• صارفین کی تعداد :
  • 4297
  • 5/16/2010
  • تاريخ :

حسین شناسی یعنی حق پرستی (حصّہ چهارم)

امام حسين(ع)

 اگر یہ کشتی نجات سمندر میں اتر جائے، چونکہ کشتیاں تو سمندر میں چلتی ہیں وہ بھی طوفانی سمندروں میں، ایک آدمی ساحل پہ بیٹھا رہے خشکی پر اور یہیں سے بیٹھ کر کشتی سے محبت کرے۔ نوح علیہ السلام  کو اپنے بیٹے سے محبت تھی، بیٹے کو بھی حضرت نوح علیہ السلام سے محبت تھی، لیکن چونکہ دور ہو گئے، نوح علیہ السلام کی کشتی نجات پر بیٹا سوار نہیں ہوا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ باپ بیٹے میں موج حائل ہو گئی اور خدا نے باپ کو بھی روک دیا کہ اب اس بیٹے کا نام نہیں لینا، اگرچہ تم چاہتے ہو اس کو۔ لیکن اس کے مقابلے میں جانور کشتی میں سوار تھے، بچ گئے۔ نوح علیہ السلام کا بیٹا نہیں بچ سکا، جانور بچ گئے۔ چونکہ قریب ہوئے اور ساتھ چلے۔ اہم بات یہ ہے کہ نوح علیہ السلام کے ساتھ جانور چلے تو بھی بچ جاتا ہے اور ساتھ نہ چلے، بیٹا ہو تو بھی غرق ہو جاتا ہے۔ نبی اور امام کا راستہ ایسا ہوتا ہے کہ معمولی آدمی اسے طے نہیں کر سکتا۔ دور بیٹھ کر اس پہاڑ کا نام تھا جودی اس نے خود بھی کہا تھا میں جودی کی چوٹی پر چڑھ جاؤنگا تو بچ جاؤں گا، جودی پر کھڑے ہو کر نوح نوح کرنا یہ ہو سکتا تھا اس سے لیکن نوح علیہ السلام کے ساتھ چلنا اس کیلئے دشوار تھا، نہیں چلا۔ پس یہیں سے سمجھ لیں گاندھی درست ہے محبت ہے اس کو سید الشہداء علیہ السلام کے ساتھ لیکن سید الشہداء علیہ السلام کے ساتھ چل نہیں سکتا۔ حسین علیہ السلام کے کاروان میں شامل نہیں ہو سکتا۔ ہمیں یہ معلوم ہے کہ واقعہ کربلا کب رونما ہوا اور کیسے رونما ہوا، یہ کسی حد تک ہمیں معلوم ہے لیکن ایک بہت ہی اہم نکتہ کربلا کے بارے میں اگر ہمیں معلوم ہو جائے اس سے راز کربلا کھل جاتا ہے۔ اس سے انسان اس قابل ہو جاتا ہے کہ اس کاروان کے ہمراہ ہو جائے۔ دور نہ بیٹھے۔ یوں نہیں ہے کہ دور سے بیٹھ کر دوربین سے کاروان دیکھ رہا ہو کہ ابھی کہاں پہنچا اور ابھی کہاں پہنچا۔ ایسے نہیں ہے کہ میں یہاں سے بیٹھ کر کہوں کہ ابھی یہ کاروان یہاں پہنچا۔ ریڈیو پر بیٹھ کر جیسے سنتے ہیں۔ ایک خلائی جہاز چاند پر جا رہا ہو، ہم تو نہیں ہیں اس میں لیکن ایک کومنٹیٹر بیٹھا ہوتا ہے ریڈیو پر، وہ ہر لمحہ کی خبر دے رہا ہوتا ہے کہ  ابھی یہ جہاز یہاں پہنچا ہے، ابھی یہاں پہنچا ہے۔ ہم اپنے ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر صرف سن رہے ہوتے ہیں۔ یا مثلاً آپ کے ملک کی مثال دوں، آپ کے ہاں کرکٹ میچ ہو رہا ہے، میں اور آپ تو اس میں شامل نہیں ہیں، ہم اپنا کام کاج، کھیتی باڑی چھوڑ کر ٹی وی کے آگے بیٹھ جاتے ہیں۔ اب نہ گیند ہمارے ہاتھ میں نہ بلا ہمارے ہاتھ میں، نہ دوڑیں ہم لگا رہے ہیں، بلکہ ایک کومنٹیٹر بیٹھا ہوتا ہے جو یہ سب کچھ ہمیں بتا رہا ہوتا ہے۔ جنگ خیبر یہودیوں کے خلاف حضرت علی علیہ السلام نے جیتی۔ کیا آج جنگ خیبر نہیں ہے؟، اس جنگ میں عملاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سب کو علم دیے کہ جاؤ سب زور آزمائی کر لو۔ آج بھی یہودیت کے خلاف جنگ لڑے گا تو علی علیہ السلام اور علی علیہ السلام کا پیروکار لڑے گا۔ مولا نے جان بوجھ کر دوسروں کوعلم دیا، معلوم تھا کہ ان سے جنگ نہیں جیتی جا سکتی پھر علی علیہ السلام کو دیا یہ بتانے کیلئے کہ یہودیت کو شکست فقط علوی ہاتھ دے سکتے ہیں۔ آج وہ نسل یہود زیادہ ہے پہلے سے، زیادہ طاقتور ہے پہلے سے، زیادہ خطرناک ہے، لیکن آج بھی وہ علم منتظر ہے، 55 سال سے دوسروں نے اٹھایا، لڑنے کیلئے جمال عبدالناصر نے اٹھایا، حافظ اسد، معمر قذافی نے اٹھایا، یاسر عرفات، عیناً اس طرح اٹھایا جس طرح خیبری لوٹ آئے تھے نہ صرف کچھ لیکر نہ آئے بلکہ کچھ دے کر آئے (آدھا شام ، آدھا لبنان، مصر، اردن، فلسطین)۔ ایسی جنگیں لڑیں لیکن ادھر مٹھی بھر جوان لبنان کے حزب اللہ، پیروان حیدر کرار، مرد کے پیروکار، کوئی حکومت نہیں، فوج نہیں، صرف کیا ہے؟ شیعہ ہیں۔ اس طرح بھگایا کہ بھاگنے کا راستہ بھلوا دیا ،قرارداد لکھنے کی مہلت نہ دی۔ حسینیت یہ ہے۔ فلسطینیوں کو طاقت کی زبان سے کہا دہشت گرد ہیں، کیوں؟ اس لیے کہ اپنے جسموں سے بم باندھ کر صیہونیوں پر حملے کرتے ہیں۔ یہ راستہ فلسطینیوں نے کہاں سے سیکھا۔ عرب کانفرنس سے تو نہیں سیکھا، انور سادات نے حسنی مبارک نے تو نہیں سکھایا، کس نے سکھایا اُن کو؟ ایسا جملہ صرف ایک جگہ ملتا ہے۔ تاریخ میں فلسطینی جوان لڑکیاں جسم پر بم باندھ کر اسرائیلی ٹینکوں سے ٹکرا رہی ہیں، یہی ذہن میں رکھنا، مائیں جوان بیٹوں کو سنوار کر بموں کا بیلٹ باندھتی ہیں۔ دعا کے ساتھ بھیجتی ہے کہ کہیں راستے میں ناکام نہ ہو جائے۔ یہ درس کہاں سے ملتا ہے؟ کس نے ان کو یہ راہ دکھائی؟۔ ایسی مائیں سوائے کربلا کے کہیں نظر آتی ہیں؟ وھب کلبی کی ماں نے بیٹے کا سر واپس پھینکا اور کہا کہ راہ خدا میں دے کر ہم واپس نہیں لیتے۔ زوجہ نے خیمے کا بانس اٹھایا، حملہ کیا اور میدان کربلا میں واحد شہیدہ خاتون قرار پائی۔ فلسطینیوں نے کربلا سے سیکھا۔ یہ کب ہوتا؟، جب اس بات کا خوف نہ ہو کہ موت ان پر آ پڑے یا وہ موت پر جا پڑیں۔ اس وقت فلسطینی جوان موت کے پیچھے ہیں۔ یہ موت پر جا پڑتے ہیں۔

تحریر : حجۃ الاسلام والمسلمین سید جواد نقوی

بشکریہ مجلہ امید، قم۔


متعلقہ تحریریں:

خطبات امام حسین علیہ السلام ( شہادت یا واقعیت کا اعتراف )

خطبات امام حسین علیہ السلام (کربلا کے نزدیک)