• صارفین کی تعداد :
  • 1925
  • 3/17/2012
  • تاريخ :

اشاعت اسلام کے مرکزي ايشيا پر اثرات ( حصّہ ششم)

بسم الله الرحمن الرحیم

تجارت کے اعتبار سے مرکزي ايشيا کي جغرافيائي جائے وقوع بھي بہت زيادہ اہميت کي حامل ہے، سمندري راستے کے کشف سے پہلے مرکزي اور مشرقي ايشيا کي مشرقي يورپ اور مشرق کے نزديکي ملکوں کے درميان تجارت، اسي راستے پر تکيہ کرتي تھي(2)

تاريخي نظر سے مرکزي ايشيا کے لوگ دو دستوں ميں تقسيم ہوتے ہيں:

1- پہلا دستہ خانہ بدوشوں کا ہے اور دوسرا دستہ شہر نشينوں کا، سب سے پہلے شہري مراکز تقريباً حضرت عيسيٰ مسيحï·¼ کي ولادت سے 1500/سال پہلے ترکمنستان ميں اور احتمالاً ايران پسند لوگوں سے بسائے گئے، سکندر کے ذريعہ ”‌ہخامنشيان“ کي بربادي کے بعد اس کے جانشينوں نے ہينسم کو مرکزي ايشيا کے جنوبي علاقہ ميں اپنا رئيس بنا ليا(4) عيسيٰ مسيحï·¼ کي ولادت سے قبل تيسري صدي کے درمياني حصّے ميں مرکزي ايشيا کے مشرق ميں (آج کا ازبکستان) يوناني-بلخي (باکتري) حکومت تشکيل پائي، حالانکہ مرکزي اشيا کا مغربي حصّہ (آج کا ترکمنستان) پارٹ بادشاہت سے متحد ہوگيا اسي وجہ سے الگ الگ تہذيبيں وجود ميں آئيں ليکن يہ پورا علاقہ ايک ہي شاہ راہ بنام (شاہ راہ ريشم) سے جڑتا تھا- يہ ايک ايسا تجارتي راستہ تھا جو پورے بِّراعظم جيسے چين، ہندوستان، وسطي ايشيا اور کالے سمندر کے ساحلي کے ممالک سے گذرتا تھا (5)

حضرت عيسيٰ مسيح کي ولادت کے تيسرے سال کہ جب ايران پر ساساني گروہ حاکم تھا تو اُس نے مرکزي ايشياء کے جنوبي حصّے ميں دوبارہ سے اپنا جھنڈا گاڑ ديا-

ان کي حکومت کے دوران کئي صديوں تک اس علاقہ کا سياسي انتظام، ثقافتي سرگرمياں اور اقتصادي حالات بہت مناسب رہے(6) ليکن ساتويں صدي عيسوي ميں عربيوں کے حملہ سے لے حالت بدل گئي (7) اسلام نے نہ فقط ايک جديد عقيدتي نظام بدلا بلکہ اس نے ايک اجتماعي اور معرفت شناسي کا نيا نظام پيش کيا (8)