• صارفین کی تعداد :
  • 550
  • 6/14/2011
  • تاريخ :

انقلاب بحرين ميں خواتين کا کردار

انقلاب بحرين ميں خواتين کا کردار

بحرين کے عوامي انقلاب ميں خواتين کا کردار ناقابل انکار ہے اور اسي بنا پر آل سعود اور آل خليفہ خاندانوں کے گماشتے خواتين کو خاص طور پر اپنے جبر و ظلم کا نشانہ بنا رہے ہيں۔

اہل البيت (ع) نيوز ايجنسي ـ ابنا ـ کي رپورٹ کے مطابق بحرين کے انساني حقوق مرکز کے ايک رکن عباس عمران نے انقلاب بحرين ميں خواتين کي ناقابل انکار کردار کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بحرين ميں آل خليفہ مطلق العنانيت کے خلاف 14 فروري 2011 سي شروع ہونے والے دھرنوں، ريليوں، مظاہروں اور جلسے جلوسوں ميں خواتين نے بھرپور حصہ ليا ہے اور يہ بات ثابت ہوگئي ہے کہ اس انقلاب ميں خواتين کا کردار مرکزي اور تعميري کردار ہے۔

عباس عمران نے العالم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بحرين کي خواتين نے معاشرے کے تمام طبقوں کے دوش بدوش تمام انقلابي سرگرميوں ميں شرکت کرکے انقلابي تحريک کو آگے بڑھانے ميں بنيادي کردار ادا کيا ہے جبکہ زخميوں کو ابتدائي طبي امداد بہم پہنچانے اور اسپتالوں ميں خليفي سعودي فوجيوں کي موجودگي کے باعث اپنے خاندانوں کے زخمي مردوں کو اپنے گھروں ميں علاج معالجے کي سہوليات پہنچانے ميں خواتين کا کردار منفرد اور اپني مثال آپ ہے۔

انھوں نے کہا کہ بحرين ميں آل خليفہ اور آل سعود نے شديد ترين، وحشيانہ ترين درندگيوں، تشدد اور انساني حقوق اور تمام انساني اور عالمي قوانين و اقدار کي وسيع خلاف ورزيوں کا ارتکاب کيا ہے اور بحريني خواتين نے اس حوالے سے دستاويزات اکٹھي کرنے اور انٹرنيٹ پر سماجي نيٹ ورکس کے توسط سے انہيں دنيا کے عوام کے سامنے پيش کرنے ميں  بھي منفرد کردار ادا کيا ہے۔

بحرين کے انساني حقوق مرکز کے رکن نے آل خليفہ کے بادشاہ کي طرف سے عوام کے ساتھ مذاکرات کے دعوؤں کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آل خليفہ حکمرانوں کي طرف سے جبر و تشدد کي کاروائيوں ميں کوئي کمي نہيں آئي چنانچہ جبر و تشدد کے سائے ميں کسي بھي قسم کے مذاکرات غير ممکن  ہيں؛ بحريني عوام اور سياسي جماعتين خليفي جرائم کے خاتمے اور آل سعود کے فوري انخلا کے خواہاں  ہيں اور اپنے مطالبات تک پہنچنے کے لئے پرامن جدوجہد جاري رکھنے کے لئے پرعزم  ہيں۔

ادھر بحرين کے انساني حقوق کے ايک فعال کارکن "جان لوبوک" نے کہا ہے کہ آل خليفہ اور آل سعود کے غنڈے بحرين ميں خواتين کے حقوق پامال کررہے  ہيں اور خواتين کو شديد ترين تشدد کا نشانہ بنا رہے  ہيں۔

اس قانوندان ني ايک رپورت شائع کرکي بحرين ميں حقوق نسوان کي وسيع خلاف ورزي سي پردہ اتھايا ہي۔ انہوں ني اپني رپورت ميں لکہا ہي: حکومت مخالف سياستدان کي زوجات اور افراد خاندان، ليدي داکترز، نرسوں، انساني حقوق کي شعبي ميں سرگرم خواتين، طالبات و استانيوں نيز آل خليفہ نظام حکومت کي مخالف اديب و شاعر خواتين آل خليفہ اور آل سعود کي جبر کا شکار ہوني والي خواتين ميں خاص طور پر قابل ذکر  ہيں۔

اس رپورت کي مطابق بحريني سياستدان "صلاح الخواجہ" کي اہليہ "فاطمہ الخواجہ"، انساني حقوق کي شعبي ميں فعال اسير راہنما اور صلاح الخواجہ کي بہائي "عبدالہادي الخواجہ" کي بيتي "زينب الخواجہ"، بحرين کي عمل اسلامي جمعيت کي راہنما "ياسر الصالح" کي زوجہ "زہرا علي العطيہ" سب کي سب خليفي نظام کي مخالف سياستدانوں کي ساتھ تعلق کي بنا پر زيادتي، ہتک حرمت، دہمکيوں، غير قانوني گرفتاريوں اور تشدد کا نشانہ بنين۔ اس رپورٹ کے مطابق بحرين کي نوجوان اور معترض شاعرہ "آيات القرمزي" سميت متعدد ليڈي ڈاکٹروں، پيراميڈيکل اسٹاف کي کارکن خواتين، نرسوں، دانشور خواتين، استانيوں اور معاشرے کے مختلف شعبوں سے وابستھ خواتين کو نہايت غير انساني انداز سے گرفتار کيا گيا ہے اور ان ميں سے کئي ايک پر آل خليفہ اور آل سعود کي [مسلمان اور عرب کہلوانے والے غنڈوں کے ہاتھوں ـ عرب اور اسلام کے تمام اقدار کو پاؤں تلے روندتے ہوئے ـ] جنسي درندگي کا نشانہ بني  ہيں يا پھر ان پر تشدد اور ٹارچر کي تمام [صہيوني اور امريکي] روشيں آزمائي گئي  ہيں اور انہيں خوف و ہراس سے دوچار کيا گيا ہے اور ان کي بے حرمتي کي گئي ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق 15 سالہ "ايمان عبدالعزيز العسوامي" بھي خليفي اذيتکدوں ميں قيد کاٹ رہي  ہيں اور "رقيہ جاسم ابو رويس" جيسي کئي حاملہ خواتين بھي جيلوں ميں بند  ہيں۔

دريں اثناء بحرين کے انساني حقوق مرکز نے آل خليفہ نظام حکومت سے مطالبہ کيا ہے کہ خواتين کے حقوق کے حوالے سے "سيداؤ" معاہدے سميت بين الاقوامي معاہدوں کا پاس رکھے اور ان معاہدوں کي خلاف ورزي سے باز رہے۔