• صارفین کی تعداد :
  • 2722
  • 4/4/2010
  • تاريخ :

امام علي رضا(ع) کی دعائیں لوگوں کی تعریف یا مذمت میں

امام علي رضا(ع)

آنحضرت کی دعا اپنے بیٹے حضرت مہدی کیلئے (حصّہ اوّل)

یونس بن عبدالرحمٰن امام رضا علیہ السلام سے روایت کرتا ہے کہ آنحضرت نے صاحب الزمان علیہ السلام کیلئے دعا کرنے کا حکم فرمایا ہے اور دعاؤں میں سے اُن کیلئے آنحضرت کی دعا یہ ہے:

اے اللہ! محمد وآلِ محمد پر درود بھیج۔اپنے دوست ، اپنے جانشین اور مخلوق پر حجت اور تیری زبان جو تیری طرف سے تیری پہچان ہے، تیری حکمت کو بیان کرنے والا، تیری مخلوقات میں تیری دیکھنے والی آنکھیں، تیرے بندوں پر گواہ بلند شخص، مجاہد و مجتہد اور تیری طرف تیری پناہ لینے والے اپنے بندے کی حفاظت فرما۔

اے اللہ! اُس کو اُس کے شر سے جس کو تو نے پیدا کیا، ایجاد کیا، ظاہر کیا، تصویربنایا، محفوظ فرما، اُسے آگے سے ، پیچھے سے، دائیں سے، بائیں سے ، اوپر سے، نیچے سے محفوظ فرما، اس لئے کہ جو بھی تیری حفاظت میں آگیا، وہ ضائع نہ ہوگا۔

اس کے وجود میں پیغمبر اور اس کے وصی کو اور اُس کے آباء و اجداد کو اپنے اماموں کو، اپنے دین کے ارکان کو، ان تمام پر درود ہو، محفوظ فرما۔ اُسے اپنی امان میں رکھ تاکہ کبھی ضائع نہ ہو اور اپنی ہمسائیگی میں کہ کوئی اور موجود نہ ہو۔ اپنی تحویل اور حفاظت میں تاکہ اُس پر ظلم نہ ہو سکے۔

اے اللہ! اُسے اپنی مضبوط ترین حفاظت میں محفوظ رکھ۔ ایسی حفاظت کہ جو کوئی بھی اُس میں آگیا، وہ کبھی شکست نہیں کھا سکتا۔ تو اُسے اپنی رحمت کے سایہ میں قرار دے کہ کوئی اُس پر ظلم نہ کر سکے۔ اُس کی اپنی طاقتور مدد کے ذریعے مدد فرما۔ اُس کی اپنے غالب آنے والے لشکریوں کے ذریعے سے تائید فرما۔ اُسے اپنی قدرت اور طاقت کے ذریعے قوی فرما۔ اپنے فرشتوں کو اُس کیلئے پشت پناہ قرار دے۔

اے اللہ! دوست رکھ اُسے جو اس کو دوست رکھے۔ دشمن رکھ اُسے جو اُس کے مقابلہ میں کھڑا ہو۔ ایک مضبوط زرہ اُس کو پہنا۔ اپنے فرشتوں کو اُس کے چاروں طرف قرار دے۔ اے خدا! اُسے اُس بلند و بالا مقام پر پہنچا دے کہ جس مقام پر تو انبیاء کی اتباع کرنے والے، عدالت کو قائم کرنے والے لوگوں کو پہنچاتا ہے۔ اے خدا ! اُس کے ذریعے سے شگافوں کو پُر کر۔ جدا ہوئی چیزوں کو ساتھ ملا اور ظلم کو اُس کے ذریعے سے ختم کر دے۔ عدالت کو ظاہر فرما۔ زمین کو اُس کی طولانی عمر کے ذریعے سے زینت عطا فرما۔ اُسے اپنی مدد کے ذریعے تائید اور رعب و دبدبہ کے ذریعے نصرت عطا فرما۔ اپنی جانب سے اُسے آسان ترین فتح عطا فرما۔ اپنے اور اُس کے دشمن پر اُسے غلبہ عطا فرما۔

اے اللہ! اُسے قیام کرنے والا اور جس کا انتظار کیاجاتا ہو، ایسا پیشوا قرار دے کہ جس کی تو نے مدد فرمائی ہو۔ اُس کی طاقتور قدرت اور نزدیک ترین فتح کے ذریعے سے مدد فرما۔ اُسے مشرق و مغرب کہ جن کو بابرکت کیا ہے، کا وارث بنا۔ اُس کے ذریعے سے اپنے رسول کی سنت زندہ فرما تاکہ کوئی حق مخلوق کے ڈر سے چھپ نہ سکے۔ اُس کے دوستوں کو مضبوط اور دشمنوں کو نابود فرما۔ جو کوئی بھی اُس کے مقابلے میں کھڑا ہو، اُسے ہلاک اور جو کوئی بھی اُس کے ساتھ دھوکہ کرے، اُسے نابود فرما۔

