متعلقه تحریریں
  • یہ مدینہ ہے (حصّہ سوّم)
    یہ مدینہ ہے (حصّہ سوّم)
    یہ بقیع ہے اب ہم اس جگہ قدم رکھ رہے ہیں جہاں کبھی پیغمبر صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے قدم پڑتے تھے ۔
  • یہ مدینہ ہے (حصّہ دوّم)
    یہ مدینہ ہے (حصّہ دوّم)
    بقیع سے ستّر ہزار افراد محشور ہونگے جن کے چہرے چودھویں کے چاند کی طرح درخشاں ہونگے ۔
  • یہ مدینہ ہے
    یہ مدینہ ہے
    یہ مدینہ ہے۔ مہتاب کی ضو فشانیوں میں نہایا ہوا جہاں امید اور آفتاب کے رنگوں کا حسین امتزاج بھی ہے، انسیت اور اپنائیت سے شرسار ایک پر اسرار شہر یہ مدینہ ہے
  • صارفین کی تعداد :
  • 2227
  • 2/6/2011
  • تاريخ :

پاکستان کے شہر " پشاور "  میں واقع اہم مقامات

مسجد مہابت خان

مسجد مہابت خان

 یہ پشاور کی سب سے مشہور مسجد ہے جس کو 1670 ء میں مغلیہ بادشاہوں کے دور حکومت میں تعمیر کروایا گیا ۔  اس کا فن تعمیر مغل طرز کا ہے ۔  اس کے نام کو ایک مقامی گورنر کے نام سے منسوب کیا گیا جس نے مغلیہ بادشاہوں کے دور حکمرانی میں مختلف خدمات انجام دیں تھیں ۔  مسجد کے وسط میں وضو خانہ اور مغرب میں نماز خانہ ہے ۔ اس مسجد کے دو مینار اور تین گںبد ہیں جن پر نقاشی کی گئی ہے ۔ یہ  بہت ہی خوبصورت مسجد ہے اور جب بھی سیاح پشاور کا رخ کرتے ہیں تو مسجد مہابت خان کو دیکھنے کی تمنا ضرور ان کے دل میں ہوتی ہے ۔

قلعہ بالاسر

پشاور کا قدیم شہر چونکہ قلعہ نما تھا جس کے 16 داخلی دروازے ہوا کرتے تھے ۔  اس قلعہ کو " بالا سر " کا نام دیا گیا ۔ یہ بہت ہی وسیع و عریض قلعہ  تھا ۔  اس کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ  راولپنڈی سے پشاور کی طرف آتے ہوۓ دور سے ہی یہ قلعہ دکھائی دیتا  تھا ۔  پاکستان اور افغانستان کے بارڈر پر واقع درہ خیبر سے بھی اس قلعہ کا نظارہ کیا جا سکتا تھا ۔ سب سے پہلے اس قلعہ کو  مغلیہ سلطنت کے پہلے حکمران ظہیرالدین محمد بابر نے 1526 ء میں تعیمر کروایا  تھا ۔  1830 ء میں  پشاور کے گورنر ہری سنگھ  نلوا نے  فرانسیسی ماہرین کی زیر نگرانی اس قلعہ کو ایک بار پھر تعمیر کروایا جو آج بھی  موجود ہے اور اسے دیکھنے کے لیۓ سیاح اس قلعہ کا رخ کر رہے ہیں ۔

چوک یادگار

 یہ چوک قدیم  شہر کا مرکز ہوا کرتا  تھا اور اس چوک کو سیاسی لحاظ سے بےحد اہمیت حاصل تھی ۔  یہاں سے بہت سی سیاسی تحریکوں نے جنم لیا ۔  آج یہ چوک ایک تجارتی مرکز کی صورت میں دکھائی دیتا ہے جس میں قماش قماش کی دکانیں ، زیورات کی دکانیں ، زرمبادلہ کی تبدیلی ، قالین فروشی اور الیکٹرونکس کا سامان دستیاب ہے ۔   زلزلے سے محفوظ رہنے کے لیۓ چوک کے اردگرد کی عمارات لکڑی  اور کچی اینٹوں سے بنائی گئی ہیں ۔ لکڑی سے بنی ہوئی یہ عمارات خوبصورتی کا  عمدہ نمونہ ہیں ۔ بالکونیوں  پر دھاتی کشیدہ کاری بھی کی گئی ہے ۔ آج اس چوک کو بیشتر تجارتی مرکز کی حیثیت سے ہی جانا جاتا ہے ۔

پشاور چھاؤنی

پشاور کا یہ علاقہ جدید طرز پر تعمیر کیا گیا ہے جس میں پارک کثرت سے موجود ہیں ۔

 

تحریر  و ترتیب : سید اسداللہ ارسلان


متعلقہ تحریریں :

کیا مغربی ممالک میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے؟

منہ زوري کے نتائج

امریکي اہداف

مغربی دنیا کے دلفریب نعر ے

امریکہ کے مذموم مقاصد