• صارفین کی تعداد :
  • 2577
  • 12/22/2009
  • تاريخ :

ظلم کے مقابلے میں کربلا کے درس پرعمل کی ضرورت ( حصہ سوّم)

یا ثار الله

آج عالمی سطح پر صہیونی حکام کے خلاف  جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے کے الزام کے تحت مقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے لندن کی ایک عدالت نے صہیونی حکومت کی سابق وزیر خارجہ تزیپی لیونی کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے جس کے بعد انھوں نے برطانیہ کا اپنا دورہ منسوخ کردیا ہے۔ اس سے پہلے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے غزہ میں صہیونی حکام کے جرائم کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے سربراہ گولڈ اسٹون کی رپورٹ کی تائید کردی جس میں کہا گیا ہے کہ صہیونی حکام نے غزہ میں سنگین جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور انھوں نے انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی ہيں جب کہ امریکہ میں صہیونی حکومت کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے والی ایک عالمی تنظیم نے دنیا بھر کے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ کریسمس کے موقع پر صہیونی حکومت کی مصنوعات کی ہرگز خریداری نہ کریں یہ اور اس طرح کے بے شمار اقدامات جو صہیونیوں کے خلاف عالمی سطح پر کئے جا رہے ہيں وہ اس بات کی بخوبی عکاسی کرتے ہيں کہ آج دنیا کے لوگ صہیونیوں اور ان کی ظالمانہ روش سے کس قدر نفرت کرتے ہيں اسی لئے مبصرین کا کہنا ہے کہ صہیونی حکومت کو جہاں لبنان اور غزہ میں جنگی میدانوں میں شسکت و ذلت کا سامنا کرنا پڑا تھا وہيں اب عالمی سطح پر انھیں اخلاقی اور سیاسی شکست کا بھی سامنا ہے ۔ صہیونی حکام نے خود ہی غزہ میں اپنی شکست کا بارہا اعتراف کیا ہے اور ان کے بیانات ہمارے اس دعوے کی خود دلیل ہيں۔ کیونکہ غزہ پر انتہائی وحشیانہ کاروائیوں کے باوجود یہاں تک کہ غزہ پر حملے کے دوران غیر قانونی اسحلوں کو استعمال کرنے کے بعد بھی عالمی سطح پر اور عالمی رائے عامہ کے نزدیک غاصب صہیونی حکومت کی پوزیشن پہلے سے کہیں زیادہ متزلزل ہوئی ہے اور اس کے برخلاف حماس کی پوزیشن عالمی سطح پر کافی مستحکم ہوئی ہے ۔ صہیونی حکومت آج اس انجام کو پہنچ چکی ہے کہ اس کے حکام اب ان ملکوں کا سفر کرنے سے بھی ڈرتے ہيں جو اس کے سب سے بڑے حامی سمجھے جاتے ہيں ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ حماس کی  تشکیل کی سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ پروگراموں میں فلسطینیوں کی شاندار اور وسیع پیمانے پر شرکت اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ غزہ کو ویران کردیا جانا اور غزہ کے علاقے کے باشندوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا جانا اور اس کے علاوہ ديگر مظالم بھی غزہ کے عوام کو حماس کی حمایت سے نہیں روک سکے ۔  رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے بقول:

آج فلسطین کے واقعات تاریخ کے بڑے واقعات میں سے ایک ہے جس کا ایک پہلو سخت ترین حالات اور دباؤ میں غزہ کے عوام کی استقامت و پائمردی ہے اور دوسرا پہلو فلسطینی عوام کے سلسلے میں بعض بظاہر مسلمان عربوں کی غداری اور خیانت ہے ۔ اس کے باوجود رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ فلسطین کا مستقبل تمام تر مظالم اور فلسطینی عوام پر پڑنے والے دباؤ کے بعد بھی پوری طرح سے تابناک اور روشن ہے ۔ 

 رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا اگر فلسطین کا مسئلہ صحیح طریقے سے حل ہوجائے تو عالم اسلام کی بہت ساری مشکلات حل ہوجائيں گی ۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنے خطاب میں اسی طرح اس بات پر زور دیا کہ فلسطین کے بہادر و شجاع عوام کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت جاری رہے گی۔ آپ نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران مسئلہ فلسطین کو اپنا مسئلہ سمجھتا ہے اور فلسطینیوں کی حمایت کو اپنا شرعی و اسلامی فریضہ گردانتا ہے ۔ فلسطین اور مظلوم فلسطینیوں کے لئے ایران کی حمایت کا اعادہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب ایران سے عالمی سامراج کی دشمنی کی ایک بڑی وجہ فلسطینی کاز کے لئے ایران کی حمایت ہے اور جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا اگر اسلامی جمہوریہ ایران مسئلہ فلسطین کے بارے میں اپنی آنکھیں ذرا سی دیر کے لئے بھی بند کرلیتا تو ایران کے عوام اور اسلامی جمہوری نظام کے خلاف سامراج کی عداوتوں اور دشمنیوں میں کافی حد تک کمی آ جاتی ۔ ان  تمام باتوں کے باوجود ایران کے عوام ہمیشہ فلسطینیوں کے حامی اور مددگار رہيں گے اور ہر سطح پران کی حمایت کرتے رہيں گے۔ چنانچہ نام نہاد امن کے منصوبوں اور اسی طرح سازباز کے مختلف اقدامات کی متعدد ناکامیاں اس بات کا  ثبوت ہيں کہ فلسطین کے مسئلہ کا حل صرف اصولی راستہ ہے وہی راستہ کہ ایران علاقے میں امن و امان کی برقراری اور فلسطینیوں کے حقوق کی بازیابی کے لئے جس پر زور دیتا ہے  ۔

 تحریر: علی عباس رضوی( اردو ریڈیو تہران ) 


متعلقہ تحریریں:

امریکہ کا خود ساختہ زخم

امام خمینی کی نظر میں اتحاد

غزہ کے دردناک المیے پر رہبر انقلاب اسلامی کا پیغام