• صارفین کی تعداد :
  • 2299
  • 12/13/2010
  • تاريخ :

خطرہ حرم اور حجاب سے ہے (حصّہ دوّم)

حجاب

عام طور پر سعودی عرب،ایران پر یہ تنقید کی جاتی ہے کہ یہاں خواتین کو بزور حجاب کا پابند بنایا جاتا ہے۔تنقید کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ وہ ممالک ہیں جہاں اسلام کی حیثیت سرکاری مذہب کی ہے، جہاں حاکمیت اعلیٰ اللہ رب العالمین کی تسلیم کی جاتی ہے۔البتہ جواز تو سیکولر مغربی ممالک کے اندر حجاب پر پابندی عائد کرنے کا سمجھ نہیں آتا۔ گویا ان ممالک کے اندر مذہب تو ریاست کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتا، مگر ریاست کو مذہب کے معاملات میں مداخلت کرنے کا پورا اختیار ہے۔

اگر یہی سیکولر ازم کا اصل مفہوم ہے تو بنیادی انسانی حقوق اور شخصی آزادی کی خیر منایئے!اصلی بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں حجاب مخالف پروپیگنڈہ اسلام کے خلاف روایتی بغض اور تعصب کی بنا پر پھیلایا جا رہا ہے۔ جس پر پردہ ڈالنے کے لیے رنگ برنگ توجیہات پیش کی جاتی ہیں۔

یوں تو برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر،وزیر خارجہ جیک اسٹرا،اٹلی کے وزیراعظم رومانو پیراڈی بھی خاصی دلچسپ باتیں کرتے رہے ہیں،مگر خاص طور پر فرانس کے صدر نکولس سرکوزی ہمیشہ اپنے قد کے مطابق بات کرتے ہیں۔کبھی تو وہ کہتے ہیں کہ حجاب ایک مذہبی علامت ہے،جس سے فرانس کی سیکولر شناخت متاثر ہوتی ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ یہ کوئی مذہبی علامت نہیں ہے بلکہ خواتین کو نیچا دکھانے کی سازش ہے اور یہ کہ برقع اور حجاب آمرانہ اقدام،نسل پرستی اور متعصب ذہنیت کا آئینہ دار ہے۔انہوں نے بڑی حسین منطق یہ بھی ایجاد کی کہ: Seeing is believing, when a woman looks liberated, She must be liberated.گویا انہوں نے کہا کہ برقع پوش خواتین کسی قیدی کی طرح نظر آتی ہیں۔

اس طرح کی باتیں کرکے صدر سرکوزی نے اپنا قد مزید چھوٹا کر لیا ہے۔ کیوں کہ حجاب کے خلاف ان کا بیان کردہ کوئی ایک جواز بھی ٹھوس نہیں ہے، جبکہ مسلمان خواتین کے لیے پردے کے حق میں بس ایک جواز ہی کافی ہے کہ حجاب ”حکم الٰہی“ ہے۔

ویسے بہتر ہوتا اگر مسٹر سرکوزی حجاب کو ایک مذہبی علامت کہہ کر خاموش ہو جاتے،لیکن حجاب کو خواتین کو نیچا دکھانے کی سازش قرار دینا ان کی کج فہمی کا نکتہ کمال ہے۔ اس طرح کی سوچ اس شخص کی فطری خباثت کی آئینہ دار ہے، جس نے خود فرانس کی ایک ٹاپ ماڈل کے ساتھ شادی کی،جو اپنی بے ہودگی میں بڑا نام کما چکی ہے۔

فرانس کی خاتون اوّل کی بے ہودہ ترین تصاویر فرانس کے شاپنگ مالز، ٹی شرٹس اور شاپنگ بیگز پر چھپتی رہیں۔

 ان کی اشاعت پر بعد میں پابندی بھی لگا دی گئی۔ یہاں ان نامناسب حوالوں پر بات کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد صرف یہ نکتہ نکالنا ہے کہ ”کیا اصولاً ان تصاویر پر پابندی اور اسلامی حجاب پر پابندی کا آپس میں کوئی جواز بنتا ہے؟“ اگر پہلا اقدام درست ہے تو دوسرا لازماً غلط تسلیم کیا جانا چاہیے۔حجاب کو جبر،قدامت پسندی اور انتہا پسندی کی علامت قرار دینے والے یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے ہی عورت کے مقام کو زمین سے اٹھا کر آسمان کی رفعتوں تک پہنچا دیا تھا جبکہ مغرب کے تہذیبی انحطاط کا عالم یہ تھا کہ آج سے صرف دو سو سال پہلے تک انسانی گوشت لندن کے بازاروں میں فروخت ہوا کرتا تھا اور ابھی انیسویں صدی تک یورپ کی منڈیوں میں غلاموں کی تجارت کا کاروبار عروج پر تھا۔

اسلامی تہذیب کا امتیاز ہی یہ ہے کہ یہ چودہ سو سال پہلے بھی جدید تھا اور آج بھی۔ اس تمام عرصے میں اسلام نے بے انتہا نشیب و فراز طے کیے، مگر حرم اور حجاب پر کبھی آنچ نہیں آنے دی۔ اس لیے کہ یہی حرم اور حجاب اسلامی تہذیب کی آخری پناہ گاہ ہے۔ اسلام کے خاندانی نظام اور احکام حجاب کا مقصود یہ ہے کہ اگر شیطانی تہذیب پورے معاشرے پر بھی مسلط ہو جائے،تو کم از کم وہ آغوش جس میں ایک مسلمان بچہ پرورش پاتا ہے، وہ خود عفت و پاکیزگی کا گہوارہ ہو اور جس ماحول میں ایک نسل اپنی تربیت کی بنیادی منزلیں طے کرتی ہے، وہ حرم تقویٰ کی بنیاد پر قائم ہو۔ آج مغرب کو اصل خطرہ ایک حجاب نما کپڑے یا کسی چار دیواری سے نہیں، بلکہ اس غیور نسل سے در پیش ہے، جو اس کی زیر سایہ پرورش پانے والی ہے۔

بشکریہ  روزنامہ جسارت