• صارفین کی تعداد :
  • 643
  • 4/23/2011
  • تاريخ :

کچھ سوال آر ٹی آئی سے جڑے

انڈیا

انفارمیشن کون دے گا؟

سبھی سرکاری محکموں میں ایک یا ایک سے زیادہ افسران کو پبلک انفارمیشن آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔  آپ کو اپنی درخواست پبلک انفارمیشن آفیسر کے پاس ہی جمع کرنی ہے۔ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ذریعہ مانگی گئی اطلاع محکمہ کی مختلف شاخوں سے اکٹھا کرکے آپ تک پہنچائیں۔ اس کے علاوہ بہت سے افسران اسسٹنٹ پبلک انفارمیشن آفیسر مقرر کیے گئے ہیں۔

پبلک انفارمیشن آفیسر کے پتہ کی اطلاع کیسے ملے گی؟

یہ پتہ لگانے کے بعد کہ آپ کو کس محکمے سے اطلاع لینی ہے، پبلک انفارمیشن آفیسرکے  حوالے سے اطلاع اسی محکمے سے مانگی جا سکتی ہے، لیکن اگر آپ اس محکمے میں نہیں جا پا رہے ہیں یا محکمہ آپ کو اطلاع نہیں دے رہا ہے توآپ اپنی درخواست اس پتے پر بھیج سکتے ہیں۔ پبلک انفارمیشن آفیس، بذریعہ محکمۂ سربراہ (محکمے کا نام اور پتہ) یہ اس محکمے کے سربراہ کی ذمہ داری ہوگی کہ اسے متعلقہ پبلک انفارمیشن آفیسر کے پاس پہنچائے۔

کیا کوئی پبلک انفارمیشن آفیسر میری درخواست  یہ کہہ کر نا منظور کر سکتا ہے کہ درخواست یا اس کا کوئی حصہ اس سے متعلق نہیں ہے؟

نہیں وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ آرٹیکل (6) کے مطابق وہ متعلقہ محکمے کے پاس آپ کی درخواست کو بھیجنے اور اس کے بارے میں آپ کو مطلع کرنے کا پابند ہے۔

اگر کسی محکمے نے پبلک انفارمیشن آفیسر کی تقرری نہ کی ہو تو کیا کرنا چاہئے؟

اپنی درخواست پبلک انفارمیشن آفیسر کے ذریعہ محکمے کے سربراہ کے نام سے طے شدہ فیس کے ساتھ متعلقہ سرکاری افسر کو بھیج دیں۔آپ آرٹیکل 18کے تحت ریاستی انفارمیشن کمیشن سے بھی شکایت کر سکتے ہیں۔پبلک انفارمیشن کے پاس ایسے افسر پر 25000 روپے جرمانہ لگانے کا اختیار ہے، جس نے آپ کی درخواست لینے سے انکار کیا ہے۔ شکایت کرنے کے لیے آپ کوصرف انفارمیشن کمیشن کوایک جنرل خط لکھ کر یہ بتانا ہے کہ فلاں محکمے نے ابھی تک پبلک انفارمیشن آفیسر کی تقرری نہیں کی ہے اور اس پر جرمانہ لگنا چاہئے۔

کیا پبلک انفارمیشن آفیسر اطلاع دینے سے منع کر سکتا ہے؟

پبلک انفارمیشن آفیسر آر ٹی آئی قانون کے آرٹیکل 8 میں بتائے گئے موضوعات سے متعلق معلومات دینے سے منع کر سکتا ہے۔ ان میں غیر ممالک سے موصول خفیہ اطلاعات، دفاعی، سائنسی یا ملک کے اقتصادی مفادات سے وابستہ معاملات کی اطلاعات شامل ہیں۔ ایکٹ کے دوسرے باب میں ایسی 18ایجنسیوں کی فہرست دی گئی ہے، جہاں اطلاع کا حق نافذ نہیں ہوتاہے۔ پھر بھی اگر اطلاع بدعنوانی کے الزامات یا حقوق انسانی کی پامالی سے وابستہ ہیں تو ان محکموں کی بھی اطلاع دینی پڑے گی۔

