• صارفین کی تعداد :
  • 3572
  • 1/30/2010
  • تاريخ :

سید بن طاؤوس ( تحصیل نور)

بسم الله الحمن الرحیم

دو (۲) محرم ۶۰۵ ھ  ورام کی مادی زندگی کا آخری دن تھا لیکن ابن طاؤوس کی علمی زندگی کا آخری دن نہ تھا انہوں نے نانا کے علاوہ پایہ کے عالم ابو الحسن علی بن یحییٰ الحناط السوراوی الحلی (علی بن یحییٰ حناط السوراوی زیادہ مشہور ہے لیکن بعض کتابوں میں ” خیاط “ بھی مذکور ہے یہ بہت بڑے عالم تھے انہوں نے شیخ طوسیٰ و علی بن نصر اللہ بن ہاروں اور دوسرے علماء سے احادیث نقل کی ہیں سید بن طاؤوس نے ربیع الاول ۶۰۹ ھ میں ان سے نقل حدیث کا اجازہ حاصل کیا۔) و حسین بن احمد السوراوی سے بھی استفادہ کیا۔ (حسین بن احمد السوراوی ایک بڑے شیعہ عالم تھے، محمد بن ابو القاسم طبری کے شاگرد تھے انہوں نے شیخ طوسیٰ کی بعض کتابیں سید بن طاؤوس کو پڑھائی ہیں، جمادی الثانی ۶۰۹ میں نقل حدیث کا اجازہ عطاکیا-)

حلہ کے ماہ درخشاں نے انھیں بزرگوار سے استفادہ نہیں کیا بلکہ دوسرے علماء شیخ نجیب الدین ابن نما (نجیب الدین محمد بن نما ایک جید فقیہ تھے ان کی ولادت علمی خاندان میں ہوئی تھی باپ کے سایہ شفقت میں پروان چڑھے شیعوں کے راہنما و مجتہد تھے ذی الحجہ ۶۴۵ ھ میں انتقال فرمایا ۔) سید شمس الدین قحار بن معد الموسوی، (شمس الدین فخار بن مسعد حلہ میں پیدا ہوئے شیعوں کے بڑے عالم تھے علوم رائجہ کی تعلیم والد بزرگوار و محمد بن ادریس حلی سے حاصل کی، بغداد، کربلا، نجف و کوفہ میں تعلیم حاصل کی ۶۳۰ ھ میں دار فانی سے داربقاء کی طرف کوچ کیا۔) سید صفی الدین محمد بن الموسوی (صفی الدین محمد بن معد ابن ابو جعفر معد اپنے بردار بزرگوار شمس الدین کی طرح شیعوں کے بڑے عالم تھے، خواجہ نصیر الدین طوسی سے ان کے بڑے اچھے تعلقات تھے آپ کے والد بزرگوار جعفر معد بن قحار موسوی، ابن ادریس حلی، ابو الفضل بن حسین حلبی، شاذان بن جبرائیل قمی، عبدالحمید بن عبداللہ علوی حسینی، نصر بن علی بن منصور جو ابن خازن کے نام سے مشہور نحوی تھے دوسرے علماء سے کسب فیض کیا۔) شیخ تاج الدین الحسن الدربی، شیخ سدید الدین سالم بن محفوظ عزنیزہ السوراوی (سدید الدین سالم بن محفوظ بن عزیزہ و شاہ حلی سوراوی ساتوں صدی ہجری کے جید عالم تھے آپ محقق حلی کے استاد تھے، علم کلام و فلسفہ میں استاد کامل تھے، علم کلام میں ” المناہج“ نامی کتاب موجود ہے)  سید ابو حامد محی الدین محمد بن عبداللہ بن زہرہ الحلبی (محمد بن عبداللہ بن علی بن زہرہ حسینی حلبی شیعوں کے بہت بڑے فقیہ تھے آپ کا لقب محی الدین تھا، محقق علی و یحییٰ بن سعید حلی نے آپ سے روایت کی ہے، خود آپ نے ابن بطریق، ابن شہر آشوب، والد بزرگوار عبداللہ بن علی و چچا حمزہ بن علی سے روایت نقل کی ہے، آپ کی مشہور کتابوں میں سے ” الاربعین فی حقوق الاخوان“ ہے آپ نے ۵۶۶ ھ قمری میں ولادت پائی تھی ستر سال کی عمر با برکت گزارنے کے بعد انتقال کیا۔) شیخ نجیب الدین یحییٰ بن محمد السواروی، شیخ ابو السعادات اسعد بن عبدالقاہر اصفہانی، (ابو السعادات اسعد بن عبدالقاہر بن اسعد اصفہانی ساتویں صدی کے جید عالم دین تھے، سید ابن طاؤوس نے آپ کی تمام مصنفات و اصول کی ۶۳۵ ھ میں روایت کی ہے، اکسیر السعادتیں، توجہ السوالات فی حل الاشکالات، جامع الدلائل، مجمع الفضائل ، رشح الولاء فی شرح الدعا، مجمع البحرین اور مطلع السعادتیں آپ کی مشہور کتابیں ہیں آپ کی تاریخ وفات صفر ۶۳۵ ھ  نقل کی گئی ہے) سید کمال الدین حیدر بن محمد بن زید بن محمد بن عبدالحسینی (علامہ کمال الدین حیدر بن محمد بن زید بن محمد بن عبداللہ ایک نامور عالم تھے آپ ابن شہر آشوب، علی ابن سعید بن ہتبہ الدولہ الراوندی اور عبداللہ بن جعفر الدوریستی کے شاگرد تھے آپ کی کتاب ” الغرور الدرر“ مشہور ہے) و سید محب الدین محمد ابن محمود (محمد بن محمود بن نجار آپ کا لقب محب الدین تھا آپ مشہور محدث و عالم تھے، علم حدیث، تاریخ و  بہت سے دوسر ے علم میں استاد کامل تھے، آپ نے تحصیل علم و روایات کے لئے شام ، مصر، حجاز، اصفہان، مرد، ہرات نیشا پور، خراسان و دوسرے اسلامی شہروں کا سفر اختیار کیا اور تین ہزار (۳۰۰۰) اساتید  سے کسب فیض کیا، الازہار فی انواع الاشعار ، ذیل تاریخ بغداد خطیب، جنتہ الناظرین فی معرفتہ التابعین، روضتہ الا ولیاء فی مسجد ایلیا جیسی کتابیں آپ نے تالیف کی تھیں ۲۵ سال کی عمر میں ۶۳۴ ھ میں آپ نے رحلت فرمائی)۔ جو ابن نجار بغدادی کے نام سے مشہور تھے کسب فیض کیا۔

