• صارفین کی تعداد :
  • 2044
  • 1/14/2009
  • تاريخ :

غزہ پر حملہ اور صیہونی حکومت کا موقف

palestin

غزہ پر صیہونی فوج کا حملہ رکوانے کیلئے صیہونی حکومت پر دباؤ کے بعد جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد اٹھارہ سو ساٹھ کی منظوری کے باوجود صیہونی وزیرخارجہ تزیپی لیونی نے اپنے ایک گستاخانہ بیان میں تاکید کی ہے کہ صرف ہم یہ فیصلہ کریں گے کہ غزہ پر حملہ کب بند کریں۔

 

تزیپی لیونی نے تاکید کے ساتھ کہا کہ اسرائیل یہ تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کے بارے میں کوئی فیصلہ کرسکتی ہے۔ صیہونی وزیرخارجہ کے بیانات نے ایک بار پھر ثا بت کردیا ہے کہ اس کی نظر میں اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی کوئی اہمیت نہيں ہے صیہونی حکومت کے جرائم سے نمٹنے کے سلسلے میں  اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے کمزور رویے  نے اسے عالمی قوانین پامال کرنے اور اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو نظرانداز کرنے کے تئيں مزید گستاخ کردیا ہے اقوام متحدہ کی جانب سے کوئی ٹھوس فیصلہ کئے جانے کے سلسلے میں امریکہ برطانیہ اور فرانس کی جانب سے ہونے والی رکاوٹیں اس بات کا باعث بنیں ہیں کہ وہ صیہونی حکومت کے ساتھ نمٹنے میں اقوام متحدہ کے منشور کےمطابق عمل نہیں کر پا رہا ہے اور اس طرح یہ عالمی ادارہ صیہونی حکومت اور مغربی حکومتوں کے ہاتھوں کا کھلونہ بن کے رہ گیا ہے۔صیہونی وزیرخارجہ کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل غزہ میں مزید جرائم کا ارتکاب کرنا چاہتا ہے اور صیہونی حکومت سے نمٹنے کے سلسلے میں عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی جانب سے کسی قسم کا لیت ولعل عملی طور پرفلسطینیوں کے قتل عام کی زمین مزید ہموار کردے گااور انھیں مزید المیے کا سامنا کرنا پڑے گا ان حالات میں رائےعامہ کوتوقع ہے کہ اقوام متحدہ بالخصوص سلامتی کونسل ٹھوس تدابیر اختیار کرتے ہوئے صیہونی حکومت کو مظلوم فلسطینی عوام پر جرائم جاری رکھنے سے روکے گی ۔

                                        اردو ریڈیو تہران


متعلقہ تحریریں:

غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت میں تبیان کے صارفین کا بیان

فلسطین کی تاریخ اور اس پر تسلط حاصل کرنے کے طریقہ کار

فلسطین پر دستاویزی فلمیں