• صارفین کی تعداد :
  • 2458
  • 4/17/2010
  • تاريخ :

امام علی رضا (ع)  کی دعائیں لوگوں کی تعریف یا مذمت میں

امام علي رضا(ع)

آنحضرت کی دعا اپنے بیٹے حضرت مہدی کیلئے (حصّہ دوّم)

اے اللہ!محمد و آلِ محمد پر درود نچھاور فرما اور اس چیز کو ہماری طرف سے اپنے لئے قرار دے درآنحالیکہ ہر شک و شبہ، ریاکاری اور شہرت طلبی سے دور ہو تاکہ تیرے غیر پر اعتماد نہ رکھتے ہوں اور سوائے تیرے کسی غیر کا ارادہ نہ ہو۔ ہمیں اُس کے مقام میں داخل فرما اور جنت میں اُس کے ہمراہ قرار دے۔ ہمیں اُس کے کام میں تھکن و سستی اور اختلاف میں مبتلا نہ فرمانا۔ ہمیں اُن لوگوں میں سے قرار دے کہ اُن سے تو نے اپنے دین کیلئے مدد لی ہو اور اپنے ولی کو اُن کے ذریعے عزت و غلبہ عطا کرے۔ ہمارے علاوہ دوسرے گروہ کو اس کام کیلئے منتخب نہ کر، اگرچہ یہ کام تیرے لئے آسان اور ہمارے لئے بہت دشوار ہوگا۔ تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

اے اللہ! اُس کے عہد کے والیوں پر درود بھیج اور اُن کو اُن کی اُمیدوں میں کامیاب فرما۔ اُن کی عمروں کو طولانی اور اُن کی مدد فرما۔ اپنے دین کے امر میں جس کی تو نے اُن کی طرف نسبت دی ہے، اُس کو کامل فرما۔ ہمیں اُن کا مددگار اور اپنے دین کی مدد کرنے والا قرار دے۔ اُس کے پاک و پاکیزہ آباء و اجداد جو کہ ہدایت کرنے والے امام ہیں، پر درود نچھاور فرما۔

اے پروردگار! یہ ہستیاں تیری حکمت کی کانیں، تیرے علم کے خزانے، تیرے امر کے والی، تیرے خالص ترین بندے، تیری مخلوقات میں سے چنے ہوئے، تیرے اولیاء اور اُن کی آل ، تیرے چنے ہوئے اور تیرے چنے ہوؤں کی اولاد ہیں، کہ درود و رحمت اور تیری برکت ان تمام پر ہو۔

اے خدا!اُس کے کام میں اُس کے شرکاء اور تیری اطاعت میں اُس کی مدد کرنے والے، ایسے لوگ جن کو اُس کیلئے پناہ، ہتھیار، ٹھکانہ اور مقامِ محبت قرار دیا ہے، ایسے لوگ جنہوں نے اپنے گھر اور اولاد سے دوری اختیار کرلی ہے۔ اپنے وطن کو ترک کردیا ہے اور بستر پر آرام کو چھوڑ دیا ہے۔ جنہوں نے اپنی تجارت کو ترک کردیا ہے۔ اپنے کسب و معاش میں نقصان اٹھایا ہے۔ اپنے مقامات میں بغیر اس کے کہ کسی سفر پر گئے ہوں، دیکھے نہیں گئے۔ دور رہنے والے ایسے لوگ جو اُن کی اُن کے معاملہ میں مدد کرتے ہیں، اُن کے ساتھ عہدوپیمان کرتے ہیں۔ وہ قریبی افراد جو اُن کی مخالفت کرتے ہیں، اُن کے خلاف ہیں، ایک دوسرے سے دشمنی اور دوری کے بعد متحد ہوجاتے ہیں، ایسے اسباب کو اپنے سے دور کرتے ہیں جو اُن کو دنیا کے قریب اور وابستہ کرتے ہیں۔

