• صارفین کی تعداد :
  • 987
  • 4/6/2011
  • تاريخ :

اسلام میں ایسا کوئی جہاد نہیں جو خودکش بمبار بننے کی حمایت کرتا ہو

ڈاکٹر محمد طاہر القادری

اسلام میں ایسا کوئی جہاد نہیں جو خودکش بمبار بننے کی حمایت کرتا ہو، نام نہاد جہادی مسلم و غیرمسلم دونوں کے مشترکہ دشمن ہیں،طاہر القادری

منہاج القران کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ اسلام امن و محبت، غریب پروری، باہمی گفت و شنید، ایک دوسرے کے معاملات کو سمجھنے، برداشت کرنے اور انسان کے عزت و احترام و اتحاد کا سبق دیتا ہے۔ اسلام کے نام پر قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنا اور اولیائے کرام کے مزارات کو نشانہ بنانا ظلم کی انتہا ہے جبکہ اسلام تو غیر مسلموں کے اسلاف کی نشانیوں کو بھی مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں کہیں بھی ایسے جہاد کا ذکر نہیں جو  بےگناہوں کی گردنیں کاٹنے اور خودکش بمبار بننے کی حمایت کرتا ہو، نام نہاد جہادی مسلم و غیر مسلم دونوں کے مشترکہ دشمن ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے درمیان فساد کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام امن کا دین ہے، آج کچھ عناصر اس میں دہشت گردی کا شر اور فساد بپا کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر محمد طاہر القادری گزشتہ روز منہاج یونیورسٹی میں ”اسلام کے تصور جہاد“ کے حوالے سے ہونے والی ایک فکری نشست میں کینیڈا سے ٹیلی فونک گفتگو کر رہے تھے۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں مسلمان اور غیرمسلم دونوں طبقات جہاد کے معنی پر غلط فہمی کا شکار ہیں۔

اس کے لئے اہل علم مسلم سکالرز کو گھروں سے نکل کر اپنوں کا محاسبہ کرنا ہو گا جبکہ غیروں کو علمی انداز میں جہاد کے حقیقی معنی سے روشناس کرانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں 35 مقامات پر جہاد کا ذکر ہے اور نبی کریم ص کے ارشادات کی روشنی میں جہاد کے پانچ مراحل ہیں جن میں روحانی، علمی، معاشرتی، سیاسی، سماجی اور دفاعی جہاد شامل ہے، مگر نام نہاد جہادی پہلے چار مراحل کو نظر انداز کر کے اپنے انفرادی مفادات کی خاطر اسلام دشمنی میں آخری مرحلے کو پکڑ کر بیٹھے ہیں۔

اسلام ٹائمز