• صارفین کی تعداد :
  • 4264
  • 8/9/2011
  • تاريخ :

آزادي کي نعمت کا احساس

یوم آزادی مبارک ہو

آزادي دنيا کي سب سے بڑي نعمت اور غلامي دنيا کي سب سے بڑي لعنت ہے- آزادي کي زندگي کا ايک دن غلامي کي ہزار سالہ زندگي کي بہتر ہے - آزادي يوں ہي نہيں مل جاتي آزادي بہت قيمت مانگتي ہے. اس عظيم نعمت کو حاصل کرنے کے ليۓ انسان کو بيش بہا قربانياں دينا پڑتي ہيں -

تاريخ اٹھا کر ديکھيں تو پتا چلتا ہے ہر دور ميں انسان نے اس کي قيمت ادا کي ہے. دنيا کے نقشے پر آزاد ممالک کا نام بے پاياں کٹھنائيوں ، قربانيوں اور دکھوں کے بعد تحرير ہوا ہے. الجزائر کے لوگ اس وقت تک منزل آزادي سے ہمکنار نہيں ہوئے جب تک بن نيلا کے بدن پر زخموں کے ستر نشان ثبت نہيں ہوئے. انڈونيشيا کي عوام کے ليے غلامي کي سياہ رات اس وقت تک نيں بدلي جب تک انہوں نے اپنے زخمي ہاتھوں سے اپنے لہو کے چراغ نہيں جلائے اور پاکستان اس وقت تک نقشہ عالم پر نہيں ابھرا جب تک شہروں ، بستيوں ، گليوں اور بازاروں ميں خون کي ہولي نہيں کھيلي گئي. اس کے ليۓ ان گنت ماؤ ں اے کليجے کٹ کٹ کر گرے، لاکھوں  عورتوں نے اپنے سہاگ اس کي نظر کر ديۓ اور لاکھوں بچے يتيم ہو گۓ -

آزادي اللہ تعالٰي کي عظيم نعمتوں ميں سے ايک نعمت ہے. آزادي جنت جبکہ غلامي دوزخ ہے. کھلي فضاؤ ں ميں سانس لينا انسان کي فطرت کا تقاضا ہے. آزادي سے قبل دو سو سال تک مسلمان انگريز کے محکوم رہے انگريزوں نے ان سے آزادي کي دولت چھين کر ان کو اپني غلامي کي زنجيروں ميں جکڑ رکھا تھا. انگريز نے اپنے دورحکومت ميں مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے اور ان پر جو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اور ان کو اپنے بے پناہ ظلم و تشدد کا جس طرح نشانہ بنايا وہ ہر تاريخي شعور رکھنے والے شخص سے پوشيدہ نہيں بہرحال مسلمان 14 اگست 1947 کو انگريز کي غلامي سے آزاد ہوئے. ان کو يہ آزادي بہت آساني سے نہيں ملي ان کو يہ آزادي کيسے ملي اس کے پيچھے کئي عوامل کار فرما ہيں. پاکستان اسلام کے نام پر قائم کيا گيا اور برصغير ميں بسنے والے مسلمانوں نے اس کي تعمير و تشکيل کے ليے بيش بہا قربانياں ديں ، در حقيقت پاکستان اسلام اور مسلم قوميت کي بنا پر معرض وجود ميں آيا.

جيسا کہ مولانا محمد علي جالندھري نے 8 ما ر چ 1944 ء ميں مسلم يونيورسٹي علي گڑھ ميں طلباء و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم ليگ اس لحاظ سے بہت خوش قسمت ہے کہ مسلم ليگ کو قائداعظم محمد علي جناح جيسا زيرک ، عقيل و فہيم ، راست باز ، نيک و کار ، بااصول ، محنتي ، مخلص، مستعد قائد نصيب ہوا ، جس نے اپنے ناخن تدبير سے الجھے ہوئے مسائل کو سلجھا ديا. مسلم ليگ کي اس لحاظ سے بھي بہت بڑي کاميابي تھي کہ علمائے کرام کي بہت بڑي جماعت نے کوئي دقيقہ فروگزاشت نہيں کيا بلکہ قائداعظم کے ساتھ شانہ بشانہ چلے. پاکستان محمد علي جناح کي شب و روز کي کوششوں اور ان کي مساعي جميلہ سے معرض وجود ميں آيا.

14 اگست 1947 کو جب جشن آزادي منايا جانے لگا تو علمائے کرام کي تاريخي خدمات کے طور پر مشرقي پاکستان کا پر چم شيخ الاسلام حضرت مولانا علامہ شبير احمد عثماني نے اور مغربي پاکستان کا پэم حضرت مولانا ظفر احمد عثماني نے اپنے دست مبارک سے تلاوت اور مختصر تقرير کے بعد آزاد فضاء ميں لہرا کر دنيا کي اس سب سے بڑي اسلامي مملکت کو اسلامي ممالک کي برادري ميں شامل کرنے کا افتتاح کيا. پاکستاني فوجوں نے پэم پاکستان کو پہلي مرتبہ سلامي دي -

تحرير : سیّد اسد الله ارسلان


متعلقہ تحريريں:

آزادي ہند کا سہرا

آئيے!  63 برس کے سود و زياں کا حساب لگائيں

پاکستان کے ساتھ عہد کريں

پاکستان قدرت کا ايک انمول عطيہ

يوم آزادي کے روز