• صارفین کی تعداد :
  • 2782
  • 10/7/2009
  • تاريخ :

اسلامی تہذیب و تمدن ( حصّہ دوّم )

اسلامی تہذیب و تمدن

چوتھی ہجری اسلامی تہذیب و تمدن کے عروج کی صدی ہے۔ چوتھی صدی ہجری میں، یعنی گيارہویں صدی عیسوی، یعنی یورپ میں تاریکی جہالت کے اوج کے زمانے میں، ایران اسلامی شکوفائی و ترقی کے نقطہ کمال پر تھا۔ اس دور کے سارے علماء و دانشور معدودے چند کو چھوڑ کر سب ایرانی تھے۔ ایک زمانے مین مغرب والوں نے مشرق اور اسی ایران سے علم حاصل کیا ہے۔ اس وقت دنیا میں رائج بہت سے علوم کی بنیاد ایرانیوں کے ہاتھوں پڑی۔ یورپ کی نشآت ثانیہ اسلامی ممالک اور علاقوں میں انجام پانے والے ترجموں کی بنیاد پر عمل میں آئی اور یہ ایسے عالم میں ہوا کہ ایران میں دینداری یورپ سے کم نہیں بلکہ بہت زیادہ تھی۔ معلوم ہوا کہ دین، علم و دانش کے راستے میں رکاوٹ نہیں بلکہ کوئی اور ہی شئ ہے جو علم و دانش کی راہ میں حائل ہو جاتی ہے۔ وہ شئ کیا ہے؟ وہ لوگوں کی گوناگوں جہالتیں اور اس زمانے کی عیسائی مذہب کی خرافاتیں تھیں۔ عالم اسلام میں کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی عالم کی علم رکھنے کے جرم میں توہین کی گئی ہو، جبکہ یورپ میں کسی شخص کو علم رکھنے کی بنا پر قتل کر دیا گيا، کسی کو سنگسار کر دیا گيا، کسی کو سولی پر چڑھا دیا گیا تو کسی کو آگ میں ڈال دیا گيا۔ یعنی ان لوگوں نے اپنے یہاں رونما ہونے والی چیزوں کو جو تحریف شدہ عیسائيت اور جہالت زدہ خرافات کی آمیزش کا نتیجہ تھیں پوری دنیا میں پھیلا دیا۔ آج مسلمانوں کا گناہ کیا ہے؟ اسلام کا جرم کیا ہے؟ مسلمان قوموں کا گناہ کیا ہے؟

اس میں شک نہیں کہ اسلام ایک روحانی و اخلاقی تحریک کا نام ہے لیکن علمی ارتقاء اور اقتصادی پیشرفت بھی اس کے بنیادی اہداف میں شامل ہے۔ اسلام کے ظہور کو ابھی پچاس سال کا عرصہ بھی نہیں گزرا تھا کہ اس وقت کی متمدن اور مہذب دنیا کا پچاس فیصدی سے زائد حصہ پرچم اسلام کے سائے میں آ گيا اور ابتدائی دو صدیوں میں عالم اسلام، علم و دانش اور معاشی و سماجی ترقی کے لحاظ سے اوج پر پہنچ گیا۔ یہ نتیجہ تھا اسلامی تعلیمات کا جو روحانیت و معنویت کے ساتھ ہی ساتھ مادی ترقی پر بھی تاکید کرتی ہیں۔

مغرب کی مادی تہذیب مادہ پرستی کی جانب لے جاتی ہے۔ پیسہ، پیٹ اور شہوت ہی نصب العین بن کر رہ گیا ہے۔ دنیا کے ایک بہت بڑے حصے میں صفائے باطن، مساوات، درگذشت و ایثار کی جگہ نیرنگ و سازش، حرص و طمع، بغض و حسد، بخل و خست اور دیگر اوصاف رذیلہ نے لے لی ہے۔

آج اگر مغربی دنیا اور مغربی تہذیب کی پوسٹ ماڈرن سائنس و ٹکنالوجی انسانیت کو نجات دلانے سے قاصر ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ انسانیت سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

اگر کہیں علم و دانش تو ہو لیکن ضمیر و اخلاق و معنویت و احساسات ناپید ہوں تو انسان کو اس علم و دانش سے کوئی نفع پہنچنے والا نہیں ہے۔ اخلاق و روحانیت کا فقدان ہو تو علم ایٹم بم میں تبدیل ہو جاتا ہے، بے گناہوں کی زندگی دشوار کر دیتا ہے، اسلحہ میں تبدیل ہو جاتا ہے، مقبوضہ فلسطین و لبنان اور دنیا کے دیگر علاقوں میں عام شہریوں کو نشانہ بناتا ہے، مہلک کیمیاوی مادے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ حلبچہ اور دنیا کے دیگر علاقوں میں عورتوں بچوں، پیر و جواں اور انسان و حیواں سب کو نابود کرکے رکھ دیتا ہے۔

اسلامی تہذیب اور اس کی جانب گامزن مقدس اسلامی جمہوری نظام کے تناظر میں ہمارا ہدف یہ ہے کہ ہم علم و دانش کو روحانیت و معنویت کے زیر سایہ آگے بڑھائیں۔

 اگر آپ آج دیکھ رہے ہیں کہ دین پر ہماری عمل آوری کی نسبت مغرب کو اعتراض ہے، ہماری دینداری کو تعصب اور رجعت پسندی کا نام دیا جاتا ہے اور اخلاقی و انسانی اصولوں سے ہماری دلچسپی کو انسانی حقوق کی مخالفت قرار دیا جاتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری یہ روش ان کے طرز عمل کے بر خلاف ہے۔ ہمیں علمی و عملی کوششوں کے ثمرات اور کامیاب انسانی تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے مادی و روحانی پیشرفت و ارتقاء کا پودا خود لگانا چاہئے اور اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ پھلے پھولے اور اغیار کا رنگ اختیار نہ کرے۔

http://urdu.khamenei.ir


متعلقہ تحریریں :

اسلامي جمہوريہ ايران ميں خواتين کي ترقي

ایران کا  اسلامي انقلاب اورحقوق نسواں!

يورپ کي موجودہ تمدن کي بنياد

خواتين، معاشرہ اور حجاب!