متعلقه تحریریں
  • انسانیت بنیاد یا عمارت
    انسانیت بنیاد یا عمارت
    انسان ایک قسم کا حیوان ہے اس لئے دوسرے تمام جانداروں کے ساتھ اس کی بہت ساری چیزیں مشترک ہیں اور یہ بعض بنیادی فرق بھی رکھتا ہے جن وجہ سے انسان...
  • قرآن و سنت کی روشنی میں امت اسلامیہ کی بیداری
    قرآن و سنت کی روشنی میں امت اسلامیہ...
    اسلامی امۃ کی سب سے بڑی مصیبت بعض مسلمانوں کا بعض مسلمانوں کو کافر قراردینا یا ان کی تکفیر ہے یہ مصیبت فرقوں...
  • تفریح کی ضرورت
    تفریح کی ضرورت
    سامراجی طاقتوں کی برابر یہ کوشش رھتی ہے کہ کس طرح سے فکری صلاحتیوں کو سلب کر کے ، ان کو ارادہ و اختیار سے محروم کر کے ان کی تقدیر کو اپنے ھاتھوں...
  • صارفین کی تعداد :
  • 3810
  • 4/29/2008
  • تاريخ :

مغربي فتنے کا جواب ... تکبير مسلسل…

اسلام مخالف سرگرميوں پر مسلمان سراپا احتجاج

قيادت علمي ہو، مذہبي ہو يا سياسي، اس کا کام عوامي جذبات کي ترجماني ہي نہيں عوامي ذوق اور فکر کي تعمير قیادت علمی ہو، مذہبی ہو یا سیاسی، اس کا کام عوامی جذبات کی ترجمانی ہی نہیں عوامی ذوق اور فکر کی تعمیر بھی ہے۔

 

ڈاکٹر بابراعوان نے دونوں کام ایک ساتھ کیے ہیں اور عصری حوالے سے اس امت ِمرحومہ پر عائد ایک فرض کفایہ ادا کیا ہے۔ موذن مرحبا بر وقت بولا تیری آواز مکے اور مدینے الہامی مذاہب میں اسلام کے دو امتیازات ایسے ہیں جن کی نوعیت علمی مسلماّت کی ہے۔ ایک رسالت مآب ۔ص۔کی ذات ِ والا صفات کا تاریخی مقام اور دوسرا قرآن مجید کی الہامی حیثیت۔ اللہ نے انسانوں کی راہنمائی کے لیے ایک لاکھ سے زیادہ پیغمبر بھیجے جن کے بر حق ہو نے میں کوئی شبہ نہیں۔ تاہم یہ معاملہ صرف خاتم الانبیا کے ساتھ خاص ہے کہ وہ محض تقدس کے حامل نہیں بلکہ تاریخی طور پر ایک ثابت شدہ شخصیت ہیں،جنہیں اگر مذہبی عقیدے سے الگ کرکے دیکھا جائے تو بھی ان کے وجود کا انکا ر ممکن ہے نہ عالم انسانیت پر ان کے احسانات کا۔ ہم مسلمانوں کے لیے تو سیدنا ابراہیم، سیدنا موسیٰ اور سیدنا مسیح علیہم السلام سمیت سب رسول اورنبی تاریخ کی مسلّمہ شخصیات اور ہمارے ایمان کا ناگزیر حصہ ہیں لیکن مغرب کے بعض علمی حلقے ان تمام برگزیدة ہستیوں کی تاریخی حیثیت کو چیلنج کرتے رہے ہیں۔

 

وہ ان کا شمار ایسے مذہبی توہمات میں کرتے ہیں جو علمِ ِ تاریخ کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔ آج اس گروہ کے لیے بھی ممکن نہیں کہ وہ رسالت مآب کی تاریخی حیثیت کو مشتبہ بنا سکے۔ اسلام کا دوسرا امتیاز قرآن مجید ہے۔ یہ واحد الہامی کتاب ہے جو اسی طرح آج بھی موجود ہے جیسے یہ نازل کی گئی تھی۔ اس کی زبان توقیفی ہے اور اس کی ترتیب بھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ساری دنیا میں قرآن مجید کے نام سے پائی جا نے والی کتاب ایک ہی ہے۔ الہامی کتب کے معاملے میں بھی ہم مسلمانوں کا عقیدہ بڑا واضح ہے۔ ہم تورات، انجیل، زبور اور دوسرے صحیفوں کو منزّل من اللہ مانتے ہیں تاہم علم کی دنیا میں یہ معروف بات ہے کہ قرآن مجید کے سوا کسی الہامی کتاب کے بارے میں یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ آج ہمارے پاس اسی زبان، ترتیب اور بغیر کسی تحریف کے موجود ہے جس طرح یہ اللہ کی طرف سے اتاری گئی تھی۔

