• صارفین کی تعداد :
  • 973
  • 1/10/2011
  • تاريخ :

 تاریخی واقعات بیان کرنا صحابہ کی توہین نہیں ہے

حضرت آیت الله مکارم شیرازی

حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے کہا ہے کہ تاریخی واقعات و مسائل کو بھلایا نہیں جا سکتا اور یہ مسائل بیان کرنا صحابہ کی توہین نہیں ہے۔

ابنا: آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اہل سنت کے بعض علماء کی طرف سے ایرانی ٹیلی ویژن کے کچھ پروگراموں کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب کی اہانت قرار دیئے جانے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض تاریخی واقعات کا بیان ہے اور معترض علماء کی یہ سوچ درست نہیں ہے۔

مرجع تقلید حضرت آیت الله العظمی ناصر مکارم شیرازی  نے کل اپنے درس خارج فقہ میں طلاب و علماء کی کثیر تعداد سے سے خطاب کرتے ہوئے اہل سنت کے بعض علماء کی طرف سے اسلامی جمہوریہ ایران کے ٹیلی ویژن کے کچھ پروگراموں پر تنقید کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مصر کے بعض علماء سمیت ایران کے بعض علاقوں کے اہل سنت بھائیوں نے ٹیلی ویژن کے بعض تاریخی پروگراموں کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب کی توہین قرار دیا ہے جبکہ ان لوگوں کو اس حقیقت میں غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اہانت ایک الگ مسئلہ ہے اور تاریخی روایت دوسرا مسئلہ ہے اور ان دونوں میں بنیادی فرق ہے۔

حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے واضح کیا کہ کیا کوئی اس حقیقت سے انکار کرسکتا ہے کہ تاریخ اسلام میں ایک جنگ ہوئی ہے جس کا نام "جنگ جمل" ہے؟ اور کیا کسی کو شک اس میں شک ہے کہ طلحہ اور زبیر نے اپنے امام کی بیعت توڑ دی؟ اور کیا کسی کو اس میں کوئی شک ہے کہ بڑی تعداد میں مسلمان اس جنگ میں مارے گئے؟

چنانچہ یہ سب تاریخی روایت ہے کہ اور اس کو بیان کرنے میں کوئی مسئلہ ہیں ہے۔

انھوں نے اس بحث کو جاری رکھتے ہوئے وضاحت کی: کیا کسی کو شک ہے کہ اسلام میں ایک جنگ جنگ صفین کے نام سے بھی ہوئی؟

کیا کسی کو اس میں شک ہے کہ معاویہ نے اپنے زمانے کے امام کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے انکار کیا؟ اور ہاں!

کیا آپ لوگ کہتے ہیں کہ تاریخ بیان نہ کی جائے اور تاریخی واقعات کو بیان نہ کیا جائے؟

یت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے زور دے کر کہا کا تاریخ سے کبھی بھی آنکھیں بند نہیں کرنی چا ہیئں کیونکہ تحقیر ایک مسئلہ ہے اور تحقیق دوسرا مسئلہ اور کبھی بھی ان دو چیزوں کو مخلوط نہ کیا جائے۔