اے اللہ! ان کو اپنی حفاظت اور اپنی حمایت کے تحت قرار دے۔ ہر خطرہ جو اُن کے دشمنوں کی طرف سے اُن کی طرف متوجہ ہو، اُسے دور فرما۔ ان کی حفاظت اور نگہبانی میں اور ان کی تائید اور مدد کرنے میں اور جو کوئی بھی تیری اطاعت میں اُن کی مدد کرے، اُن میں اضافہ فرما۔

ان کے حق کے صدقے جو بھی تیرے نور کو مٹانے کی کوشش میں ہیں۔ اُن کونابود فرما۔ محمد و آلِ محمد پر درود بھیج ۔ اُن کے ذریعے تمام آفاق، زمین اور اُس کے تمام حصوں کو عدل و انصاف اور رحمت و فضل سے پُر کردے۔ اپنے کرم و جود کے لحاظ سے اور وہ جو تو اپنے بندوں پر عدالت کے ساتھ احسان کرتا ہے، اُس کے لحاظ سے اُن کی تعریف فرما۔ اپنے ثواب میں جو اُن کے درجات کو بلند کرے، اُن کیلئے ذخیرہ فرما۔ تو جو چاہتا ہے، انجام دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے، حکم دیتا ہے۔ اے عالمین کے رب! دعا کو قبول فرما"۔

ایک دوسری روایت میں نقل ہوا ہے کہ آنحضرت صاحب الامر علیہ السلام کیلئے دعا کرنے میں اس دعا کا حکم فرمایا کرتے تھے:

اے خدا! اپنے ولی، اپنے خلیفہ، تیری مخلوق پر حجت، تیری زبان جو تیری معرفت رکھنے والی ہے، حکمت کو بیان کرنے والی اور تیرے فرمان پر دیکھنے والی آنکھ اور تیرے بندوں پر گواہ، جوانمرد کامل و مجاہد اور تیری طرف پناہ لینے والا، اس بندے کی حفاظت فرما۔

اُس کو اپنی مخلوق کے شر سے اور جس کو ظاہر کیا، اُس کے شر سے اور جس کو ایجاد کیا، اُس کے شر سے اور جس کی تصویر بنائی، اُس کے شر سے محفوظ فرما۔ اُس کی آگے پیچھے، دائیں بائیں اور اوپر نیچے سے حفاظت فرما۔ ایسی حفاظت کہ اگر اُس کے ذریعے سے کسی کی حفاظت کرے تو ضائع نہ ہوگا۔

(اور اُس کے وجود میں) اپنے پیغمبر، اُس کے آباء و اجداد، اُس کے پیشوا اور اپنے دین کے ستونوں کی حفاظت فرما۔ اُس کو اپنی اُس امانت میں قرار دے جو ضائع نہ ہو۔ اپنی ایسی حفاظت میں قرار دے کہ بے یارومددگار نہ ہو۔ اپنی ایسی عزت میں قرار دے کہ اُس پر ظلم نہ کیا جاسکے۔

اُس کو اپنی اُس امان میں رکھ کہ جو کوئی بھی اُس میں محفوظ ہوگیا، وہ کبھی بھی ذلیل و رسوا نہیں ہوگا۔ اُس کو اپنی ایسی رحمت کے سایہ کے تحت قرار دے کہ جو بھی اس کے تحت آگیا، اُس پر کبھی بھی ظلم نہیں کیا جاسکتا۔ اُس کی اپنی مضبوط مدد کے ذریعے سے نصرت اور اپنے کامیاب لشکر کے ذریعے سے تائیدفرما ، اپنی طاقت کے ذریعے سے طاقتور فرما۔ اپنے فرشتوں کو اُس کے پشت ِ سر قرار دے۔اُس کے دوستوں کو دوست رکھ اور اُسے دشمن قرار دے جو اُس کے ساتھ دشمنی رکھے۔ ایک مضبوط ڈھال اُسے پہنا اور اُس کے چاروں طرف اپنے فرشتوں کو قرار دے۔