اے اللہ!جابر و ظالم کافروں کو، اُن کو سہارا دینے والوں کو، اُن کے ستون اور اُن کے مددگاروں کو قتل فرما۔ گمراہی کے سربراہوں، بدعت ایجاد کرنے والوں، سنت توڑنے والوں اور باطل کو مضبوط کرنے والوں کو نیست و نابود فرما۔ ظالم و جابروں کو اُس کے ذریعے سے ذلیل، کافروں ، منافقوں اور ملحدوں کو اُس کے ذریعے سے نابود فرما۔ جس زمانے اور مکان میں ہوں، مشرق و مغرب میں، زمین و خشکی، دریا و صحرا اور پہاڑوں میں کسی ایک شخص کو بھی اُن سے زندہ نہ رکھ اور نشان تک اُن سے باقی نہ رکھ۔

اے خدا! اپنے شہروں کو اُس کے ذریعے سے پاک اور اپنے بندوں کو اُس کے ذریعے سے شفا دے۔ موٴمنین کو غالب اور رسولوں کی سنتوں کو اور نبیوں کی حکمت کو اُس کے ذریعے سے زندہ فرما۔ وہ جو تیرے دین کے احکام ختم ہوگئے ہیں اور تیری وہ حکمتیں جو تبدیل ہوچکی ہیں،کی تجدید فرما تاکہ تیرا دین اُس کے ذریعے سے اور اُس کے ہاتھ پر تازہ، جدید، صحیح اور بغیر کسی کمی و زیادتی کے ہو جائے۔ اُس کی عدالت کے ذریعے سے ظلم کی تاریکیاں روشن اور کفر کی آگ خاموش ہو جائے، حق و عدالت کے پوشیدہ مقامات پاک اور احکام کی مشکلات واضح ہوجائیں۔

اے اللہ! وہ تیرا بندہ ہے جس کو تو نے اپنی غیبت پر امین قرار دیا ہے۔ اُسے گناہوں سے پاک فرمایا ہے۔ عیبوں سے منزہ اور نجاست سے پاک اور ہر برائی سے دور رکھا ہے۔ شک و شبہ سے اُسے محفوظ رکھا ہے۔

اے اللہ! قیامت کے دن اور بلاؤں کے واقع ہونے کے دن ہم اُس کیلئے گواہی دیں گے کہ اُس نے گناہ نہیں کیا۔ کسی غلطی سے دوچار نہیں ہوا۔ کسی نافرمانی کا ارتکاب نہیں کیا۔ کسی اطاعت کو ترک نہیں کیا۔ کسی پردہ کو نہیں چیرا۔ کسی واجب کو تبدیل نہیں کیا۔ کسی حکم کو نہیں بدلا۔ وہ ہدایت دینے والا اور ہدایت پانے والا، پاک و پاکیزہ، صاحب ِتقویٰ، وفا کرنے والا اور پسندیدہ امام ہے۔

اے اللہ! اُس پر اور اُس کے آباء و اجداد پر درود بھیج، خود اُس میں اُس کی اولاد، خاندان، نسل، امت اور تمام اُس کے ماننے  والوں میں جو اُس کی آنکھ کی روشنی اور خوشی کا سبب بنے، اُسے عطا فرما۔ اُس کی حکومت تمام دور و نزدیک مقامات میں۔ ہر غالب و ذلیل پر جاری فرما تاکہ اُس کا حکم تمام احکام پر غالب اور ہر باطل کو اُس کے حق کے ذریعے نابود فرما۔

اے اللہ! اُس کے ہاتھ سے ہمیں ایسی راہِ ہدایت کی رہنمائی فرما جو عظیم اور درمیانہ راستہ ہے کہ جلدی جانے والا اُس کی طرف لوٹ کر آتا ہے۔ اُس کے پیچھے چلنے والا اُس کے ساتھ آکر ملحق ہوتا ہے۔

اے اللہ! ہمیں اُس کی پیروی پر طاقتور اور  اُس کی ہمراہی پر ثابت قدم رکھ۔ اُس کی اتباع کرنے پر ہم پر احسان فرما۔ ہمیں اُس کے اُس گروہ میں شامل فرما جو تیرے امر کے ساتھ قیام کرنے والا اور اُس کے ساتھ صبر کرنے والا اور اُس کی خیر خواہی کے ساتھ تیری خوشی کا طالب ہے۔ یہاں تکہ قیامت کے دن ہم کو اُس کی حکومت کے مضبوط کرنے والوں ، اُس کے دوستوں اور مدد کرنے والوں میں محشور فرمانا۔

الحسنین ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں:

حضرت امام رضا(ع) کا مجدد مذہب امامیہ ہونا

اہم کاموں کیلئے امام رضا (‏ع) کی دعا