• صارفین کی تعداد :
  • 2924
  • 3/21/2010
  • تاريخ :

اخلاق حسنہ

بسم الله الرحمن الرحیم

1)_'' حسن خلق'' كا معني:

''حُسن خلق '' يعنى ''پسنديدہ اور اچھى عادت'' ، چنانچہ اس شخص كو  ''خوش اخلاق''  كہا جاتا ہے كہ اچھى عادتيں اُس كى ذات و فطرت كا جزو  بن چكى ہوں اور وہ دوسروں كے ساتھ كھلے چہرے اور اچھے انداز كے ساتھ پيش آنے كے ساتھ ساتھ پسنديدہ ميل جول ركھے _ امام جعفر صادق عليه السلام نے حسن خلق كى تشريح كرتے ہوئے فرمايا :

''تُلين جانبك' وتطيّبُ كلامك وتلقى ا خاك ببشر: حَسَن:''_

''تم اپنى ملاقات كے انداز ميں نرمى پيدا كرو، اپنى گفتگو كو شائستہ بنائو اور اپنے بھائي سے خندہ پيشانى سے ملو''_ 1

عام طور پر اخلاق و حديث كى كتابوں ميں حسن خلق سے يہى معنى مراد ليا جاتاہے_

اسلام ميں اخلاق حسنہ كا مقام:

اسلام ہميشہ اپنى پيرو كاروں كو دوسروں كے ساتھ نرمى اور خوش مزاجى سے پيش آنے كى طرف دعوت دينا ہے، اسلام نے خوش اخلاق انسان كى اہميت كو صرف مسلمانوں تك محدود نہيں ركھا ہے بلكہ اگر غير مسلمان بھى اس نيك صفت كا حامل ہوں تو وہ بھى اس كے فوائد كو پاسكتاہے _ جيسا كہ تاريخ ميں بيان ہوا ہے كہ : آنحضور (ص) نے حضرت امام على عليه السلام كو ايسے تين افراد كے ساتھ جنگ كرنے كا حكم ديا جو آپ (ص) كو شہيد كرنے كى سازش ميں متحد ہو چكے تھے، امام على عليه السلام نے ان ميں سے ايك كو قتل كيا اور باقى دو كو قيدى بنا كر آپ (ص) كے سامنے پيش كيا _ آنحضرت (ص) نے پہلے انہيں دين مبين اسلام كى طرف دعوت دي، ليكن انہوں نے اسے قبول كرنے سے انكار كيا، پھر آپ (ص) نے قتل كى سازش كے جرم پر ان كے خلاف قتل كا حكم جارى فرمايا، اسى دوران آپ (ص) پر جبرئيل (ع) نازل ہوئے اور عرض كى :

''اللہ تعالى فرماتا ہے كہ ان دونوں ميں سے ايك شخص كو معاف كريں كيونكہ وہ خوش اخلاق اور سخاوتمند ہے'' _ آپ (ص) نے بھى اس شخص كو معاف فرمايا، جب اس شخص كو معلوم ہو ا كہ اللہ تعالى نے اسے ان دو نيك صفات كى خاطر معاف فرمايا ہے تو اس نے اسلام كو تہ دل سے قبول كرليا_

پھر آپ (ص) نے اس شخص كے بارے ميں فرمايا :

'' ان لوگوں ميں سے ہے جو خوش اخلاق اور سخاوتمند ہونے كى بناء پر جنت كا مستحق ہوے''_2

اسلامى مقدس نظر يہ ميں حسن خلق كا معنى كبھى يہ نہيں كہ اگر كسى نے كوئي غلط اور ناپسند يدہ فعل انجام ديا تو اس كے سامنے خاموش ہوجائيں يا ہنس ديں بلكہ ايسے موقع پر اس بات پر تاكيد كى گئي ہے كہ اس فعل كے خلاف مناسب رد عمل كا اظہار كرنا چاہئے' اگرچہ چند افراد كى ناراضگى كا سبب بن جائے _ كيونكہ ہميں اس وقت تك دوسروں كو ناراض نہيں كرنا چاہئے، جب تك اسلامى احكام اور اس كے اصول كى پامالى نہ ہوپائے_

حوالہ جات:

1_ اصول كافى _ ج 3 ، ص 162، (ايمان و كفر :حُسن بشر)_بحارالانوار ج 71 ، ص 389(مطبوعة اسلامية)

2_ بحارالانوار ج 71، ص 390

 

تدوين اسلامى تحقيقاتى مركز
ترجمہ معارف اسلام پبلشرز
نشر نور مطاف
سنہ اشاعت شعبان المعظم 1424 ھ_ق

 


متعلقہ تحریریں:

آپ (ص) کے رخصتی اور دوسروں کو پکارنے کے وقت اخلاق

آنحضرت (ص) كا لوگوں كے ساتھ سلام کرنا