني عوام مجرم اور قابل نفرت حکومت کے ساتھ مذاکرات کے خلاف ہيں کيونکہ اس حکومت نے عوام کا قتل عام کيا ہے اور عوام کے مقدسات کي توہين کي ہے-

بيروت ميں مقيم بحريني سياسي راہنما راشد الراشد نے آل خليفہ خاندان سے مطالبہ کيا کہ وہ عوام کے مطالبات تسليم کرے، قيديوں کو فوري طور پر رہا کردے اور ملک ميں عدل پر اور فرقہ واريت سے آزاد قومي حکومت کے قيام کا مطالبہ منظور کرے-

انھوں نے کہا کہ عوام نے خليفي حکومت کے مذاکرات کي روش کي پہلے روز سے مخالفت کي ہے-

ادھر انقلاب 14 فروري کے ساتھ تعاون کے لئے تشکيل يافتہ کميٹي نے اپوزيشن جماعتوں کي طرف سے مذاکرات کے بائيکاٹ کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزيشن کا يہ اقدام اہم پيغام ہے اور عالمي برادري کو اس پيغام کا ادراک کرنا چاہئے اور وہ يہ کہ "بحريني عوام مسائل يکا حل چاہتے ہيں ليکن آل خليفہ حکومت موجودہ مسائل کا حل نہيں چاہتي-

محمد الموسوي نے آج العالم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: خليفي حکومت نے مظاہرين کا قتل عام کرکے اپنے زوال کے اسباب خود ہي پيدا کئے ہيں اور مذاکرات کي ناکامي کا اہم ترين سبب يہ تھا کہ ان مذاکرات ميں عوام کے بنيادي مسائل کو سراسر نظرانداز کيا گيا اور خليفيوں نے صرف چند ہي اپوزيشن راہنماؤں مذاکرات کي دعوت دي اور اکثريت کو نظر انداز کيا-

انھوں نے کہا: آج بحريني عوام کے مطالبات کي صدائے بازگشت بين الاقوامي اداروں اور فورموں ميں سنائي جارہي ہے اور يوсي يونين نے زخميوں کے علاج معالجے کي پاداش ميں گرفتار ہونے والے ڈاکٹروں اور ميڈيکل اسٹاف کي فوري رہائي کا مطالبہ کيا ہے-

ادھر ايک بحريني راہنما نے کہا ہے کہ خليفي حکومت کے پاس عوامي مطالبات ماننے اور انقلابيوں کو مراعات دينے کے سوا کوئي راستہ نہيں ہے-

علي الفَرَج نے کہا کہ اپوزيشن جماعتيں اس بات پر متفق ہيں کہ آل خليفہ حکومت کے ساتھ نام نہاد مذاکرات ميں شموليت کا کوئي فائدہ نہيں ہے اور عوام اس قسم کے مذاکرت ہرگز تسليم نہيں کريں گے چنانچہ آل خليفہ حکومت کے پاس اس کے سوا کوئي چارہ نہيں ہے کہ وہ عوام کو مراعات دے اور ان کے مطالبات تسليم کرلے-

علي الفَرَج نے اتوار کے روز ٹي وي مکالمے ميں کہا کہ خليفي حکومت کي طرف سے شروع کئے جانے والے نام نہاد قومي مذاکرات ميں شرکت کرنے والي اپوزيشن جماعتوں نے ان مذاکرات کے نتائج سے برائت و بيزاري کا اعلان کيا ہے جس کا مطلب يہ ہے کہ انھوں نے خليفيوں کو ايک واضح پيغام ديا ہے اور وہ کہ "ان کا يہ حربہ بھي شکست کھا گيا ہے"-

انھوں نے کہا: الوفاق کي طرف سے مذاکرات کے بائيکاٹ نے ان مذاکرات کو بے اعتبار کرديا-

انھوں نے کہا کہ اگر آل خليفہ اپنے اس حربے کي ناکامي کے بعد عوام کے خلاف جبر و تشدد ميں شدت لائے تو اس کو سخت اندروني اور بيروني کا سامنا کرنا پڑے گا اور اندروني طور پر اس کو شديد ترين احتجاج کا سامنا کرنا پڑے گا-

انھوں نے خليفي بادشاہ کي طرف سے نام نہاد فيکٹ ‌فائنڈنگ کميٹي کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خليفي حکومت عوام کے لئے پرامن ماحول فراہم کرنے ميں ناکام ہوگئي ہے اور عوام کو اس کميٹي سے ملنے اور شکايت کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے مواقع فراہم نہيں کئے ہيں اور نہ ہي ابھي تک اس نام نہاد کميٹي نے عوام کے ساتھ رابطہ کرنے کي کوشش کي ہے-

انھوں نے کہا کہ اس کميٹي کا حال بھي مذاکرات سے مختلف نہيں ہوگا کيونکہ ابھي تک اس کميٹي نے عملي ميدان ميں کوئي بھي اقدام نہيں کيا ہے-

ياد رہے کہ بيرون ملک مقيم بحريني سياستدانوں اور قانوندانوں نے بھсور کوششيں کرکے بحرين کے آل خليفہ خاندان کو کسي حدتک رسوا کيا تو نيوي پيلے نے آل خليفہ خاندان کو بچانے کے لئے زباني اعلان کيا کہ وہ بہت جلد ايک فيکٹ فائنڈنگ ٹيم بحرين روانہ کررہي ہيں تا کہ وہاں کي صحيح صورت حال معلوم ہوسکے-

نيوي پيلے نے اس بات کي اطلاع سب سے پہلے آل خليفہ حکومت کو دي اور يوں آل خليفہ نے تياري کرکے کچھ ہي دن بعد اعلان کيا کہ بادشاہ نے اندروني فيکٹ فائنڈنگ ٹيم تشکيل دي ہے جو عوام کي شکايات کا ازالہ کرے گي-

نيوي پيلے تو پڑھي لکھي خاتون ہيں مجھ جيسا ان پڑھ شخص بھي سمجھتا ہے کہ خليفي بادشاہ نے اپنے عوام کا قتل عام کيا ہے، انہيں ٹاэر کيا ہے، انہيں ان کے بنيادي حقوق سے محروم کررکھا ہے ان کي بے حرمتي کي ہے اور ان پر بيروني افواج اور کرائے کے غنڈے مسلط کئے ہيں، ان کے سياسي حقوق چھين لئے ہيں انہيں کام اور روزگار سے محروم کر رکھا ہے اور ہر روز ہزاروں سعوديوں، شاميوں، اردنيوں، عراقي بعثيوں اور پاکستانيوں اور يمنيوں کو شہريت دے رہي ہے تا کہ اس طرح شيعہ اکثريت کو اقليت ميں تبديل کيا جاسکے تو يہ کيونکر ممکن ہے کہ يہي حکومت اپني تشکيل کردہ ٹيم کو اپنے خلاف تحقيقات کي اجازت دے؟

ليکن نيوي پيلے نے ان کي بات مان لي اور امريکي مفادات کے اس چھوٹے سے محافظ کے سامنے مسکراليں اور عرض کيا "ٹھيک ہے بادشاہ سلامت؛ آپ جب خود اپنے خلاف تحقيقات کروانا چاہتے ہيں تو اقوام متحدہ کا انساني حقوق کميشن کس کھيت کي مولي ہے؟ آپ اپنا کام اپني مرضي کے مطابق کريں ہم بھي اپني ٹيم بھجوانے کا وعدہ بھول جاتے ہيں اور وہ بھول گئيں