محمد رسول الله

تاریخ کے مختلف ادوار میں بعض افراد اور گروہوں کومذہبی تعصب،جہالت، لاعلمی یا پھر سیاسی مقاصد کے تحت یہ خیال ہوا کہ اسلام کے ان دو امتیازات کو اگر مشتبہ بنا دیا جا ئے تو وہ اپنی اصل قوت سے محروم ہو سکتا ہے۔ چنانچہ مغرب میں بعض حلقوں نے قرآن مجید اور رسالت مآب کی شخصیت کو نقد کا موضوع بنا یا۔ اس مہم میں کچھ لوگوں نے علمی اسلوب اپنایا۔ بعض اپنی ذہنی ساخت کے مطابق پست سطح پر اترے اور انہوں نے اسلام کے ان دو امتیازات کو تشنیع و توہین کا ہدف بنا یا۔ مغرب میں جس طرح تنقید کے یہ مظاہر معیار کے اعتبار سے الگ الگ ہیں اسی طرح تاریخی حوالے سے اس کے اسباب جدا جدا ہیں۔ مثال کے طور پرسپین میں مسلمانوں کے دور ِحکومت میں اس نوعیت کے جو واقعات ہوئے، ان کی وجوہات صلیبی جنگوں کے تناظر میں ہونے والی تنقید سے مختلف ہیں۔ اسی طرح دورجدید کی نوعیت بالکل دوسری ہے۔ جب تک اس تنقید اور اس کے مختلف اسالیب کو ان تاریخی اسباب کے تحت رکھ کر نہیں سمجھا جائے گا،ہمارا ردعمل موثر نہیں ہوگا۔ میں اس اجمال کی قدرے تفصیل کرتا ہوں۔

 

۱۴۱۱ء میں قرآن مجید کا پہلا ترجمہ فرانس میں ہوا جو لاطینی زبان میں تھا۔1461 ء میں اس ترجمے کو فرانسیسی زبان میں منتقل کیا گیا۔ اسی سال براہ راست عربی سے بھی قرآن کا فرنچ ترجمہ سامنے آیا۔  1437ء میں انگریزی زبان میں قرآن مجید کا پہلا ترجمہ ہوا جو براہ راست متن سے کیا گیا۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مغرب میں اسلام شناسی کی تا ریخ کتنی پرانی ہے۔ اسی طرح یہ سترہویں صدی کا واقعہ ہے جب آکسفورڈ یونیورسٹی میں عربی زبان کی با قاعدہ تدریس کا آغاز ہوا۔ اس سے اسلام کو سمجھنے کے مزید مواقع پیدا ہوئے۔

 

آکسفورڈ یونیورسٹی میں یہ ذمہ داری ایڈورڈ پکاک کو دی گئے جو چھ سال تک شام میں پادری رہ چکے تھے۔انہوں نے اپنی تصنیفات میں بتایا کہ مسیحی دنیا میں اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے بارے میں جو کہانیاں مشہور ہیں،مسلمان ان پر یقین نہیں رکھتے اور انہیں بے بنیاد قرار دیتے ہیں۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اس طرح کی تحقیقات سامنے آ نے سے اسلام پر اعتراضات یا توہین کے واقعات کا خاتمہ ہوگیا تاہم یہ ضرور ہوا کہ ان لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوا جنہوں نے انصاف کے ساتھ واقعات کو بیان کیا اور مغربی دنیا کو بتایا کہ رسالت مآب -ص- کیسی پاکیزہ اور غیر معمولی شخصیت تھے اور قرآن کس طرح الہامی کلام ہے۔

 

