• صارفین کی تعداد :
  • 5358
  • 1/2/2008
  • تاريخ :

خوشبختی اور سعادت

خوشبختی اور سعادت کیا هے

ایک دن قارون نے بہت عمدہ لباس پہنا اور بہت عمدہ گھوڑے پر سوار ہوا اور اپنے محل سے باہر نکلا بہت زیادہ نوکر چاکر بھی اس کے ساتھ باہر آئے لوگ قارون کے عظمت و شکوہ کو دیکھنے کے لئے راستے میں کھڑے تھے اور اس قدر سونے اور جواہرات کے دیکھنے پر حسرت کررہے تھے بعض نادان اس کے سامنے جھکتے اور زمین پرگر پڑتے اور کہتے کتناخوش نصیب ہے قارون ! کتنی ثروت کا مالک اور کتنی سعادت رکھتا ہے ! خوش حال قارون ! کتنی اچھی زندگی گزارتا ہے کتنا سعادت مند اور خوش بخت ہے کاش !! ہم بھی قارون کی طرح ہوتے ؟

لیکن سمجھدار مومنین کا دل ان لوگوں کی حالت پر جلتا وہ انہیں سمجھاتے اور کہتے کہ سعادت اور خوش بختی زیادہ دولت میں نہیں ہوا کرتی کیوں اس کے سامنے زمین پر گرپڑتے ہو ؟ ایک ظالم انسان کا اتنا احترام کیوں کرتے ہو وہ احترام کے لائق نہيں : اس نے یہ ساری دولت گراں فروشی اور بے انصافی سے کمائی ہے وہ سعادتمند نہيں سعادتمند وہ انسان ہے جو خدا پر واقعی ایمان رکھتا ہواور اللہ کی مخلوق کی مدد کرتا ہو اور وہ لوگوں کے حقوق سے تجاوز نہ کرتا ہو ایک دن اللہ تعالی کی طرف سے حضرت موسی علیہ السلام کو حکم ہوا کہ دولت مندوں سے کہو کہ وہ زکاۃ دیں ۔

حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ کا حکم دولت مندوں کو سنایا اور قارون کو بھی اطلاع دی کہ دوسروں کی طرح اپنے مال کی زکاۃ دے اس سے قارون بہت ناراض ہوا اور سخت لہجے میں حضرت موسی علیہ السلام سے کہا زکاۃ کیا ہے کس دلیل سے اپنی دولت دوسروں کو دوں وہ بھی جائیں اور کام کریں اور محنت کریں تاکہ دولت کمالیں ۔

حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا زکوۃ یعنی اتنی بڑی دولت کا ایک حصہ غریبوں اورناداروں کو دے تاکہ وہ بھی زندگی گذارسکیں چونکہ تم شہر میں رہتے ہو اور معاشرے کے فرد ہو اور ان کی مدد سے اتنی کثیر دولت اکٹھی کی ہے اگر وہ تیری مددنہ کرتے تو تو ہرگز اتنی دولت نہیں کما سکتا تھا مثلا اگر تو بیابان کے وسط میں تنہا زندگی بسر کرتا تو ہرگز اتنا بڑا محل نہ بنا سکتا اور باغ آباد نہ کرسکتا یہ دولت جوتونے حاصل کی ہے ان لوگوں کی مدد سے حاصل کی ہے پس تیر ی دولت کا کچھ حصہ بھی انہیں نہیں دے رہا بلکہ ان کے اپنے حق اور مال کو زکات کے نام سے انہیں واپس کررہاہے ۔

لیکن قانون نے حضرت موسی علیہ السلام کی دلیل کی طرف توجہ نہ دی اور کہا اے موسی (علیہ السلام) یہ کیسی بات ہے کہ تم کہہ رہے ہو ! زکوۃ کیا ہے ہم نے برا کام کیا کہ تم پرا یمان لے آ‏ئے ہیں کیا ہم نے گناہ کیا ہے کہ نماز پڑھتے ہیں اور اب آپ کو خراج بھی دیں ۔

حضرت موسی علیہ السلام نے قارون کی تند روی کو برداشت کیا اور نرمی سے اسے کہا کہ اے قارون زکوۃ کوئی میں اپنے لئے تو لے نہیں رہا ہوں بلکہ اجتماعی خدمات اور غریبوں کی مدد کے لئے چاہتا ہوں یہ اللہ کا حکم ہے کہ مالدار غریبوں اور ناداروں کا حق اداکریں یعنی زکوۃ دیں تاکہ وہ بھی محتاج اور فقیر نہ رہیں اگر تو واقعی خدا پر ایمان رکھتا اور مجھے خدا کا پیغمبر مانتا ہے تو پھر اللہ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردے اگر نماز پڑھتا ہے تو زکات بھی دے کیونکہ نماز بغیر زکات کے فائدہ مند نہیں ہے تورات کا پڑھنا سمجھنے اور عمل کرنے کے لئے ہے لیکن قارون حضرت موسی علیہ السلام اور مومنین کی نصیحت اور موعظہ کی کوئی پرواہ نہ کی بلکہ اس کے علاوہ مومنین کو اذیت بھی پہنچانے لگا اور حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ دشمنی کرنے لگا یہاں تک تہمت لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتا تھا حضرت موسی علیہ السلام قارون کی گستاخی اور سخت دلی سے بہت ناراض ہوئے اور آپکا دل ٹوٹا اور خدا وند عالم سے درخواست کی کہ اس حریص اور ظالم انسان کو اس کے اعمال کی سزا دے

 

حضرت موسی (ع) کی دعا قبول ہوئی

اللہ کے حکم سےزمین لرزي اورایک شدید زلزلہ آیا اور ایک لحظہ میں قارون کا محل ویران اور زمین بوس ہوگیا اور قارون کو قصر(محل) سمیت زمین نگل گئی اور اس حریص کے ظلم کا خاتمہ کردیا قارون خالی ہاتھ آخرت کی طرف روانہ ہواتاکہ وہ اپنے برے کاموں کی سزا کو دیکھے اوراسے عذاب دیا جائے کہ آخرت کا عذاب سخت اور دائمی ہے اس وقت وہ لوگ جو قارون کو سعادتمند سمجھتے تھے اور اس کی دولت کی آرزو کرتے تھے اپنی غلطی کی طرف متوجہ ہوئے اور توبہ کی اور کہاکتنی بری عاقبت اور برا انجام ہے یہ قارون نے اپنے مال کواپنے ہاتھ سے نہ دیا اور خالی ہاتھ اور گناہ گار آخرت کی طرف روانہ ہوا تاکہ اپنے کئے کا عذاب چکھے اب ہم نے سمجھا کہ تنہا مال اور دولت کسی کو خوش بخت نہیں ہوتی بلکہ خوش بختی خدا پر ایمان اور اللہ کے احکام پر عمل کرنے میں ہے