کیا اس کے لیے فیس بھی دینی ہوگی؟

ہاں، اس کے لیے فیس مندرجہ ذیل ہے۔

فیس: 10 روپے

اطلاع دینے کا خرچ: 2 روپے فی صفحہ

دستاویزات کی جانچ کرنے کی فیس: جانچ کے پہلے گھنٹے کی کوئی فیس نہیں، لیکن اس کے بعد ہر گھنٹے کی پانچ روپے فیس دینی ہوگی۔ یہ فیس مرکز و کئی ریاستوں کے لیے الگ الگ ہے۔

فیس کیسے جمع کرائی جا سکتی ہے؟

درخواست فیس کے لیے ہر ریاست کا اپنا الگ الگ انتظام ہے۔ عام طور پر آپ اپنی فیس مندرجہ ذیل طریقوں سے جمع کر سکتے ہیں۔

خود نقد جمع کراکے (اس کی رسید لینا نہ بھولیں)، ڈیمانڈ ڈرافٹ، بھارتیہ پوسٹل آرڈر، منی آرڈر سے (کچھ ریاستوں میں نافذ)، بینکرس چیک سے، مرکزی حکومت سے متعلق معاملوں میں اسے اکائونٹ آفیسر کے نام ہونا چاہئے۔کچھ ریاستی حکومتوں نے اس کے لیے متعینہ اکائونٹس کھولے ہیں۔ آپ کو اس اکائونٹ میں فیس جمع کرنی ہوتی ہے۔اس کے لیے اسٹیٹ بینک کی کسی بھی برانچ میں نقد جمع کرکے اس کی رسید درخواست فارم کے ساتھ نتھی کرنی ہوتی ہے یا آپ اس کھاتے کے فیور میںپوسٹل آرڈر یا ڈی ڈی بھی درخواست فارم کے ساتھ منسلک کر سکتے ہیں۔کچھ ریاستوں میں آپ درخواست فارم کے ساتھ معینہ قیمت کے کورٹ اسٹامپ بھی لگا سکتے ہیں۔

درخواست فارم کیسے جمع کریں؟

آپ ذاتی طور پر، خود پبلک انفارمیشن آفیسر یا اسسٹنٹ پبلک انفارمیشن آفیسر کے پاس جاکر یا کسی کو بھیج کر درخواست فارم جمع کر سکتے ہیں۔آپ اسے پبلک انفارمیشن آفیسر یا اسسٹنٹ پبلک انفارمیشن آفیسر کے پتے پر بذریعہ ڈاک بھیج سکتے ہیں۔وہاں جا کر جب آپ آر ٹی آئی کائونٹر پر درخواست فارم جمع کریں گے تو وہ آپ کو رسید اور ایکنالجمنٹ دیں گے اور یہ اس ڈاک خانہ کی ذمہ داری ہے کہ طے وقت میں آپ کی درخواست متعلقہ پبلک انفارمیشن آفیسر تک پہنچ جائے۔

کیا اطلاع حاصل کرنے کا کوئی وقت متعین ہے؟

ہاں، اگر آپ نے پبلک انفارمیشن آفیسر کے پاس درخواست فارم جمع کر دیا ہے توآپ کو ہر حال میں 30 روز کے اندر اطلاع مل جانی چاہئے۔ اگر آپ نے درخواست اسسٹنٹ پبلک انفارمیشن آفیسر کے پاس ڈالی ہے تو یہ وقت 30 روز کا ہے۔ اگر اطلاع کسی شخص کی زندگی اور آزادی کو متاثر کر سکتی ہے تو اطلاع 48 گھنٹوں کے اندر مہیا کرائی جاتی ہے۔ دوسرے باب میں شامل تنظیموں کے لیے یہ اطلاع  45 روز میں اور تیسرے باب میں40 روز کے اندر فراہم کرانے کا التزام ہے۔

صالحا رضوی