اس باب میں ہم منٹگمری واٹ، مائیکل ہارٹ، کارلائل اور کیرن آرم سٹرانگ جیسے بہت سے افرد کا ذکر کر سکتے ہیں۔ جب میں ان تنقیدی واقعات کے تاریخی پہلو کا ذکر کرتا ہوں تو اس سے مراد یہ ہے کہ تاریخ کے ہر عہد میں مغرب کا مذہبی اورتہذیبی تشخص ایک جیسا نہیں تھا۔ مثال کے طور پر مغرب کے ۴۳ ممالک میں سے چودہ ایسے ہیں جہاں مسلمانوں نے سو سال سے زیادہ حکومت کی۔ ظاہر ہے اس دور میں مغرب کا تشخص کچھ اور تھا۔ اسی مغرب میں ایک وقت ایسا آیا جب یہودیوں کے ساتھ تعصب ردا رکھا گیا اور ساٹھ لاکھ یہودی مار دیے گئے۔

 

 صرف پچاس سال پہلے تک جنوبی امریکا کی کئی ریاستوں میں کالوں کے ساتھ یہودیوں پر بھی یہ پابندی تھی کہ وہ گوروں کے کلبوں اور ہوٹلوں میں داخل نہیں ہو سکتے۔  ہارورڈ یونیورسٹی کے بعض اہم شعبوں میں یہودیوں کے لیے محدود کوٹا تھا۔ آج ہمیں یہودیوں اور مسیحیو ں کے مابین جو محبت دکھائی دیتی ہے اس کی تاریخ چالیس پچاس سال سے زیادہ نہیں۔۶۹۱ء سے پہلے کسی معروف دانش ور کے ہاں ہمیں یہودی مسیحی تہذیب(Judeo-Christian Civilization) کا تصور نہیں ملتا۔

 

اسی طرح آج کے مغرب کو دیکھیے تو وہ کثیر المذہبی(Pluralist) معاشرہ ہے جہاں اسلام دوسرا سب سے بڑا اور سب سے تیزی کے ساتھ پھیلنے والا مذہب ہے۔ گویا آج کے مغرب کا ہر تعارف اسلام کے بغیر ادھورا ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں مغرب کا تبدیل ہوتا تشخص یہ بتاتا ہے کہ ہر عہد پر یکساں حکم نہیں لگایا جا سکتا۔ مغرب کا چونکہ کوئی ایک تاریخی،تہذیبی یا مذہبی حوالہ نہیں اس لیے وہاں ہمیں اسلام کے بارے میں یک رنگی بھی دکھائی نہیں دیتی۔ معروف تاریخ دان اور سکالر فلپ ہٹّی نے اپنی کتاب «اسلام اور مغرب» میں اس حوالے سے بہت سی تفصیلات بیان کی ہیں۔

 

ان کا تبصرہ یہ ہے کہ اسلام اور رسالت مآب -ص- کے بارے میں مغربی مقالہ نگاروں اور مورخوں کا معاملہ مذہبی علماء، کہانی نویسوں اور شاعروں سے مختلف ہے۔ آج ہم جن کے خلاف سراپا احتجاج ہیں وہ اس دوسرے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، جیسے سلمان رشدی جو ایک داستان نگار ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کی کوئی سنجیدہ تاریخی اور علمی حیثیت نہیں۔

 

 ہالینڈ میں بننے والی فلم «فتنہ» کے فلم ساز کو میں اسی طبقے میں شامل کرتا ہوں۔ مجھے اس فلم کے بعض حصے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ واقعہ یہ ہے کہ نفس مضمون کے ساتھ فنی اعتبار سے بھی یہ ایک پست درجے کی کوشش ہے جس سے فلم ساز کی بدذوقی پوری طرح نمایاں ہے۔ مغرب میں ہو نے والی ان تنقیدوں اور زبان درازیوں کے خلاف اگر مسلمان سراپا احتجاج ہیں تو یقیناً اس کا جواز موجود ہے۔ تاہم اس باب میں مختلف آرا ہیں کہ اس احتجاج کو کس طرح زیادہ موثر بنایا جا سکتا ہے۔ بہت سے لوگ اپنی افتاد ِ طبع اور ذوق کے مطابق زبان و قلم یا پھر احتجاج کے مختلف اسالیب سے اس کا جواب دے رہے ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ اعتراض کے لیے جو میڈیم اختیار کیا گیا ہے،ہمیں اسی میں جواب دینا چائیے۔اگر کوئی کتاب لکھی گئی ہے تو ہمیں جواباً کتاب سے اس کو رد کر دینا چائیے۔

 

