• صارفین کی تعداد :
  • 2149
  • 3/31/2010
  • تاريخ :

شیخ عبدالکریم حائری یزدی (حصّہ دوّم)

شیخ عبدالکریم حائری یزدی

حوزہ یزد

تیرہویں صدی کے اواخر میں یزد کا حال یہ تھا کہ یہاں علوم دینی کے پانچ مدرسے تھے جن میں بہترین طلاب علوم و اسلامی کا اجتماع تھا اور سبھی لائق توجہ کردار و معنویت کے حامل تھے۔ حوزہ علمیہ نجف کے بڑے بڑے تعلیم یافتہ علماء اور شیخ مرتضی انصاری و مرزا شیرازی کے تلامذہ یہاں درس دیتے تھے اس طرح یزد عجیب پر رونق حوزہ علمیہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ دیگر مدرسوں میں محمد تقی خاں کا مدرسہ بہت شہرت رکھتا تھا یہاں سطحی و خارج دونوں درس ہوتے تھے اور آقا مدرس بزرگ جیسے عظیم علماء ان حوازات علمیہ کے نگراں و ناظم تھے۔

جوان عبدالکریم، ایسی معنوی فضا والے دارالعبادہ یزد میں قدم رکھتے ہیں، ہر طرف سے ان کا استقبال ہوتا ہے وہ مدرسہ محمد تقی خاں میں قیام کرکے سالہا سال علماء اعلام و اساتذہ بزرگ سے علوم اسلامی کی تحصیل کرتے ہیں۔ سخت محنت و لگن کے ساتھ درس و مطالعہ کی مشغولیت ان کو جلد ہی ایک اسلامی دانش مند و عالم بزرگ بنا دیتی ہے اور ان کی اجتماعی و معنوی شخصیت مسلم ہو جاتی ہے۔

شوق دیدار

ملک عراق کے چار مذہبی شہر، نجف، کربلا، کاظمین، سامرہ کو ، ” عتبات“ کہا جاتا ہے ۔ یہ شہر فرزندان پیغمبر کے میزبان ہیں اور وہاں کی مٹی نے ہمارے بزرگ ائمہ کے پاک وجود کو اپنی آغوش میں لے رکھا ہے ۔ یہ چاروں شہر صدیوں سے متواتر مکتب تشیع کو شیفتگان کے لئے مورد توجہ شوق رہے اور دنیا کے گوشے گوشے سے عشاق کو اپنی طرف کھینچتے رہے ہیں حرم اہل بیت کے زائرین ہر سال آستان بوسی کے شوق میں اس عہد کی پر خطر راہوں اور تکالیف سفر کو ہتھیلی پر جان رکھ کر برداشت کرتے اور دیار معشوق کی طرف جاتے رہے ہیں اور پھر ہفتوں مہینوں تک ان شہیدان راہ فضیلت و انسانیت کی ملکوتی بارگاہ کے پہلو میں دعا و عبادت گزاری میں بسر کرتے رہے ہیں۔ یہ شہر اماموں کے وجود کی برکت کے علاوہ حوزہ ہائے علمیہ کے مالک بھی رہے ہیں اسی وجہ سے وہاں پر دور و نزدیک کے بیشتر علمائے  دین و دانشوران عالی قدر جمع ہوتے رہے ہیں اور ائمہ کی بارگاہ مقدس کے اردگرد اسلامی مسائل کے درس پر بحث و مذاکرہ کرتے رہے ہیں اور یہاں سے دانش و معرفت کا تحفہ علمی و معنوی ذخیرہ دور دور لے جاتے ہیں جوان و تشنہ علم عبدالکریم کے دل میں عتبات عالیات کی زیارت کا شوق پیدا ہوتا ہے اور وہ اٹھارہ سال کی عمر میں ایک زیارتی قافلہ کے ساتھ ادھر چل پڑتا ہے اور چونکہ اس کا خیال تھا کہ علمی محافل میں قدم رکھنے اور اساتذہ کے سامنے زانو ٹیکنے سے قبل روح و جان کی طہارت و تنزیہ ہونا چاہیے اس لئے قافلہ سے جدا ہوجاتا ہے باوجودیکہ اس زمانہ میں سامرا کا حوزہ علمیہ نہا یت پر رونق تھا مگر وہ کربال کو چن لیتا ہے اور حرم مقدس حسینی کے جوار میں دو سال صرف تہذیب، نفس و تحصیل تہارت کے لئے گزارتا ہے۔

اسلام ان اردو ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں:

آیت اللہ فشارکی