• شیر کا احسان ( پانچواں حصّہ )
    • بادشاہ ملکہ کے پاس کسان کو لے کر آگیا کسان نے جیب سے بوٹی نکال کر اسے پانی میں گھول کر جیسے ہی پلایا، ملکہ کے ہاتھ پاؤں میں جنبش ہونا شو ہوگئی اور اس نے آنکھیں
    • شیر کا احسان ( چوتھا حصّہ )
    • کسان نے شیر کا شکریہ ادا کیا شیر نے کہا: ” جاؤ خدا حافظ ہمیشہ نیک رہنا اور نیکی کرتے رہنا “ کسان شیر سے رخصت ہو کر اپنے ٹھکانے پر آگیا سنار کو اٹھا کر اسے بوٹی کچل کر پلا دی
    • ‎‎‎‎شیر کا احسان ( تیسرا حصّہ )
    • کسان کھانے پینے کا سامان کپڑے میں باندھ کر کاندھے پر اٹھا کر شیر کے ساتھ چلنے لگا کچھ دور جا کر شیر نے چھوٹے چھوٹے پودوں کی طرف پنجے سے اشارے کرتے ہوئے کسان سے کہا:
    • ‎شیر کا احسان (دوسرا حصّہ )
    • شیر نے کہا: ” اے بھائی! مجھ دے نہ ڈر میں نے اللہ سے دعا مانگی ہے کہ مجھے بات کرنے کیلئے کچھ دیر کیلئے زبان دے دے“
    • شیر کا احسان
    • پرانے زمانے میں شہر سے کوسوں دور ایک گاؤں میں سیلاب آ گیا ہزاروں لوگ پانی میں بہہ گئے لاتعداد گھر تباہ و برباد ہوگئے اور سینکڑوں لوگ پانی میں ڈوبنے سے بچ تو گئے مگر اس کے پاس کھانے کو کچھ نہ بچا تھا
    • ایک چیل کی کہانی ( حصّہ سوّم )
    • بچو! پھر یہ ہوا کہ کچھ دنوں تک چیل کبوتر خانے کی طرف اسی طرح آتی رہی اور ان کی خوب دیکھ بھال کرتی رہی ایک دن بادشاہ چیل نے ایک بلے کو وہاں دیکھا تو اس پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایسا زبردست حملہ کیا کہ بلا ڈر کر بھاگ گیا
    • ایک چیل کی کہانی ( حصّہ دوّم )
    • بھائیو! اور بہنو! میں طلم کے خلاف ہوں انصاف اور بھائی چارے کی حامی ہوں میں چاہتی ہوں کہ انصاف کی حکومت قائم ہو دشمن کا منہ پھیر دیا جائے اور تم سب ہر خوف سے آزاد اطمینان اور سکون کی زندگی بسر کرسکو
    • ‎‎ایک چیل کی کہانی
    • بچو! یہ اس چیل کی کہانی ہے جو کئی دن سے ایک بڑے سے کبوتر خانے کے چاروں طرف منڈلا رہی تھی اور تاک میں تھی کہ اڑتے کبوتر پر جھپٹا مارے اور اسے لے جائے لیکن کبوتر بھی بہت پھرتیلے، ہوشیار اور تیز اڑان تھے
    • ماں کے بغیر زندگی
    • اندھیری رات ہے، بس کا سفر ہے۔ میں نو دس سال کا لڑکا، ڈرائیور کے ساتھ کی نشست پر اپنے نانا کے پہلو میں بیٹھا ہوں۔ ایک آہنی جنگلے کے پیچھے تختے پر سفید چادر سے ڈھکا ہوا کوئی وجود ہے، میں آنکھیں مَل مَل کر دیکھتا ہوں۔ یہ میری ماں کی میّت ہے۔ سامنے میرے والد
    • چینی لوک کھانی