اسی طرح اگر فلم بنائی گئی ہے تو ہمیں جواب میں فلم بنا کر اس کا توڑ کرنا چائیے۔ ڈاکٹر با براعوان نے اسی محاذ پر سرگرم ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ کم و بیش ایک ماہ پہلے جب انہوں نے مجھ سے مشورہ چاہا تو میں نے ان کی خدمت میں یہ عرض کیا تھا کہ رسالت مآب کی شخصیت تاریخی اعتبار سے ثابت اور اتنی پاکیزہ ہے کہ اس کو صرف نمایاں کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کی روشنی کا پھیلنا ہی تاریکی کی موت ہے۔ یہی معاملہ قرآن مجید کا ہے۔ قرآن ہمارے دفاع کا محتاج نہیں۔ ہمیں تو صرف لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ یہ ہے کیا۔ باقی کام قرآن کا استدلال اور اسلوب خود کرے گا۔ ڈاکٹر بابراعوان نے ایک ایسے کام کا آغاز کیا ہے جس کی آج سب سے زیادہ ضرورت ہے اور جسے سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا ہے۔ایک مغربی پالیمنٹیرین کی طرف سے بننے والی ایک فلم کا ایک مسلمان پارلیمنٹیرین کی طرف سے جواب کا خیر مقدم کیاجانا چائیے۔ حاجی عبدالجبارجیسے لوگ بھی ہماری تحسین کے مستحق ہیں جو اس کار ِخیر میں با براعوان کا ساتھ دے رہے ہیں۔

 

اگر اسی طرح چراغ سے چراغ جلتے رہے تو قرآن کے پیغام اور شمع ِ رسالت کی روشنی زمانے میں چہار سو پھیلے گی۔ یہ دونوں ایک ہی منبع ِنور سے اٹھنے والی شعاعیں ہیں۔ اس روشنی کا پیغام یہ ہے کہ دنیا میں فتنہ اس وقت پھیلا جب انسان اس ہدایت سے بے نیاز ہوئے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں اور پیغمبروں کے ذریعے نازل فرمائی۔ آج فتنے سے نجات کا واحد راستہ اس ہدایت کی طرف رجوع ہے جس کا ماخذ قرآن مجید اورمحمد -ص-کی ذات والا صفات ہے۔ یہ الہامی ہدایت کا آخری،مستند ترین اور تجدید شدہ ایڈیشن ہے۔

 

یہ و ہی ہدایت ہے جسے اللہ نے اس سے پہلے کبھی تورات و انجیل کی صورت میں نازل کیا اور کبھی ابراہیم،موسی ٰو مسیح علیہم السلام کو اس کا نمائندہ بنایا۔ با بر اعوان کی فلم کا یہی پیغام ہے۔ دشنام انہی کو مبارک جن کی تہذیب میں اس کی گنجائش ہے۔ ہم تو اس پیغمبر کے نام لیوا ہیں جن کا تعارف اس عالم کے پروردگار نے یہ کرایا ہے کہ «وانک لعلیٰ خلق عظیم»(اور آپ، لاریب اعلی ٰاخلاق پر ہیں)۔ دیکھیے اس کے بعد کیسے اللہ نے اپنے رسول کو تسلی دی ہے۔"اب کچھ دیر نہ ہوگی کہ تم بھی دیکھو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ تم میں سے کون فتنے میں پڑا ہوا ہے"۔بلا شبہ اللہ کے آخری رسول(ص) کی زندگی میں لوگوں نے بچشم ِسر دیکھ لیا۔ قرآن آج بھی یہ بتا رہا ہے کہ فتنے میں کون پڑا ہے بشرطیکہ ہم اس کے پیغام کو عام کر سکیں۔ اسے دنیا تک پہنچانا اہل علم اور ان لو گوں کا کام ہے جو اس امت کی فکری و سیاسی قیادت کا دعویٰ رکھتے ہیں۔با بر اعوان نے جو قدم اٹھا یا ہے اس کی تقلید کی ضرورت ہے یعنی عصری ضروریات کی رعایت سے فہم ِدین کو عام کرنا اور اس پر کیے گئے اعتراضات کا جواب دینا۔ یہ بات اس لیے بھی اہم ہے کہ قیادت کا کام عوامی جذبات کی ترجمانی ہی نہیں عوامی ذوق اور اور فکر کی تعمیر بھی ہے۔                                                                                      

                                                                    تحرير: خورشيد نديم


متعلقہ تحريريں:

   اسلام مخالف سازشوں کا مرکز امريکہ

  ڈنمارک سے اسلامي ممالک اپنے تعلقات منقطع کر ليں : عرب پارليمنٹ

  قرآن و سنت کي روشني ميں امت اسلاميہ کي بيداري