• صارفین کی تعداد :
  • 985
  • 5/9/2011
  • تاريخ :

صوبہ سرحد میں بچوں کا ادب (پانچواں حصّہ)

پرانی کتاب

شاہد انور شیرازی (۱۹۷۵ء) بھی مردان کے مردم خیز ضلع کے سکونتی ہیں۔ انہوں نے انتہائی کم عمری میں جس رہوار قلم کی بھاگ اپنے ہاتھ میں پکڑی تھی وہ آج بھی مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں اور وہ بچوں کے علاوہ اب بڑوں کے لئے بھی کچھ نہ کچھ لکھ کر کہیں نہ کہیں اپنی موجودگی ضرور دکھاتے ہیں۔

شیرازی ابھی میٹرک کے طالب علم تھے کہ ان کی تحریریں چھپنا شروع ہوئیں۔ ننھے ادب کو حوصلے کے ساتھ پذیرائی ملی، بس پھر کیا تھا دو چار ہی سالوں میں انہوں نے بچوں کے ادیب کے طور پر اچھا خاصا نام کمایا۔ ان کو یہ کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ انہوں نے مردان ڈویژن کی تاریخ میں پہلا اور شاید آخری "بچوں کا اخبار" جاری کیا۔ یہ اخبار بوجوہ نہ چل سکا لیکن شیرازی نے اس زرپرست، بے حس اور ادبی انجماد کے شکار معاشرے کے ٹھہرے پانی میں پہلا پتھر پھینک کر ایک ارتعاش ضرور پیدا کیا۔ انہوں نے نثر کے ساتھ ساتھ نظم میں بھی طبع آزمائی کی اور بچوں کے لئے کئی ایک اچھی نظمیں بھی تخلیق کیں۔

کہانی "انوکھا سبق" میں نوجوان نسل کو اتفاق و اتحاد کی کامیابی اور نفاق کی تباہی و بربادی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ آخر میں جب چودھری فضل کے بیٹے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر ایک دوسرے کے دست و بازو بن کر ایک ہوجاتے ہیں تو ان کی بہت سی مشکلات کا خاتمہ بالخیر ہوجاتا ہے۔ "انوکھا سبق" (جو ماہنامہ "نٹ کھٹ" کے جون ، جولائی ۲۰۰۳ء کے شمارے میں شامل ہے) میں استاد کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ہر وہ بچہ اور جوان خوش نصیب ہوتا ہے جس کو کوئی اچھا استاد مل جاتا ہے۔ اچھے استاد کا ملنا گویا بھاگ جاگنے کے مترادف ہے۔

"ہاتھی کے دانت" ظاہر ہے کھانے کے اور ، اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔ اس تحریر میں ان پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی دوغلی پالیسی پر طنز کیا گیا ہے جو بڑے بڑے اشتہارات کے ذریعے دینی و اسلامی اور کمپیوٹر کی تعلیم کی لالچ دیکر والدین کو بچے داخل کرانے پر مجبور تو کردیتے ہیں لیکن پھر مطلوبہ قابلیت اور مہارت کے استاد تلاش کرنے کے روادار نہیں ہوتے۔ سکول کے ڈئریکٹر جب سر عاصم کو قرات کی کلاس کی ذمہ داری دیتے ہیں تو وہ یوں احتجاج کرتے ہیں:۔

"سر! ہم قرات نہیں پڑھا سکتے۔ یہ تو سراسر بچوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ اسکول کے پراسپیکٹس میں لکھا ہوا ہے کہ یہاں دینی و اسلامی تعلیم دی جاتی ہے۔ قرات اور حفظ قرآن کا اہتمام بھی ہے اور کمپیوٹر بھی قابل اساتذہ کے زیر نگرانی میں سکھایا جاتا ہے مگر یہاں تو اس کے برعکس کام ہو رہا ہے"۔

سر قمر نے ڈائریکٹر صاحب سے کہا :

"دیکھیں قمر صاحب، انسان جو کچھ کہتا ہے ضروری نہیں کہ اس پر عمل بھی کیا جائے۔ اب ہماری مجبوری ہے یہ ایک غیر سرکاری اسکول ہے۔ اب جبکہ اسکول کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ یہ کرایہ کی بلڈنگ ہے۔ اس کا کرایہ، اساتذہ اور دوسرے سٹاف کی تنخوا ہیں، بجلی، گیس اور ٹیلی فون کے بل وغیرہ کے اخراجات ہم کہاں سے پورے کریں"۔

ڈائریکٹر صاحب نے اسکول کے اخراجات بیان کرتے ہوئے کہا۔

باہر اسکول کی دیوار پر موٹے موٹے لفظوں میں لکھا ہوا تھا۔

"اسکول کا سب سے بڑا مقصد دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کا خصوصی اہتمام، ناظرہ، حفظ قرآن بذریعہ علما اور قاری صاحبان کمپیوٹر کی تعلیم بالکل مفت"۔

"کمزور" میں اونچے محلات میں اور بڑی بڑی گاڑیوں میں پھرنے والے ان سفید پوشوں کی ذہنی و فکری پسماندگی دکھائی ہے جو بظاہر بڑی شاہانہ انداز میں زندگی گزارتے ہیں۔ کسی شاعر نے کہا ہے:

