• صارفین کی تعداد :
  • 963
  • 12/5/2010
  • تاريخ :

سعودیوں نے ایران کا ایٹمی پروگرام بند کرانے کیلئے چین سے تعاون طلب کیا

سعودی

وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب نے ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کیلئے چین سے تعاون طلب کیا۔

ابنا: چین کا موقف تھا کہ وہ ایران کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری قبول نہیں کرےگا۔

یہ بات 26جنوری 2010 کو سعودی عرب کے نائب وزیرخارجہ شہزادہ ترکی آل سعود نے امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار جیفری فیلٹ میں سے ملاقات میں بتائی۔

شہزادہ ترکی کے مطابق سعودی عرب کو یقین ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔

اس کے علاوہ یمن سے متعلق ایران کے کردار پر بھی سعودی عرب کو تشویش ہے ۔ شہزادہ ترکی نے کہا کہ چین کے وزیر خارجہ نے سترہ جنوری کو سعودی عرب کا دورہ کیا۔

اس موقع پر سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے ان سے کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کیلئے چین کو عالمی برادری کے قریبی اشتراک سے کام کرنا چاہئے کیونکہ یہ ایک حساس مسئلہ ہے۔

شہزادہ ترکی کےمطابق سعودی عرب نے یہ بھی واضح کیا کہ چین ایران کو ایٹمی ہتھیار کی تیاری سے روکنے کی کوششوں میں ساتھ دے تو سعودی حکومت انرجی سکیورٹی اور تجارت سے متعلق چین کے خدشات دور کرنے پر تیار ہے۔

اس پر چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک ایران کی طرف سے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری قبول نہیں کریگا۔ 

 

بشکریه از روزنامه جنگ