اے پروردگار! اُسے اُس بلند ترین درجہ پر پہنچا دے جو تیرے پیغمبروں کے ماننے والوں کو عدل و انصاف کے جاری کرنے میں حاصل ہوا تھا۔

اے اللہ! اُس کے ذریعے سے شگافوں کو پُر اور ایک دوسرے سے جدا چیزوں کو ساتھ ملا۔ ظلم کو ختم فرمااو رعدالت کو روشن فرما۔ زمین کو اُس کی طولانی عمر کے ذریعے سے زینت عطا فرما۔ اپنی نصرت کے ذریعے مدد اور اپنے رعب و دبدبہ کے ذریعے اُس کی مدد فرما۔ اُس کے دوستوں کی مدد اور اُس کے دشمنوں کو نااُمید فرما۔ جو بھی اُس کے مقابلہ میں اُٹھے، اُسے ہلاک اور جو بھی اُس کے ساتھ دھوکہ کرے، اُسے برباد کردے۔ ظالم و جابر کافر اور اُن کی حکومت کی بنیاد اور ستونوں کونیست و نابود فرما۔گمراہی کے سربراہوں ، بدعت ایجاد کرنے والوں، سنت توڑنے والوں اور باطل کی حمایت کرنے والوں کو تباہ و برباد فرما۔ جابر و ظالموں کو اُس کے ذریعے سے ذلیل، کافروں اور ملحدوں کو زمین کے مشرق و مغرب میں، دریا اور خشکی میں، صحرا اور پہاڑوں میں ہلاک فرما۔ حتیٰ کہ کوئی بھی اُن میں سے باقی نہ رہے اور اُن کے نشان تک کو مٹادے۔

اے اللہ! اپنے شہروں کو اُس کے جودوکرم کے ذریعے پاک اور اپنے بندوں کو اُس کے ذریعے سے شفا دے۔ موٴمنین کو اُس کے ذریعے سے غالب اور پیغمبروں کی سنت کو اور حکمت کو اُس کے ذریعے سے زندہ اور جو کچھ تیرے دین سے مٹ چکا ہے اور تیرے احکام سے تبدیل ہوچکا ہے، اُن کو تازہ فرما تاکہ تیرا دین اُس کے وسیلہ سے اور اُس کے ہاتھ سے تازہ وصحیح اور بغیر کسی کمی و زیادتی اور بدعت کے ہوجائے۔ اُس کے عدل کے ذریعے سے ظلم کی تاریکیاں روشن اور کفر کی آگ کو خاموش اور حق و انصاف کا اصل مقام جو پہچانا نہیں گیا، واضح ہوجائے۔

بے شک وہ تیرا بندہ ہے جس کو تو نے اپنے لئے خاص چنا ہے اور غیبت کیلئے انتخاب کیا ہے۔ گناہوں سے دور اور عیبوں سے پاک رکھا ہے۔ اُس کو ہر نجاست سے پاک اور ہر برائی سے محفوظ کیا ہے۔

اے پروردگار! قیامت کے دن اور بلاؤں کے واقع ہونے کے دن ہم اُس کے حق میں گواہی دیں گے کہ اُس نے کوئی گناہ انجام نہیں دیا اور کوئی غلطی نہیں کی، کسی نافرمانی کا ارتکاب نہیں کیا۔کسی اطاعت کو ضائع نہیں کیا اور کوئی ہتک حرمت نہیں کی۔ کسی واجب کو تبدیل نہیں کیا اور کسی سنت کو ضائع نہیں کیا۔ وہ ہدایت دینے والا ہدایت یافتہ ہے۔ وہ پاک، پرہیزگار اور پسندیدہ ہے۔