    • گۓ وقتوں میں کسی گاؤں میں اک لکڑ ہارا رھتا تھا؛وہ روز جنگل میں جاتا اور لکڑیاں کاٹ کر فروخت کرتا اس طرح تنگی ترشی سے گھر چل رھا تھا؛لیکن اسکی بیوی نھایت تنک مزاج اور بدخو تھی ھر وقت زبان پر شکوہ رھتا؛کرنا خدا کا یہ ھوا کہ لکڑ ھارے کی شیر سے دوستی ھوگئ؛اب
    • یہ بادِ صبا کون چلاتا ہے
    • یہ بادِ صبا کون چلاتا ہے، مرا رب گلشن میں کلی کون کھلاتا ہے، مرا ربمکھی کو بھلا شہد بنانے کا سلیقہ تم خود ہی کہو کون سکھاتا ہے، مرا رب
    • یارب عظیم ہے تو
    • یارب عظیم ہے تو سب پر رحیم ہے توتعریف تجھ کو زیبا توصیف میرا شیوہ
    • مخلص اور بہتر دوست
    • بس، بس رہنے دو میری بھلائی،میں خود سمجھتا ہوں ا پنی بھلائی اپنی برائی کو،تم اپنے کام سے کام رکھو بس، ندیم نے اسی طرح تنکتے ہوئے کہا۔
    • مخلص دوست
    • ایک پتھر درخت کی سب سے بالائی شاخ پر بیٹے ہوئے طوطے کو لگا اور وہ پھڑپھڑاتا ہوا شاخ سے گر کر نیچے زمین پر آن گرا.... اسے تڑپتا دیکھ کر ندیم کی آنکھوں میں چمک سی آ گئی، ہونٹوں پر مسکراہٹ تیرنے لگی۔
    • چڑیا کے بچوں کی نجات
    • ادھر چڑیا بی کو جب کسی کی چیخ و پکار سنائی دی تو وہ پریشان ہوگئیں کہ اللہ خیر کرے کہیں یہ میرے بچے تو نہیں رو رہے، جب چڑیا بی نے اپنے درخت کے قریب آ کر یہ منظر دیکھا کہ ان کے دونوں ننھے ننھے معصوم سے روئی کے گالے بچے انسانی شکار بننے جا رہے ہیں تو ان سے ر
    • چڑیا بی کے بچے
    • گھنے جنگل کے پار افق پر سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا اور سورج کی شعاعیں درختوں کی اوٹ سے جھانکتے ہوئے جنگل کی ناہموار زمین پر بمشکل پہنچ رہی تھیں۔ گویا جنگل کی زندگی میں ہر سو اجالا پھیل چکا تھا اور اس کے ساتھ ہی تمام چرند پرند بھی اپنی اپنی نگا
    • قحط میں قیمتی چیز
    • سب لوگ حیران رہ گئے۔ ملاح کی بات دل میں اتر گئی۔ سب نے یک زبان ہو کر کہا ”گیہوں سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے۔ پورا جہاز اس سے بھر لیا جائے کہ جب قحط بھی پڑے تو اس کا مقابلہ ہو سکے۔“
    • سب سے قیمتی
    • کوئی آٹھ سو سال پہلے کی بات ہے، ہالینڈ میں ایک شہر بہت خوبصورت تھا ۔ یہ سمندر کے کنارے اب بھی واقع ہے اور سمندر کے تھپیڑوں کو روکنے کے لیے یہاں ایک بہت بڑا، اونچا اور مضبوط پشتہ بنا ہوا ہے۔ یہ پشتہ آٹھ سو سال پہلے بھی موجود تھا۔ اسی کی بدولت بڑے بڑے تجارت
    • جانوروں کا نیا مکان
    • اس کے ساتھ ہی اس نے دھماکے دار گولے فرش پر زور سے مارے۔ اتنے زور کا دھماکہ ہوا کہ در و دیوار ہلنے لگے۔ سب جانور ڈر کے مارے کانپنے لگے۔ کچھ تو دھڑام سے فرش پر گر ہی گئے تھے۔
    • خدا کی حمد
