• صارفین کی تعداد :
  • 4629
  • 10/6/2009
  • تاريخ :

نیند اور بے خوابی (حصّہ دوّم )

سوجانا

چند باتیں جو آپ کی نیند کو بھگاتی ہیں اور آپ کے لیے سونا دشوار بنا دیتی ہیں وہ یہ ہیں۔

١۔ آپ کی خواب گاہ میں شور اور تیز روشنی کی موجودگی نیند کی راہ میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔

٢۔ آپ کا بستر آرام دہ نہ ہو تو نیند نہیں آتی ہے یا اگر آپ کا بستر حد سے زیادہ گرم ہو یا از حد سرد ہوتو نیند آنے میں دشواری ہوتی ہے۔

٣۔ اگر آپ کے سونے جاگنے کے معمولات میں تبدیلی ہوجائے تو بھی آپ کی نیند پر اثر پڑتا ہے۔

٤۔ اگر آپ جسمانی محنت بہت کم کرتے ہیں اور آرام دہ زندگی بستر کرتے ہیں تو بھی آپ کی نیند پر اثر پڑتا ہے۔

٥۔ اگر آپ بہت زیادہ غذا لیتے ہیں تو بھی آپ کی نیند متاثر ہوتی ہے۔

٦۔ اگر آپ بہت کم کھاتے ہیں تو صبح سویرے آپ کی آنکھ بھوک کی وجہ سے جلدی کھل سکتی ہے۔

٧۔ سگریٹ نوشی‘ چبانے والے تمباکو کا استعمال کافی یا چائے کی زیادتی بھی آپ کی نیند کو متاثر کرتی ہے۔

٨۔ جسمانی درد کی اور تکلیف کی صورت میں بھی نیند پر اثر پڑتا ہے۔

٩۔ بخار کی کیفیت میں بھی نیند غائب ہوسکتی ہے۔

١۰۔ جذباتی الجھنیں‘ نفسیاتی پریشانیاں اور ذہنی و جسمانی دبائو سے نیند متاثر ہوتی ہے۔

١١۔ نفسیاتی امراض مثلاً تشویش کی بیماری‘ اداسی کی بیماری اور جنون و یاسیت کی بیماری سے لے کر شیز و فرینیا کی بیماری تک ہر قسم کی نفسیاتی بیماری میں نیند متاثر ہوتی ہے۔

١٢۔ مختلف ادویات بھی نیند پر اثر ڈالتی ہیں۔

اب آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ نیند کتنی نازک ہوتی ہے اور بے خوابی کے کتنے سارے اسباب ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خواب آور ادویات سے بے خوابی کو دور کیا جاسکتا ہے؟ یوں تو خواب آور ادویات ایک زمانے سے استعمال کی جارہی ہیں اور یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ ان ادویات کے استعمال کرنے سے نیند تو آجاتی ہے مگر جاگنے کے بعد طبیعت گری گری رہتی ہے اور مزاج میں چڑچڑاپن بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ نیند لانے والی دوائیں بہت جلد اپنے اثرات کھو بیٹھتی ہیں اور بعد میں آپ کو نیند لانے کے لیے ان دوائوں کی زیادہ مقدار کی ضرورت پڑنے لگتی ہے اور یوں کچھ دن بعد ان دوائوں کی عادت پڑ جاتی ہے۔ ڈائی زایام Diazeam گروپ کی ادویات کی یہ خصوصیات ان دوائوں کے استعمال میں احتیاط کا تقاضہ کرتی ہیں۔

ان خواب آور ادویات کو جتنی طویل مدت تک لیا جائے گا اتنا ہی ان کی عادت پڑ جانے کا خطرہ بڑھے گا۔ احتیاط کا تقاضہ تو یہ ہے کہ ان دوائوں کو بحالت مجبوری‘ بہت کم وقت کے لیے استعمال کیا جائے اور ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق استعمال کیا جائے۔ یہ بات بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بہت ساری دوائیں ایسی ہوتی ہیں جو نیند کو بھگا دیتی ہیں۔ وہ دوائیں جو نیند کے نظام کو برے طور پر متاثر کرتی ہیں۔ ان میں شراب‘ وزن کم کرنے والی گولیاں‘ کوکین‘ چرس‘ گانجا اور نیند کو دور کرنے والی گولیاں شامل ہیں (مثلاً ایم فٹ امین Amphetamine)۔

تحریر : ڈاکٹر سید باقر رضا  (  انفکشن کنٹرول سوسائٹی )


متعلقہ تحریریں:

ذیابطیس نوع ثانی كا خطرہ كن كے لئے ہے؟

ذیابطیس كیا ہے