اے خدا! خود اُس میں ، اُس کے خاندان میں ، نسل، اُمت اور اُس کے تمام ماننے والوں میں وہ چیز عطافرما جو اُس کی آنکھوں کو روشن اورقلب و جان کو خوش کرسکے۔ تمام مقامات کی حکمرانی ،چاہے وہ نزدیک ہو یا دور، عزیز ہو یا ذلیل، اُسے فراہم فرما تاکہ اُس کے حکم کو تمام احکامات پر غالب اور اُسے تمام باطلوں پر برتری عطا ہوسکے۔

اے خدا! ہم کو اُس کے ہاتھ سے ایسے راستے تک پہنچا دے جو روشن ہو۔ جو بہت بڑا اور درمیانہ راستہ ہو۔ ایسا راستہ کہ جلدی چلنے والا اُس کی طرف آئے اور آہستہ چلنے والا اُس تک اپنے آپ کو پہنچا دے۔ ہمیں اُس کی اطاعت پر مضبوط اور اُس کا ساتھ دینے پر ثابت قدم رکھ۔ اُس کی پیروی کرنے پر ہم پر احسان کر۔ ہمیں اُس کے اُس گروہ میں داخل فرما جو تیرے حکم کو جاری کرنے والا اور اُس کے ساتھ صبر کرنے والا اور اُس کی خیرخواہی کے ساتھ تیری خوشنودی کو تلاش کرنے والا ہے تاکہ قیامت کے دن ہمیں اُن میں سے محشور فرمائے جو اُس کے دوست اور اُس کی حکومت کو مضبوط کرنے والے ہوں۔

اے پروردگار! اس چیز کو ہمارے لئے ہر شک و شبہ، ریاکاری اور شہرت طلبی سے پاک فرما تاکہ تیرے غیر پر اعتماد نہ کریں اور سوائے تیری رضا کے اور کچھ طلب نہ کریں تاکہ ہمیں اُس کے مقام میں داخل فرمائے۔ جنت میں اُس کے ساتھ قرار دے۔ ہمیں بیماری، تھکن اور سستی سے پناہ دے۔ ہمیں اُن میں سے قرار دے کہ جن سے اپنے دین کی مدد کرتا ہے۔ اپنے ولی کی مدد کواُن کے ذریعے سے باعزت کرتا ہے۔ ہمارے علاوہ کسی اور کو ہماری جگہ قرار نہ دے کیونکہ یہ کام تیرے لئے آسان اور ہمارے لئے بڑا بھاری اور سنگین ہے۔

اے اللہ! اُس کے عہد کے والیوں پر اور اُس کے بعد والے رہنماؤں اور اماموں پر درود بھیج اور انہیں اپنی اُمیدوں میں کامیاب فرما۔ اُن کی عمر میں اضافہ فرما۔ اُن کی مدد کو عزیز و گرامی قرار دے۔ اپنے فرمان میں سے جس کو اُن کی طرف نسبت دی ، اس کو کامل اور اُن کی بنیادوں کو مضبوط فرما۔ ہمیں اُن کا حامی اور اپنے دین کا مددگار قرار دے۔

یہ حضرات تیری حکمت کی کانیں، تیرے علم کے خزانے، تیری توحید کے ارکان، تیرے دین کے ستون، تیرے امر کے والی، تیرے بندوں میں سے پاک، تیری مخلوق میں سے چنے ہوئے، تیرے اولیاء اور تیرے اولیاء کی نسل، تیرے پیغمبر کی اولاد میں سے منتخب شدہ ہیں۔ سلام ، رحمت اور خدا کی برکات اُس پر اور اُن سب پر ہوں۔(عیون الاخبار، ج۱، ص۱۱۷، توحید:۱۲۴، امالی:۴۸۷)۔


متعلقہ تحریریں:

حضرت امام رضا علیہ السلام کی زندگی کے اہم واقعت

حضرت امام رضا(ع) کا مجدد مذہب امامیہ ہونا