• صارفین کی تعداد :
  • 818
  • 6/20/2011
  • تاريخ :

اردن ميں حکومت کي پاليسيوں کے خلاف مظاہرے

اردن

اردن کے عوام نے بھي خطے کي دوسري اقوام کي طرح اپني حکومت کي پاليسيوں کے خلاف اپنے احتجاجات ميں شدت پيدا کردي ہے۔ کل جمعے کے دن کرک ، طفيلہ اور ذبيان سميت اردن کے مختلف شہروں ميں حکومت مخالف مظاہرے کۓ گۓ۔

ابنا: نماز جمعہ کے بعد نکالے جانے والے جلوسوں میں مظاہرین نے امان حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ حالیہ ہفتوں کے دوران معروف بخیت کی حکومت کے خلاف بارہا احتجاجات کۓ گۓ۔ اور اسی مسئلے کے پیش نظر اردن کی پارلیمنٹ کے بعض اراکین نے امان حکومت کا کام جاری رہنے کو بعید قرار دیا ہے ۔ اردن کی پارلیمنٹ کے اراکین کا کہنا ہےکہ اس بات کا امکان پایا جاتا ہےکہ کہ شاہ عبداللہ اردن کے عوام کی حمایت حاصل کرنے اور ملک کے کشیدہ حالات کو بہتر بنانے کے لۓ معروف بخیت کی حکومت کو برطرف کردیں۔ واضح رہے کہ اردن کے بادشاہ نے حال ہی میں ٹی وی سے نشر ہونے والی تقریر میں ملک میں سیاسی اور اقتصادی اصلاحات کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ معروف بخیت نے کہا ہےکہ وہ ملک کے سیاسی نظام میں تبدیلیوں سے متعلق قوانین کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔ اور رواں سال کے آخر تک یہ تبدیلیاں کردی جائيں گي۔ لیکن اس کے باوجود اردن کے عوام بادشاہ کے وعدوں کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ امان حکومت کی برطرفی اور پارلیمنٹ تحلیل کۓ جانے کا بھی مطالبہ کررہے ہیں۔ اردن میں اصلاح کا مطالبہ کرنے والی مختلف یونینوں کے اتحاد نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں آیا ہے کہ قومی مذاکرات کمیٹی کے کئی مہینوں پر محیط جائزے کے بعد بھی اصلاحات کے سلسلے میں اردن کے عوام کے معمولی مطالبات بھی پورے نہیں کۓ گۓ ہیں۔

اردن کی سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ بادشاہ کی جانب سے ملک میں سیاسی اصلاحات کی بات کی اور قومی مذاکرات کمیٹی تشکیل ملت کے احتجاج میں کمی لانے کےلۓ پروپیگنڈے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ حقیقت میں اردن کی حکومت قومی مذاکرات کمیٹی کی تشکیل کے ذریعے ٹائم کلنگ کے درپے ہے ۔

 اردن کی مختلف یونینوں کے اتحاد نے اردن کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی اور سب کے لۓ قابل قبول شخصیات پر مشتمل ایک عبوری حکومت تشکیل دیۓ جانے کی تجویز پیش کی ہے ۔ بعض خبررساں ایجنسیوں نے اسی تجویز کے پیش نظر یہ پیش گوئي کی ہے کہ اگلے چند دن اردن کی شاہی حکومت کے لۓ بہت سخت ہوں گے۔ صیہونی جریدے اسرائيل ٹوڈے نے بھی لکھا ہےکہ اردن میں بھی عنقریب خطے کے بعض دوسرے عرب ممالک کی طرح ایک اسلامی انتفاضہ شروع ہونے والا ہے۔ اس جریدے نے اپنی رپورٹ میں اس نکتے کی جانب اشارہ کیا ہےکہ اس ملک میں انقلابی تحریک اسرائيل کے لۓ خطرناک نتائج کی حامل ہوسکتی ہے۔ خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ صیہونی حکومت سے تعلقات منقطع کرنا اردن کے مطالبات میں شامل ہے ۔ اور یہ مطالبہ حالیہ مظاہروں میں واضح طور پر کیا گيا ہے۔