• صارفین کی تعداد :
  • 3258
  • 4/18/2010
  • تاريخ :

سلسلہٴ سند حدیث ثقلین (حصّہ دوّم)

بسم الله الرحمن الرحیم

1۔میری عترت سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ (گمراہ ہوکر) مروگے اپنے آپ کو علوم و معارف الٰھی میں ان سے بے نیاز نہ سمجھو کیونکہ تمھیں موت آنے والی ھے۔ یقینا ان کی مثال کشتی نوح کی مانند ھے جو اس پر سوار ہوا نجات پا گیا اور جو اس سے الگ ہوا ھلاک ہوا۔ ان کی مثال تمھارے درمیان بنی اسرائیل کے باب حطہ (1) کی سی ھے جو کوئی اس میں داخل ہوا خدا نے اس کو معاف کر دیا۔ آگاہ ہو جاوٴ کہ میری عترت میری امت کے لئے امان ھے۔

پس میری عترت جس وقت چلی جائے گی تو میری امت تک وہ چیز پھنچے گی جس کا وعدہ کیا جاچکا ھے۔

آگاہ ہو جاوٴ کہ خدا وند تعالیٰ نے ان کو گمراھی سے دور رکھا ھے برائی و کثافت و گناہ سے ان کو منزہ رکھا ھے اور تمام عالم پر ان کو فوقیت بخشی ھے۔ جان لو کے خدا وند کرئم نے ان کی محبت کو واجب قرار دیا ھے اور ان کی موت وپیروی کا حکم دیا ھے۔ (2)

2۔ در حقیقت تمھارے درمیان دو قیمتی چیزیں چھوڑ کر جا رھا ھوں ۔ ۱ کتاب خدا۔ ۲۔ میری عترت۔ جان لو کہ یہ دونوں میرے بعد تمھارے درمیان میرے جانشین ھیں اور دونون ھر گز ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ (3)

3۔ یقینا تمھارے درمیان اپنے دو جانشین چھوڑ رھا ھوں ۔ کتاب خدا جو کہ دونوں ھر گز ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ (روز محشر) حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ (4)

4۔ در حقیقت امت کے درمیان دو جانشین چھوڑ کر جارھا ھوں ۔ قرآن اور میرے اھلبیتعليهم السلام۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ہونگے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ (5)

5۔حقیقتاً میرے رحیم و خیبر خدا نے مجھ کو خبر دی ھے کہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ اور ان دونوں کے لئے میں نے یہ خدا سے خواست کی ھے۔ لھٰذا ان سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا اور اپنے آپ کو بے نیاز نہ سمجھنا۔ ورنہ (گمراہ ہو کر) مرو گے اور ان کو کچھ سکھانے کی کوشش نہ کرنا کیونکہ یہ تم سے زیادہ علم رکھنے والے اور دانا ھیں جس پر بھی مجھے اس کے آپ سے زیادہ حق ولایت واطاعت ھے علی اس کے سر پرست وولی ھیں۔ خدایا جو علی کو دوست رکھے اس کو دوست رکھ اور جو علی سے دشمنی رکھے اس سے دشمنی رکھ۔ (6)

6۔ رسول اکرم (ص) (ص) نے جحفہ میں دوران خطبہ ارشاد فرمایا: کیا میں تمھارے نفسوں پر تم سے زیادہ حق نھیں رکھتا؟ سب نے یک زبان ہو کر کھا کیوں نھیں۔ یا رسول اللہ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: پس یقینا تم کو دو حقیقت و واقیعت کے بارے میں ذمہ دار سمجھتا ھوں ۔ قرآن اور میری عترت۔ (7)

حوالہ جات:

1- باب حطہ سے مرادار۔ یحایابیت المقدس ھے۔

2-  نفحات الازھار۔ نقل ازکتاب الاربعین فی فضائل امیر امومنین مخطوطہ جلد ۱ صفحہ ۳۷۴

3-  فرائد السمطین جلد ۲ صفحہ ۱۴۴

4- احیاء المیت؟؟ للسیوطی صفحہ ۶۴ طبع دارالعلوم صفحہ ۴۸ طبع بیروت

5-  مجمع الزوائد صفحہ ۱۶۲

6- المعجم الکبیر للطبرانی جلد ۵ صفحہ ۱۶۷ حدیث ۴۹۷۱ کے ذیل میں۔

7- حلتیہ الاولیاء جلد ۹ صفحہ ۱۶۴ حیاء المیت صفحہ۵۷۔۵۸ طبع دارلعلوم صفحہ ۳۸ طبع بیروت

تصنیف: سید محسن خرازی


متعلقہ تحریریں:

حدیث ثقلین کی تحقیق (حصّہ دوّم)

حدیث ثقلین کی تحقیق (حصّہ سوّم)