• صارفین کی تعداد :
  • 1348
  • 10/25/2010
  • تاريخ :

پاکپتن میں بابا فرید شکر گنج کی درگاہ کے باہر دھماکے میں 7 افراد ہلاک

پاکستان کا پرچم

پاک پتن میں درگاہ حضرت بابا فرید کے قریب دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 7ہوگئی ہے۔

امدادی ذرائع کے مطابق دھماکا درگاہ حضرت بابا فرید کے مزار کے مشرقی دروازے کے قریب نماز فجر کے بعدہوا جس کے نتیجے 5افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ میں خواتین سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے جنہیں ڈی ایچ کیواسپتال منتقل کیاگیا،جہاں ایک خاتون زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی۔

 پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر جائے وقوع کا محاصرہ کرلیا۔آر پی او کے مطابق دھماکا خیز مواد دودھ کے ڈرم میں رکھا گیا تھا جو زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔دھماکے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا طاری ہے۔

بتایا گیا ہے کہ پیر کی صبح چھ بجکر بیس منٹ پر موٹرسائیکل پر سوار دو افراد مزار کے شرقی گیٹ کے قریب پہنچے اور وہاں موٹر سائیکل کھڑی کرکے چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس موٹر سائیکل پر دودھ کی دو بالٹیاں ٹنگی ہوئی تھیں، کچھ دیر بعد موٹرسائیکل دھماکے سے پھٹ گئی.

ڈی پی او محمد کاشف کا کہنا تھا کہ دھماکے سے اب تک چھ افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے انہوں نے کہا کہ دھماکے کے بعد مزار کو بندکردیا گیا اور مزار کے اندر موجود لوگوں کو باہر نکال کر ساہیوال سے بم ڈسپوزل سکواڈ کو طلب کیا گیا انہوں نے کہا کہ جس گیٹ پر یہ دھماکہ ہوا وہ زائرین کے آنے جانے کیلئے استعمال ہوتا تھا ان کا کہنا تھا کہ جب دھماکہ ہوا اس وقت لوگ نماز فجر کی ادائیگی کے بعد مزار کے اندر موجود تھے انہوں نے کہا کہ زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیاہے جبکہ واقعہ کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا انہوں نے کہا کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کرلئے گئے ہیں ۔

علاوہ ازیں پاک پتن کے ایڈمنسٹریٹر کا کہنا تھا کہ مزار پر حملے کی گزشتہ دو ماہ سے دھمکیاں مل رہی تھیں انہوں نے کہا کہ مزار کی سکیورٹی کیلئے دس سے زائد خفیہ کیمرے نصب کئے گئے تھے جبکہ مزاروں پر حملوں کے بعد بابا فرید  کے مزار کی بھی سکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی تھی اور یہی وجہ ہے کہ دہشتگرد مزار کے اندر داخل نہیں ہوسکے ان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں جاں بحق ہونے والے اکثر مقامی لوگ ہیں۔

یہ دوسرا موقع ہے کہ جب پنجاب میں کسی درگار پر دھماکہ ہوا ہے اس سے پہلے لاہور میں داتا گنج بخش کی درگار پر خودکش حملہ ہوا تھا.

پاکپتن میں حضرت بابا فریدالدین گنج شکر کے مزار پر حملے کے بعد ملک بھر میں سیکورٹی انتظامات سخت کردیئے گئے۔ کراچی میں مزاروں پر سیکورٹی اہلکار تعینات ہیں۔ درگاہوں پر آنے والے افراد کی تلاشی لی جارہی ہے۔ جبکہ درگاہوں کی سیکورٹی کیلئے حکومت کی جانب سے مزید اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر اضلاع میں سیکڑوں مزارات موجود ہیں۔ تاہم وہاں سیکورٹی اہلکار تعینات نہیں ہیں۔ درگاہوں کے گدی نشین اور زائرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مزاروں پر سیکورٹی اہلکار تعینات کئے جائیں۔ ادھر پشاور سمیت صوبہ پختونخواہ کے دیگر اضلاع میں اپنی مدد آپ کے تحت سیکورٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔ مزارات پر نجی سیکورٹی کمپنیوں کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے پاک پتن میں حضرت بابر فریدگنج شکر کے مزار دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو منطقی انجام پر پہنچا کر دم لیا جائے گا۔

صدر اور وزیراعظم نے اپنے مذمتی بیان میں دھماکے کے متاثرین سے مکمل ہمدردی کا اظہار بھی کیا ہے ، وزیراعظم نے اس واقعہ کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ طلب کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دہشت گردوں کی نظر میں کسی بھی مذہب کا احترام موجود نہیں ہے