واضح رہے کہ سید بزرگوار نے علمائے مذکور سے اس طریقہ سے فیض حاصل نہیں کیا تھا جس طریقہ سے آج کیا جاتا ہے بلکہ زیادہ تر نقل حدیث و قرائت حدیث کا اجازه  حاصل کیا تھا۔

آپ نے حلہ میں گوناگون علمی مدارج طے کئے جو چیزیں لوگ کئی سال میں حاصل کرتے ہیں آپ نے ایک سال کی محنت سے حاصل کیا، دن رات کی لگن اور نانا کے عظیم کتب خانہ کے استفادہ سے آپ ایک کامیاب محقق بن گئے ، دوسروں پر علمی برتری واضح تھی، خداداد استعداد، کم نظیر بنوغ، باپ کی تشویق، نانا کا بڑا کتب خانہ، دن رات کی محنت کے باعث تمام فقہ ڈھائی سال کی قلیل مدت میں ختم کر دی اور استاد سے بے نیاز ہو گئے اس طرح سے انہوں نے اپنے مربی ورام کی نصیحتوں کو پورا کیا آپ خود کہتے ہیں :

” جب میں چھوٹا تھا میرے نانا ورام نے مجھ سے کہا اے بیٹا! جب کسی کام کی مصلحت دیکھ کراسے انجام دو تو کوشش کرو کہ اس کام کے ماہر فن سے کم نہ رہو، میں نے ڈھائی سال سے زیادہ فقہ کی تعلیم حاصل نہیں کی لوگوں نے کئی سال میں جو حاصل کیا میں نے اسے ایک سال میں حاصل کیا، سب سے پہلے میں نے ” الجمل و العقود“ کو حفظ کیا اس کے بعد ” نہایہ “ کو ختم کیا ۔

جب میں نے کتاب کا پہلا حصہ پڑھا تبھی فقہ میں اتنا پختہ ہو گیا کہ میرے استادابن نمانے مجھے اجازہ مرحمت فرمایا مجھے وہ امور عطا کئے جس کا میں مستحق نہ تھا اس کے بعد نہایہ کا دوسرا حصہ پڑھا پھر مبسوط کو تمام کیا۔ اب میں استاد سے بے نیاز ہوگیا تھا اس کے بعد صرف نقل روایت کے لئے اساتذہ کی خدمت میں کتابیں پڑھیں اور ان کے اقوال پر توجہ دی “۔

اسلام ان اردو ڈاٹ کام