• صارفین کی تعداد :
  • 2886
  • 2/17/2010
  • تاريخ :

دعا پڑھنے میں تکرار و دوام اور اس کی اہمیت

یا صاحب الزمان

دعاؤں میں تکرار اور اس میں دوام رکھنا مقصد تک پہنچنے اور حاجت کو پانے میں نہایت با اہمیت ہے ․ اور یہ نکتہ بہت ہی مہم ہے لہٰذا جو افراد دعا کی کتب سے سروکار رکھتے ہیں انھیں ان پر توجہ رکھنی چاہئے اس لئے کہ اکثر افراد اس کی قدرت و توانای نہیں رکھتے کہ ایک دعا یا ایک زیارت پڑھنے کے ذریعہ یا ایک فاتحہ پڑھ کے اپنی حاجت پوری کرلیں اور اپنی مراد تک پہنچ جائیں ۔

اس مطلب کے واضح ہونے کے لئے ایک مثال پیش کرتے ہیں تاکہ جو بات کہی واضح ہو جائے بہت سے جسمانی امراض اگر ابتدائی مرحلہ میں ہوں یا سطحی اور پیچیدہ نہ ہوں تو ان کا صرف ایک نسخہ سے علاج کیا جا سکتا ہے لیکن اگر مرض طولانی ہو جائے یا انسان کے بدن میں اس کی جڑ مضبوط ہو جائے تو ظاہر سی بات ہے ایسا مرض ایک نسخہ سے معالجہ نہ ہوگا اور ایک دوا سے برطرف نہ ہوگا بلکہ اس کے علاج کے لئے کو طویل مدت تک دوا مصرف کرنی ہوگی۔

روحی امراض میں بھی یہی صورت حال ہے اگر کسی شخص کی روحی بیماری زیادہ اہم ہو یا اہم نہ بھی ہو لیکن وقت گذرنے کے کی وجہ روح میں اس کی جڑ مضبوط ہو گئی ہو اور وہ اس کا عادی بن گیا ہو تو اس صورت میں ظاہر ہے کہ اس طرح کی مشکلات ایک بار دعا پڑھنے سے بر طرف نہ ہو گی بلکہ دعا میں تکرار اور اسے بڑھنے میں دوام کی ضرورت ہے بالکل اسی طرح جیسے بعض جسمانی امراض میں انسان کو دوا کے بار بار استعمال اور جاری رکھنے کی ضرورت ہے ۔

لہٰذا جس طرح جسمانی بیماریوں کے علاج میں دوا جاری رکھتے ہیں تاکہ مکمل علاج ہو جائے اسی طرح جن جگہوں پر دعا کی ضرورت ہے دعا پڑھنا جاری رکھیں تاکہ اس کا اثر ظاہر ہو جاے ۔

البتہ ممکن ہے بعض افراد ایک دعا یا خدا کے اسماء میں سے کسی ایک کو پڑھنے کے ذریعہ اپنا مقصود حاصل کرلیں درحقیقت اس طرح کے افراد نے ریاضت نفس کی ہے اور مستجاب الدعا ہیں لہذا عام لوگوں کو اس طرح کی توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ ان کی طرح صرف ایک مرتبہ دعا کریں اور اپنا مقصود حاصل کرلیں اور روایات میں دعا کی تکرار اور پابندی کے متعلق اس پہلو پر بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے ۔

الحسنین ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں:

ظہور مہدی (ع) کا عقیدہ اسلامی عقیدہ ہے

حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اصحاب