• صارفین کی تعداد :
  • 3596
  • 5/29/2010
  • تاريخ :

مجھے ہاتھی خریدنا ہے (حصّہ اوّل)

مجھے ہاتھی خریدنا ہے

منّا آج اپنے ڈیڈی کا بڑی  بے تابی سے انتظار کر رہا تھا ۔ منے کے ابا ایک سکول ٹیچر تھے اور رات تک ہوم ٹیوشن پڑھاتے تھے ۔ لیکن آج نہ جانے  کیوں منّے کی اپنے ابا جان سے ملنے کی خواہش تیز تر ہوتی جا رہی تھی ۔ منے نے  گھر میں ادھم مچا رکھا تھا ۔  اماں بھی بہت حیران تھی لیکن اس نے  بچے کو پیار کیا اور کہنے لگی بیٹا ! آپ کے ڈیڈی بس آتے ہی ہونگے ۔ رات کے گیارہ بج چکے تھے بچے کی ضد زور پکڑتی جا رہی تھی ۔ ماں نے منے کو لوریاں دیں ، سلانے کی کوشش کی لیکن  بےسود ۔ پتہ نہیں منے کو آج اپنے ابا جان سے کون سا اتنا ضروری کام تھا جس کے لیۓ وہ اتنی ضد کر رہا تھا ۔  آخر کار انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں ۔ دروازے پر دستک ہوئی اور ابو آ گۓ ۔ ڈیڈی ڈیڈی ! منّا خوشی سے چلایا اور ابو کے ساتھ لپٹ گیا ۔ ڈیڈی نے منے کو پیار کیا اور اس کے معصوم سے گالوں کو بوسا اور پھر وہ دونوں خوشی خوشی کمرے میں چلے گۓ ۔

منّے نے کہا!  ڈیڈی مجھے آپ سے آج ایک ضروری بات کرنی ہے لیکن پہلے آپ مجھے بتائیں کہ آپ میرا کہا مانیں گے یا نہیں ؟

ڈیڈی نے چاند کے سے بیٹے کے سر پر پیار سے  ہاتھ پھیرا اور کہا ! ہاں بیٹا آپ کہو تو سہی ۔

منے نے کہا !  ابو جان  مجھے ہاتھی خریدنا ہے ، زندہ ہاتھی ۔

بیٹے کی معصوم خواہش اور فرمایش  پر باپ کو پیار آیا ۔ گالوں پر تھپکی  دی اور کہا ! بیٹا کل ہم بازار جا کر ہاتھی خرید لیں گے ۔

لیکن منّا بضد ہوا کہ اسے آج ہی اور اسی وقت زندہ ہاتھی چاہیے ۔

منّے کے ابا اس حسرت کو پس پشت نہ ڈال سکے اور بولے ! " اچھا بیٹا جلدی سے تیّار ہو جاؤ "

منّے نے خوشی سے چھلانگ گلائی اور امّی کے پاس پہنچا اور بولا " میں نہ کہتا تھا میرے ڈیڈی میرا کام ضرور کریں گے ۔ اس وقت رات کے دو بج چکے تھے ، سردی کی شدّت اپنے عروج پر تھی ، دونوں باپ بیٹا کانوں پر مفلر لپیٹے بازار کی طرف چل نکلے ۔ سبھی دکانیں بند پڑی تھیں ، سڑک سنسان پڑی تھی ، سامنے دور کچھ لوگ نظر آۓ ۔ قریب پہنچنے پر معلوم ہوا کہ ایک ہوٹل کھلا ہے جہاں کچھ لوگ چاۓ پی رہے تھے ۔ ڈیڈی نے کہا ! "جاؤ بیٹا ہوٹل میں بیٹھے ہوۓ لوگوں سے کہو کہ مجھے ہاتھی خریدنا ہے "

منّا دوڑتا ہوا ہوٹل میں موجود لوگوں  کے پاس گیا اور سلام کرنے کے بعد وہاں پر موجود لوگوں سے کہنے لگا کہ اسے ہاتھی خریدنا ہے ۔ منّے کی بات سن کر ہوٹل میں موجود لوگوں نے قہقہہ لگایا اور کہا بیٹا ! اس وقت تو  کھلونوں کی دکانیں بند ہیں ۔ "

 منّے نے کہا !" مجھے زندہ ہاتھی خریدنا ہے "

لوگوں نے پھر مذاق اڑایا اور کہا  " بیٹا ! زندہ ہاتھی تو آپ کو کہیں سے  بھی نہیں ملے  گا "

 

تحریر : ڈاکٹر ظہیر عباس ( ملک وال ضلع منڈی بہاؤالدین )

پیشکش : شعبۂ  تحریر و پیشکش تبیان        


متعلقہ تحریریں :

حلال اور حرام کمائی کے اثرات

اخلاقی محبت