• صارفین کی تعداد :
  • 2336
  • 5/16/2010
  • تاريخ :

فلسطین، اقبال کی نظر میں (حصّہ دوّم)

فلسطین، اقبال کی نظر میں

اگرچہ عثمانی سلطنت اس دور میں اسلام کے ایک ظاہری پوست کی حامل تھی جبکہ تفرقہ سازیوں اور استعمار زدگیوں نے اس کے بعد مسلمانوں کی حالت اور بھی بدتر کردی۔ علامہ اقبال نے عالم اسلام کی پہلی اور بعد کی حالت سے متعلق اپنی پریشانی اور اضطراب کا اظہار ہر کوچہ و خیابان میں کیا ان کا کہنا تھا:

 

اقبال کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے
ہر ملت مظلوم کا یورپ ہے خریدار
یہ پیر کلیسا کی کرامت ہے کہ اس نے
بجلی کے چراغوں سے منور کیے افکار
جلتا ہے مگر شام و فلسطین پہ مرا دل
تدبیر سے کُھلتا نہیں یہ عقدہ دشوار
ترکان جفا پیشہ کے پنجے سے نکل کر
بیچارے ہیں تہذیب کے پھندے میں گرفتار

 

ایک اور مقام پر شاہان وقت میں سے ایک کی غداری کا گلہ کرتے ہیں کہ اس نے مغربی استعمار سے مل کر عثمانی ترکوں کے خلاف سازش کی:

 

بیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفی(ص)
خاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوش
آگ ہے، اولادِ ابراہیم(ع) ہے، نمرود ہے!
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے؟

 

  اقبال نے عوام کے لیے ایجاد کیے گئے اس پرفریب نظریے کو رد کردیا کہ چونکہ یہودی کسی قدیم زمانے میں سالہا سال سرزمین فلسطین میں بود و باش رکھتے تھے اور پھر مدتوں پہلے اسے ترک کردیا اس لیے اس سرزمین پر ان کا ایک تاریخی حق ہے اور ان کو اجازت دی جانی چاہیے کہ فلسطینی مسلمانوں کی زمینوں کو خریدے بغیر ان کے مالک بن جائیں اور وہاں رہائش اختیار کرلیں۔ انہوں نے جواب میں کہا کہ اگر سابقہ ملکیت اور سکونت کسی کے لیے یہ حق ثابت کرسکتی ہے تو پھر مسلمانوں کو اندلس کی سرزمین پر حق حاکمیت اور حکومت کیوں حاصل نہیں انہیں وہاں سے بے رحمی سے نکال دیا گیا تھا جبکہ یہودیوں نے صدیوں پہلے فلسطین کو خود ترک کردیا تھا مگر مسلمانوں نے نکالے جانے سے پہلے اسپین کو ترک نہیں کیا تھا۔

 

ہے خاک فلسطین پہ یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل عرب کا

 

 ہرچند کہ یہ موضوع آپ کے لیے نیا ہو تاہم اقبال کے اشعار اور خطوط سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ اس حکیم رہنما نے اس سازش کے واقع ہوجانے سے پہلے ہی اس کی تشخص کرلی اور اس سے بچنے کے لیے پروگرام وضع کیا تھا۔ انہوں نے اس تاریخی سازش یعنی عالم اسلام کے وسط میں ایک سرطانی غدود پیدا کرنے سے نجات حاصل کرنے کی راہ پالی تھی اور زندگی کے آخری لحظات تک اس مقصد کے لیے سرگرم رہے۔

تحریر : مرتضیٰ صاحب فصول


متعلقہ تحریریں :

ریاست اسرائیل کی حقیقت

بنی اسرائیل اور اسرائیل کی تاریخ