• صارفین کی تعداد :
  • 1364
  • 5/3/2010
  • تاريخ :

صدر احمدی نژاد اقوام متحدہ روانہ

ڈاکٹر احمدی نژاد
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے کہا ہے کہ امن عالم کے لئے سب سے بڑا خطرہ ایٹمی ہتھیاوں کی تیاری اور ذخیرہ سازی ہے۔

صدرجناب احمدی نژاد نے آج نیویارک میں اقوام متحدہ روانہ ہونے سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ چالیس برس قبل این پی ٹی نامی معاھدہ طے کيا گياتھا جس نے ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کو تین ذمہ داریاں سونپی تھیں۔ انہوں نے کہا پہلی ذمہ داری ایٹمی ہتھیاروں کے حامل ملکوں کے ایٹمی ہتھیار ختم کرناتھی تاکہ خطرہ کی بنیاد ہی نہ رہتی۔ صدرجناب احمدی نژاد نے کہا کہ این پی ٹی معاھدہ نے دوسری ذمہ داری یہ سونپی تھی کہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاو کا مقابلہ کیا جائے، اور اس ذمہ داری کےتحت نہ صرف ایٹمی ہتھیاروں کے حامل ممالک کے ایٹمی ہتھیار ختم کئےجانے چاہیے تھے بلکہ ان ہتھیاروں کے پھیلاو کا سدباب بھی کیا جانا چاہیے تھا جس کی روسے کسی ملک کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور اس کا تجربہ کرنے کا حق حاصل نہ ہوتا۔ صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ آئي اے ای اے کی تیسری ذمہ داری یہ تھی کہ وہ اپنے رکن ملکوں کو ایٹمی انرجی اور ٹکنالوجی سے پرامن مقاصد کےلئے استفادہ کرنے کے لئے مدد کرتی اور اسے رائج کرتی لیکن افسوس کہ ساتھ کہنا پڑتاہے کہ گذشتہ چالیس برسوں میں آئي اے ای اے اپنی اس ذمہ داری کو پورا کرنےمیں ناکام رہی ہے۔ صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ ساٹھ برس سے زائد کاعرصہ ہو رہا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں نے عالمی تعلقات کو خطرے میں ڈال رکھاہے اور نہ صرف ایٹمی ترک اسلحہ کے اصول پرعمل نہیں ہوا ہے بلکہ ایٹمی عدم پھیلاو اور ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری پربھی کسی نے دھیان نہیں دیاہے اسی کےساتھ ساتھ کسی نے پرامن ایٹمی ٹکنالوجی کےاستعمال کے اپنے حقوق بھی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔قابل ذکرہے صدراحمدی نژاد کل پیر کو اقوام متحدہ میں این پی ٹی جائزہ کانفرنس میں بان کی مون کے بعد اس کانفرنس سے خطاب کریں گے اور این پی ٹی کے جائزے کےتعلق سے اسلامی جمہوریہ ایران کی تجویزیں پیش کریں گے۔

سحر ٹی وی