• صارفین کی تعداد :
  • 685
  • 7/6/2011
  • تاريخ :

نام نہاد قومی مذاکرات ناکامی کی جانب گامزن

بحرین

ابراہیم المدہوں نے کہا: آل خلیفہ کی طرف سے شروع کردہ نام نہاد قومی مذاکرات کی کامیابی بعید از قیاس ہے کیونکہ خلیفی حکومت کامیاب مذاکرات کے لئے سازگار ماحول فراہم نہیں کرسکی ہے چنانچہ جمعيۃ الوفاق اور جمعيۃ الوعد ان مذاکرات کو ترک کرسکتی ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرینی سیاستدان ابراہیم المدہوں نے کہا کہ اسیروں کی رہائی، برخاست ہونے والے سرکاری اور نجی اداروں کے کارکنوں کی بحالی اور فوجی عدالت کی طرف سے سنائی جانے والی سزاؤں کی منسوخی سے ہی ثابت ہوسکے گا کہ آل خلیفہ حکومت مذاکرات کے لئے سنجیدہ ہے لیکن اس نے ان میں سے حتی ایک اقدام بھی نہیں کیا ہے اور صرف چند افراد کی رہائی پر اکتفا کیا ہے۔

انھوں نے کہا: ان مسائل سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیفی حکومت حقیقی مذاکرات کے درپے نہیں ہے اور صرف نمائشی مذاکرات کا بھی کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوگا۔

بحرین کے اس سیاستدان نے کہا: حکومت مخالف قوتیں اپنے ملک میں حقیقی مذاکرات کے خواہاں ہیں اور وہ اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں لیکن آل خلیفہ حکومت ملک میں بحران کا خاتمہ نہیں چاہتی بلکہ اندرونی اور بیرونی دباؤ کم کرنے کے لئے قومی مذاکرات کا ڈھونگ رچا رہی ہے۔

المدہوں نے کہا: مذاکرات کی ابتدائی شرط یہ ہے کہ مذاکرات حکومت اور مخالفین کے نمائندوں کے درمیان ہوں لیکن ان مذاکرات میں ایک طرف سے پوری خلیفی حکومت ہے اور دوسری طرف سے مخالفین کا نہایت مختصر سا گروپ ہے چنانچہ ان مذاکرات میں عوام کے حقیقی مطالبات پر بحث و تمحیص ممکن ہی نہیں ہے لہذا پیشین گوئی کی جاسکتی ہے کہ جمعيۃ الوفاق اور جمعيۃ الوعد ان مذاکرات کو ترک کردیں گی کیونکہ یہ دونوں جماعتیں اپنے ملک و قوم کے ساتھ خیانت و غداری کی دستاویز اپنے نام ثبت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ برسراقتدار آل خلیفہ خاندان اور مخالف قوتوں کے درمیان باہمی اعتماد ناپید ہے کیونکہ ایک طرف سے اگر حکومت مخالفین کو مذاکرات کی دعوت دے رہی ہے تو دوسری طرف سے قوم و ملت کے مفادات کے خلاف اقدام بھی جاری رکھی ہوئے ہے، ہزاروں بیرون ملکیوں کو شہریت دے رہی ہے اور سرکاری و نجی اداروں سے بحرینی کارکن برخاست کررہی ہے۔

انھوں نے کہا مذاکرات کے ساتھ ساتھ عوام کی گرفتاریاں جاری ہیں، لوگوں کے گھروں پر حملے ہورہے ہیں اور وہ تمام جابرانہ اقدامات جاری ہیں جو کسی طور پر بھی مذاکرات سے سازگار نہیں ہیں۔

یادرہے کہ بحرین کی تمام سیاسی جماعتوں نے مذاکرات کا بائیکاٹ کررکھا ہے اور صرف جمعيۃ الوفاق اور جمعيۃ الوعد مخالف جماعتوں کی حیثیت سے ان مذاکرات میں شریک ہیں لیکن ماحول مذاکرات کے لئے مناسب نہیں ہے چنانچہ یہ جماعتیں بھی عنقریب بائیکاٹ کرنے والی جماعتوں میں شامل ہوں گی۔ مثال کے طور پر جمعيۃ الوفاق نے کہا ہے کہ آل خلیفہ حکومت نے اپنے منصوبے مذاکرات پر مسلط کردیئے ہیں۔

الوفاق کے مستعفی رکن پارلیمان سید ہادی الموسوی ـ جو مذاکرات کی نشستوں میں بھی شریک ہورہے ہیں ـ نے کہا کہ آل خلیفہ حکومت نے اپنے منصوبے مذاکرات پر مسلط کردیئے ہیں اور مخالفین کے مطالبات ایجنڈے سے حذف کئے گئے ہیں۔

ہادی الموسوی نے کہا:

حکومت اپنی مرضی سے اور اپنے طرز پر مسائل حل کرنا چاہتی ہے جبکہ اس نے نعرہ لگایا تھا کہ یہ مسائل حکومت اور مخالفین کی دو طرفہ مفاہمت کی روشنی میں حل کئے جائیں گے چنانچہ حکومت کے قول و فعل میں تضاد پایا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایجنڈے میں کہا یہ نکات شامل تھے کہ ملک کو قانوں کی حقیقی حاکمیت دی جائے گی اور نئے آئین کی تدوین کے لئے مؤسسین کونسل تشکیل دی جائے گی اور اب یہ دونوں نکات ایجنڈے سے حذف کئے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا: نسل امتیاز، خودسرانہ گرفتاریاں، غیر قانونی قتل عام، اذیتکدوں میں ٹارچر اور تشدد وہ نہایت اہم مسائل ہیں جن سے ملک کی اکثریت کو شدید مسائل کا سامنا ہے لیکن یہ مسائل بھی ایجنڈے میں شامل ہی نہیں ہیں۔

جمعيۃ الوفاق کے اس نمائندے نے کہا: مذاکرات میں 300 افراد شرکت کررہے ہیں جن میں 255 افراد حکومت کی نمائندگی کررہے ہیں لہذا ممکن نہیں ہے کہ ہم عوام کے بنیادی مطالبات کے حصول کے لئے کوئی مؤثر قدم اٹھا سکیں۔

انھوں نے کہا کہ مذاکرات کے شرکاء کو متعدد کمیٹیوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور تمام کمیٹیوں کے سربراہ بھی حکومت کے نمائندے ہیں اور اکثر کمیٹیوں میں اپوزیشن کی طرف سے ایک نمائندہ شرکت کررہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان مذاکرات میں انقلابی قوتوں کے نمائندوں کو کوئی مؤثر کردار نہیں دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ مذاکرات بالکل بے سود ہیں۔

دوسری طرف سے جمعيۃ الوفاق کی سیکریٹری جنرل شیخ علی سلمان نے کل کہا تھا کہ مذاکرات کی نشستوں میں کوئی سنجیدگی دیکھنے کو نہیں ملتی بلکہ یہ مذاکرات ضیافت اور جشن کی تقریبات سے زیادہ مماثلت رکھتی ہیں اور نشستوں میں نمائشی تقریریں ہوتی ہیں لیکن مشکلات کے حل کی طرف کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔

انھوں نے کہا ہے کہ مذاکرات میں اتنی بڑی تعداد کی موجودگی کا مقصد یہ ہے کہ مذاکرات کے نتائج حکومت کے مقاصد سے قریب تر ہوں اور انقلابیوں کے مطالبات کو نظرانداز کئے جاسکیں۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کی نیت اور اس کے اقدامات سے کسی طور پر بھی بہتر نتائج کی توقع نہیں کی جاسکتی۔