    • تنہائیوں میں ہے یاد اس کی محفلوں میں ہے بات اس کی رنجشوں میں ملے رحمت اس کی خوشیوں میں بھی ملے رحمت اس کی
    • حمد باری تعالی
    • تو موسم سردی کا لائےسردی جائے گرمی آئےتیرا ہے برسات نظارااور ہے موسم بہار پیارا
    • نیا مکان
    • یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب سب جانور اکٹھے رہا کرتے تھے۔ ایک دن سب نے مل کر نیا مکان بنانے کا فیصلہ کیا۔ ان میں بھیا ریچھ، لومڑ، بھیڑیا سب ہی جانور شامل تھے۔
    • لکڑہارے کی رحم دلی
    • ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا ۔ وہ روزانہ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لاتا اور انھیں بیچ کر اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پالتا تھا۔ لکڑہارا بہت غریب لیکن ایمان دار، رحم دل اور اچھے اَخلاق والا آدمی تھا
    • او لڑکے لوٹا لے آ
    • شیر نے جس قدر بھی غور کیا، اسے کہ آدمی زاد کوئی وحشت ناک چیز نہیں اور بڑا مہربان ہے۔
    • آدمي زاد نے شير کے ليے گھر! بنايا
    • آدمی بولا: اچھے بول کوئی دلیل نہیں، ہمارے عمل اچھے ہیں۔ یقین کریں جو کام بھی ہمارے ہاتھ سے سر زد ہوتا ہے، دوسروں کی خدمت کے لیے ہوتا ہے۔
    • کيا يہ بے سر وپا سي مخلوق آدمي زاد ہے؟!
    • شیر قدرے اور چلا اور ایک کھیت کے قریب جا پہنچا۔ کیا دیکھا ہے کہ ایک شخص لکڑیوں کا گھٹا باندھ رہا ہے اور ایک لڑکا بھی اس کی مدد کر رہا ہے اور شاخوں کو الگ الگ ترتیب دے رہا ہے۔
    • شير اور آدمي زاد
    • ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شیر جنگل کے میدان میں بیٹھا اپنے بچوں کو کھیل کود میں مشغول دیکھ رہا تھا
    • گیدوس
    • اس وقت اچانک گڑگڑاہٹ ہوئی، بجلی چمکی اور فضا سے نور برسنے لگا اور میرا رنگ اس طرح کا ہوگیا۔
    • ايک گيدڑ پھندے ميں پھنس گيا
    • جس رات باغ کے مالک نے پھدا لگایا، ڈرپوک گیدڑ دیر سے آیا۔ ایک گیدڑ پھندے میں پھنس گیا اور باقی نے راہ فرار اختیار کی۔
    • رنگيلا گيدڑ
    • ایک تھا گیدڑ، بڑا ڈرپوک مگر بڑا بدفطرت۔ اس نے اپنے ہم جنسوں کو باغ کے انگوروں کو پامال کرنے کا ڈھنگ سکھایا۔
    • حکومت شير کي
    • دہر میں ضرب المثل ہے کیونکہ قوت شیر کی/ ہے جبھی جنگل میں قائم بادشاہت شیر کی
    • چڑيوں کا حملہ
    • چڑیوں کا حملہ شروع ہوا۔ وہ ہاتھی کے اردگرد منڈلانے لگیں اور اس سے پہلے کہ ہاتھی حرکت میں آتا، چڑیاں اس کی آنکھیں نکال چکی تھیں۔
    • ٹيبل ٹينس کي گيند
    • فہمیدہ اور وردہ اپنے لان میں ٹیبل ٹینس کھیل رہی تھیں کہ اچانک گند اچھلی اور تھوڑی دور جا کر زمین میں ایک سوراخ میں گر گئی وہ