ہر مکین اندر سے تھا ٹوٹا ہوا

گو مکان باہر سے عالی شان تھا

ڈاکٹر فیروز بھوک سے نڈھال ایک بھکاری کو پانچ روپے کے چنے تک نہیں کھلاتا لیکن جب اس کی گاڑی نالے میں پھنس جاتی ہے اور وہی ڈاکٹر اس بچے اور اس کے باپ کو دھکا لگانے کی درخواست کرتا ہے اور بچہ باپ سے شکایت کرتا ہے تو باپ یوں جواب دیتا ہے:۔

"کوئی بات نہیں بیٹے، اب تو یہ ہمارے دروازے پر سلام کرنے آیا تھا اور میں نے اس کے ایک ہی سوال پر اس کا مسئلہ حل کر ڈالا" اس آدمی نے بچے کو مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

بیٹے یہ مضبوط اور مستحکم کوٹھیوں میں رہنے والے لوگ درحقیقت اندر سے بونے ہوتے ہیں۔ یہ چھوٹے اور کمزور دل کے مالک ہوتے ہیں بیٹے۔ ان سے گلہ نہیں کرنا چاہیئے"۔

کہانی "قصور کس کا؟" میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہمیں بغیر تحقیق کے کسی پر الزام لگانے سے دریغ کرنا چاہیئے کیونکہ یہ گناہ کبیرہ ہے اور اس سے فساد پھیلتا ہے۔ "ایک ہی ماں کے بیٹے" میں اہل وطن پائی جانے والی لسانی گروہی  اور علاقائی تعصب کے مضر اثرات کی کارفرمائی اور ان کی تباہی کا ذکر موجود ہے جس کی وجہ سے وطن عزیز کی بنیادیں کمزور ہورہی ہیں۔ ان کی دیگر اہم تحریروں میں "عاصم اور پھول کہانی" بلاعنوان، روز اسی طرح تو ہوتا ہے" شامل ہیں۔ شیرازی کے ننھے ذہن نے ننھے قلم کے ساتھ اپنی کہانیوں میں مقصدیت اور معنویت کے علاوہ پس منظر اور پیش منظر بھی عمدہ انداز میں بتایا اور دکھایا ہے۔ ایک کہانی میں چودہ اگست کے دن کی عکاسی فطری اسلوب میں یوں کی گئی ہے۔

آج چودہ اگست کا دن تھا۔ آج روشنیوں کا دن تھا۔ لوگوں نے آج سارے شہر کو دلہن کی طرح سجا دیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شام ہوچکی تھی، گلی کی سارے دیواروں، چند ایک درختوں پر قمقمے جگ مگا رہے تھے۔ ہواوں میں خوشبو تھی۔ فضاوں میں قہقہے تھے۔ گلی میں لڑکے بالے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ رہے تھے۔ ہر طرف خوشی و مسرت کا سا سماں تھا، ہر کوئی خوشی و مسرت کا سا سماں تھا۔ ہر کوئی خوشی سے گنگناتا جا رہا تھا، کئی گھروں سے ملتی نغموں کی آوازیں آرہی تھیں"۔

شیرازی کی ایک اور خوبی جس نے اُنہیں اپنے دوسرے ہم عصروں میں انفرادیت عطا کی ہے وہ ان کی بچوں کے لئے لکھی گئی نظمیں ہیں۔ یہ نظمیں وقتاً فوقتاً بچوں کے جرائد میں چھپی ہیں۔ جن سے ان کی شاعرانہ مہارت کی عکاسی ہوتی ہے۔ ایک نظم "جی چاہتا ہے" میں شاعر کا وہ طنز دیکھیے جو انہوں نے اپنے آپ پر کیا ہے لیکن درحقیقت سارے بچوں کی معصوم شرارتوں کو بیان کیا ہے۔

پٹاخے چلانے کو جی چاہتا ہے

ذرا مار کھانے کو جی چاہتا ہے

شرارت سے بنتے ہیں سب کام میرے

نہ رغبت ہے کوئی کتابوں سے مجھ کو

نہ اسکول جانے کو جی چاہتا ہے

پڑھائی کی بابت کوئی ڈانٹ سن کر

بہانے بنانے کو جی چاہتا ہے

"باپ بیٹا اور ان کا گدھا" میں اس حکایت کو منظوم کیا گیا ہے کہ انسان چاہے کچھ بھی کرلے دنیا والوں کو خوش کرنا کسی بھی طور ممکن ہے۔ "بھیڑ کا بچہ اور بھیڑیا" میں بھی خوئے بدر ابہانہ بسیار" والی کہانی منظوم صورت میں پیش کرکے نونہالوں کی دلچسپی کا سامان کیا گیا ہے۔ لیکن شیرازی نے آقائے دو جہاں حضرت محمد کے حضور جو نذرانہ عقیدت پیش کیا ہے اس میں اعلٰی نعت خوانی کی تمام اعلٰی شاعرانہ صفات ملتی ہیں۔

دولت ہوئی نصیب نہ عیش وہ طرب ملا

صد شکر مجھ کو عشق رسول عرب ملا

یہ واقعہ خود اپنی جگہ بے مثال ہے

انسانیت کو ہادی امی لقب ملا

ان کے کرم سے ان کی نوازش سے اے شاہد میری نوائے درد کو سفر عرب ملا

تحریر: گوہر رحمان نوید


متعلقہ تحریریں :

صوبہ سرحد میں بچوں کا ادب (دوسرا حصّہ)

صوبہ سرحد میں بچوں کا ادب

بلاد اسلامیہ

بانگ درا کے حصّہ دوم کی غزل نمبر (7)

بانگ درا کے حصّہ دوم کی غزل نمبر (6)