• صارفین کی تعداد :
  • 3746
  • 11/25/2009
  • تاريخ :

ہندوازم میں کھوکھلا پن

بابری مسجد

دیومالائی کہانیوں پر مشتمل مذہبی کتابیں دن بہ دن خود ہندو اسکالر کے نزدیک اپنا مقام کھوتی جا رہی ہیں اور وہ تعداد میں کئی ایک ہونے کے سبب نزاعی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں۔

مذہبی کتابوں میں ’’ویداز،رامائن ،بھگوت گیتا،مہابھارت اور پران بطور خاص قابل ذکر ہیں ۔ ہر ایک کتاب کو ماننے والا دوسری کتاب پر اس کو فوقیت دیتا ہے ۔

کوئی صرف ویداز کو مذہبی کتاب مانتا ہے تو کوئی رامائن کے تقدس کا دم بھرتا ہے ،کوئی گیتا ہی میں اپنے نجات کی راہ ڈونڈھتا ہے ،اسی طرح خداؤں کا معاملہ بھی ہے۔کوئی رام سے آس لگائے بیٹھا ہے ،کوئی کنکر کنکر میں شنکر کا رآگ الاپ رہا ہے ،کوئی لچھمن کی برتری کا قائل ہے ،یہاں تک کہ ہندوستان کے ایک کونے میں راون کی پوجا ہوتی ہے تو دوسرے کونے میں اسے راکشش بتا کر جلا دیا جاتا ہے ۔تیسری چیز جو ضروری ہے وہ ایک مرکز یا سینٹر ہے،اور وہ بھی یہاں مفقود ہے جو کچھ مذہبی مقامات کے نام پر جگہیں ہیں وہ شدید اختلافات کی نظر ہیں ۔ رام کی جس بستی کا ذکر رامائن کے اشلوکوں میں ہے اس کی تفصیل موجودہ اجودھیا سے کسی طرح میل نہیں کھاتی ہے۔ مذہبی مقامات میں کاشی ،متھرا،ایودھیا،کانچی پورم وغیرہ کا نام لیا جاتا ہے لیکن ان میں اختلاف کے سبب پوری قوم کسی بھی ایک مقام کو متفقہ طور پر تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔

مذہبی کتاب ،شخصیت اور مرکز پر اتفاق کیلئے ہندوستان کے برہمنوں نے ایک طویل جدوجہد کی اور پوری قوم کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی بھرپور کوشش کی اور یہ کوشش ہنوز جاری ہے۔اسّی کی دہائی میں ’’رامائن کا ایک سین ‘‘کے نام سے ایک ٹی وی سیریل شروع کیا گیا اور اس کے لئے بے پناہ پرو پیگنڈہ کیا گیا ۔

اس وقت ٹی وی اتنا عام نہیں تھا ۔بڑے بڑے شہروں میں سیریل کا وقت ہونے پر لوگ کام کاج چھوڑ کرسیریل دیکھنے کیلئے جمع ہوجاتے اور یہ سلسلہ ایک لمبے عرصے تک چلا جس سے ہندو قوم کے جذبات کو دوسری مذہبی کتابوں سے ہٹا کر رامائن سے جوڑ دیا گیا اور رامائن سے جذبات وابستہ کرنے کا نتیجہ رام کی بے پناہ مقبولیت کی شکل میں ظاہر ہوا ۔

بظاہر یہ منصوبہ بہت کامیاب رہا لیکن معاملہ صرف اتنا ہی نہیں ہے ۔رام کی شخصیت اور رامائن خود اتنے مختلف فیہ ہیں کہ ان کا ازالہ کافی مشکل ہے ۔ہندوستانی زبانوں میں سنسکرت سے لیکر ہندی ،تیلگو ،ملیالم،کنڑا،تمل بنگالی اورمراٹھی وغیرہ زبانوں میں رامائن لکھی گئی ہے ۔

اس میں نہ صرف یہ کہ زمان ومکان کا بعد ہے بلکہ ایک ہی کردار کے بارے میں اتنے شکوک وشبہات ہیں کہ سب ایک دوسرے سے جدا نظر آتے ہیں ۔مثلا رام کو کہیں دشرتھ کا بیٹا کہیں پوتا ،کہیں وشنو کے فوجی کمانڈر کابیٹا بتایا گیا ہے ۔دشرتھ کی بیویوں کی تعداد میں عجیب مضحکہ خیزی نظر آتی ہے ۔مختلف رامائنوں میں دشرتھ کی بیویوں کی تعداد ایک سے شروع ہوکر 750 ،اور1600 تک بتائی گئی ہے ۔

راجہ دشرتھ کو کہیں بنارس ،کہیں اجودھیا تو کہیں جمبودیپ کا راجہ بتایا گیا ہے ۔رام کی شخصیت اور تعلیمات کے بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملتا ۔ رامائن کے مختلف مصنفین کے پاس رام کو جاننے کا کیا ذریعہ رہا ہے تاریخ اس بات میں بھی خاموش ہے ۔لیکن پھر بھی آج ہندوستان میں ہندوؤں کا ایک بڑا طبقہ رام راج کے نعرے کی گونج میں مست ہو کر رام کی مکمل پیروی کا عہد کر چکا ہے ۔لیکن مطلع ابھی بھی صاف نہیں ہے مذہبی مقدس سرزمین کے بارے میں ابھی بھی بہت کچھ رد و کد باقی ہے ۔

تحریر : ابو ظفر عادل اعظمی ممبئی ( عالمی اخبار ڈاٹ کام )


متعلقہ تحریریں:

یوم آزادی برصغیر مبارک باد

یوم پاکستان پر خصوصی اشاعت

تاج محل آگرہ پر خصوصی اشاعت

شاعر مشرق حضرت علامہ محمد اقبال کے یوم وفات پر خصوصی اشاعت