• صارفین کی تعداد :
  • 684
  • 12/4/2010
  • تاريخ :

پنجاب میں شیعیان حید کرار (ع) کے خلاف جھوٹے مقدمات کا تدارک کیا جائے

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ۱۳ رکنی وفد نے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما علامہ محمد امین شہیدی کی سربراہی میں وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف سے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ملاقات کی ہے۔

ابنا: موصولہ اطلاعات کے مطابق ملاقات میں حکومتی اراکین میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ اور سینئر وزیر سردار ذوالفقار کھوسہ جبکہ پنجاب انتظامیہ کی طرف سے چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری، آئی ۔جی پنجاب اور دیگر اعلی عہدیداران شامل  تھے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ امین شہیدی نے ملاقات کے دوران گفت گو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی دہشت گرد جماعت کے سربراہ کے ساتھ عوامی اجتماع میں شرکت نے شیعہ قوم کے اندر شدید غم وغصے اور مایوسی پیدا کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ شیعہ قوم کے اس غم وغصے کو دور کرنے کےلیے پنجاب حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی عملی اقدامات نہیں ہوا، اور نہ ہی ابھی تک رانا ثناء نے اپنے اس اقدام پر پشیمانی کا اظہار کیا ہے۔

وزیر اعلی پنجاب نے کہا کہ وزیر قانون پہلے ہی پشیمان ہیں ان کو مزید پشیمان نہ کریں۔

محمد امین شہیدی نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے شیعیان حیدر کرار علیہ السلام کے حوالے سے متعصبانہ رویہ روا رکھا ہوا ہے جسے بدلنے کی ضرورت ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے بےگناہ شیعہ شخصیات کو شیڈول فور میں پھنسا کر ان کی نقل وحرکت پر بے جا پابندیاں لگا رکھی ہیں؛ جبکہ شیعہ مخالف گروہ کے وہ افراد جو پہلے سے شیڈول فور میں تھے ان کو نکالا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے اور انتظامیہ ہمارے جس فرد سے نالاں ہوتی ہے اس پر مقدمہ کرنے کے لیے مقامی سطح پر کسی بندے کو مدعی بناتی ہے اور ہمارے لوگوں کے نام پر سِم نکلوا کر غلط قسم کے میسج کرکے ہمارے لوگوں پر توہین رسالت کے مقدمات بنادیئے جاتے ہیں۔

رہنما مجلس وحدت مسلمین کا کہنا تھا کہ دہشت گرد کون ہیں؟ کہاں سے آتے ہیں؟ کون پناہ دیتا ہے یہ باتیں انتظامیہ سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔

دہشت گرد بھی مشخص ہیں اور ان کے سرپرست بھی؛ ان ہر آہنی ہاتھ ڈالا جائے اور اگر حکومت پنجاب واقعاً مخلص ہے اور دہشت گردی ختم کرنے کے لیے سنجیدہ ہے تو دہشت گردوں کے خلاف عملی اقدام کرنے سے کیوں گریزاں ہے؟ اب تک ہزاروں کی تعداد میں شیعہ اکابرین، ڈاکٹرز اور انجینئرز کا خون بہایا گیا اور اب تک بہایا جارہا ہے۔ کیا کسی قاتل کو سزا ہوئی؟ کوئی قاتل کیفر کردار تک پہنچا؟

ملاقات کے دوران مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں نے جو مطالبات حکومت کے سامنے رکھے ہیں وہ کچھ یوں ہیں:

۱۔ محرم الحرام میں شیعہ علماء کرام وذاکرین پر بےجا پابندیاں ختم کی جائیں۔

۲۔ پنجاب انتظامیہ کی طرف سے بے گناہ شیعہ افراد پر شیڈول فور کا اطلاق ختم کیا جائے۔

۳۔ بے بنیاد جھوٹے مقدمات ختم کیے جائیں۔

4۔ توہین رسالت قانون کا غلط استعمال روکا جائے۔

۵۔ حکومتی اراکین کالعدم تنظیموں کی سرپرستی اور ان کے اجتماعات میں شرکت کرنا بند کریں۔

۶۔ ماہ محرم الحرام کے حوالے سے عزاداری سید الشہداء (ع) کے مواقع پر سیکورٹی کا سخت انتظام کیا جائے۔

۷۔ عزاداری سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کے لیے نئے جلوسوں کی اجازت دی جائے۔

۸۔ شہروں میں بڑھتی ہوئی نئی آبادیوں کے پیش نظر ان آبادیوں میں شیعہ مساجد، مدارس اور امام بارگاہوں کے لیے پلاٹ مختص کیے جائیں۔

۹۔ مولانا سید اظہر عباس کاظمی سیکرٹری جنرل جھنگ  پر قائم جھوٹے مقدمات فی الفور ختم کیے جائیں۔

۱۰۔ D.P.O جھنگ اور D.P.O اٹک کے شیعہ مخالفت پر مبنی متعصبانہ اقدامات کا نوٹس لیا جائے۔

۱۱۔ دربار بی بی پاکدامن کو زائرین کے لیے چوبیس گھنٹے کھلا رکھنے کے احکامات جاری کئے جائیں۔

۱۲۔ امامبارگاہ رشی بھون کا دیرینہ مسئلہ حل کیا جائے۔

۱۳۔ رحمانپورہ میں جلوس عزاداری کی برآمدگی کی اجازت دی جائے اور اس کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

۱۴۔ مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے مجالس و جلوس کی محافظت کے لیے قائم شعبہ تحفظ عزاداری کے تحت وحدت اسکاؤٹس کی تربیت کے لیے حکومتی سیکورٹی اداروں کو احکامات جاری کئے جائیں۔

۱۵۔ پنجاب بھر میں شیعیان علی علیہ السلام کو درپیش مسائل اور مشکلات کے حل کے لیے مجلس وحدت مسلمین اور حکومتی اراکین پر مشتمل صوبائی سطح پر مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائی تاکہ مسائل کا فوری حل ممکن ہوسکے۔

۱۶۔ سانحہ کربلائے گامے شاہ میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

ملاقات میں مجلس وحدت مسلمین کے وفد میں موالانا ابوذر مہدوی، مولانا محمد اقبال کامرانی، مولانا سید اظہر عباس کاظمی، الحاج حیدر علی مرزا سابق مشیر وزیراعظم، مولانا گلفام حسین ہاشمی، سردار شجاع محمد خان (سابق ایم این اے خوشاب)، سید اخلاق الحسن بخاری، سید اسد عباس نقوی، سید عاشق حسین بخاری، سید حر حیدر (مرکزی نمائندہ آئی ۔ ایس ۔ او)، سید حسنین جعفر زیدی، افسر حسین خان اور دیگر شامل تھے۔