متعلقه تحریریں
  • قوم عاد
    قوم عاد
    قوم عاد بہت ہی مالدار قوم تھی اسی دولت اوراس کی طولانی عمر اورقوی جسمانیت نے ہی اسے اس بات سے بھی بے خبرکر رکھا تھا کہ اس قوم کے افراد کس پرکتنا ظلم کر رہے ہيں اورکس قدر سرکشی کر رہے ہيں ۔
  • لوہار اور عورت
    لوہار اور عورت
    ایک نیک و پرہیزگار شخص مصرپہنچا ۔ وہاں اس نے ایک لوہار کودیکھا وہ اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر سرخ اور دہکتا ہوا لوہا آگ کی بھٹی سے باہر نکال رہا ہے مگرآگ کی حرارت وگرمی کا اس پرکوئي اثرنہيں تھا
  • آٹے کا تھیلہ
    آٹے کا تھیلہ
    شہباز! باورچی خانے سے امی کی آواز آئی۔ میں گھر کے پچھواڑے میں گیند سے کھیل رہا تھا، ان کی آواز سن کررک گیا۔ میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ امی نے کس لیے بلایا ہے۔
  • صارفین کی تعداد :
  • 2581
  • 2/9/2011
  • تاريخ :

زہرخوشتر

کتاب

مکہ کے راستے میں ایک حاجی قافلے سے چھوٹ گیا اوربیابان میں تنہا رہ گیا ۔ وہ اس بیابان میں چلتا رہا یہاں تک کہ ایک جگہ پہنچنے کے بعد اسے ایک گھر نظرآیا وہ اس گھر کی طرف بڑھا ۔ گھر کے دروازے پرپہنچ کر اس نے کنڈی کھٹکھٹائي ۔ گھرکے اندر سے ایک ضعیفہ نکلی  ۔

.حاجی نے اسے سلام کیا اورضعیفہ نے بھی اس کے سلام کا جواب دیا

.حاجی نے کہا کہ میں راستے میں قافلے سے چھوٹ گیا ہوں اورکئي دنوں سے کچھ کھایا نہيں ہے اگرتمہارے پاس کچھ کھانے کوہو تو دے دو ۔

اس ضعیفہ نے کہا کہ اس وادی میں بہت سے سانپ ہيں جاؤ ایک دوسانپ پکڑ لاؤ میں انھیں پکا دیتی ہوں اس کے بعد ہم دونوں ہی اس کوکھا لیں گے ۔ مرد یہ بات سن کرحیران رہ گیا اورکہنے لگا :

میں سانپ نہ پکڑسکتا ہوں اورنہ ہی مجھے سانپ پکڑنے کا طریقہ معلوم ہے ۔

ضعیفہ نے کہا آؤ ساتھ چلتے ہيں اورمیں سانپ پکڑ کردکھاتی ہوں ۔ کچھ دیر تک وہ دونوں بیابان میں پھرتے رہے اس دوران انھوں نے چاربڑے سانپ پکڑے اوران کے سروں اوردموں کوکاٹ کرآگ کے شعلوں پرانھیں رکھ دیا ۔ وہ حاجی بیچارہ چونکہ بہت زیادہ بھوکا تھا اس نے پکے ہوئے سانپ کھا لئے اوراپنا پیٹ بھر لیا ۔ اس کے بعد اسے پانی کی ضرورت ہوئی پیاس کا احساس شدت اختیار کرنے لگا ۔

ضعیفہ نے کہا کہ یہیں قریب میں ایک چشمہ ہے جاؤ اور وہاں جا کر پانی پی لو ۔ وہ شخص چشمے پرگیا مگرچشمے کے پانی سے بدبو اٹھ رہی تھی اورپانی بالکل گندا تھا مگرپیاس اتنی شدید تھی کہ مجبور ہوکر اس نے وہ پانی پی لیا جب پانی پی کروہ واپس لوٹا تو ضعیفہ سے اس نے کہا ! اے میری ماں ! اتنی خراب جگہ پرآپ کیوں رہتی ہيں اوریہاں رہ کرآپ اپنی عمر کیوں تباہ کر رہی ہيں ؟ اس بوڑھی عورت نے جواب دیا

اس دنیا میں جینے کے لئے اس بیابان سے بہترجگہ اورکہيں نہيں ہے ۔

حاجی نے کہا کہ ہمارے شہر میں بہت زیادہ پانی ہے اورمختلف پھلوں کے باغات ہيں طرح طرح کے درخت ہرطرف نظرآتے ہيں میں تو سوچ بھی نہيں سکتا تھا کہ سانپ کوبھی کھایا جا سکتا ہے ۔

ضعیفہ نے کہا جس شہر میں تم رہتے ہو اورجہاں آرام وآسائش کی ساری نعمتیں موجود ہيں ، کیا کوئی کسی پر ظلم بھی کرتا ہے ؟

اس حاجی نے جواب دیا بادشاہ اورجاگیردار عوام پربڑے بڑے ستم ڈھاتے ہيں جبکہ لوگ آپس میں بھی ایک دوسرے پرظلم کرتے ہيں ۔

اس ضعیفہ نے کہا : وہ نعمتیں جن کا تم نے ذکر کیا ہے ایسی جگہوں پرزہر سے بھی بدترہيں اورتنہائی کےعالم میں یہ زہر ان تمام نعمتوں سے زیادہ اچھا ہے ۔


متعلقہ تحریریں :

ایمانداری  کا انعام

 ایمانداری کا انعام (حصّہ دوّم)

تعلیم کی اہمیت

ایک ہاتھی- ایک چیونٹی

لالچی چیونٹی